تازہ ترین

Post Top Ad

اتوار، 22 اگست، 2021

جبین دہر پہ یاد حسینؓ باقی ہے!

✒️ سرفراز احمدقاسمی،حیدرآباد 

برائے رابطہ: 8099695186



         ماہ محرم الحرام کا شمار ان مہینوں میں کیاجاتاہے جسے اسلام نے حرمت اورعظمت والا مہینہ قرار دیاہے،یہ اسلام کاپہلا مہینہ بھی ہے، چار مہینے ایسے ہیں جسے اسلام نے محترم اور باعظمت قرار دیاہے،ان میں ایک تو اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام،رجب المرجب،ذی قعدہ اور ذی الحجہ ہے،" یہ چاروں عظمت اورحرمت والے مہینے ہیں،زمانہ جاہلیت میں بھی ان مہینوں کو محترم سمجھاجاتاتھا اور ان میں جنگ وقتال کو حرام جانتے تھے،ظہور اسلام کے بعد ان چاروں مہینوں کی عظمت و حرمت اور فضیلت مزید بڑھ گئی،


چنانچہ ارشاد ربانی ہے کہ'ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو'پھر ان چار مہینوں میں محرم الحرام کو خصوصی فضیلت و اہمیت حاصل ہے،رسول اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا"رمضان کے بعد تمام مہینوں سے افضل محرم الحرام کے روزے ہیں"ایک دوسری جگہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ"ایام محرم میں سے ایک یوم کا روزہ دوسرے مہینوں کے ایک ماہ کے برابر ہے"(بارہ مہینوں کی بارہ تقریریں)


مولانا غلام نبی کشمیریؒ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ" بے شک مہینوں کی گنتی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں،احادیث و آثار سے عربی مہینوں کی فضیلت وعظمت کا ثبوت ملتاہے،گو بعض مہینوں کو شریعت کے کچھ احکام ومسائل اور اسلامی تاریخ کے لحاظ سے بعض پر فوقیت حاصل ہے،تاہم ہر مہینے میں کوئی نہ کوئی اہم واقعہ ضرور رونما ہواہے،جسکا اسلامی تاریخ سے ایک گہرا ربط ہے،دیگر مذاہب میں ایام و شہور کو جو اہمیت حاصل رہی ہے اور حاصل ہے،اسکا تعلق رسم و رواج سے زیادہ ہے اورمذہب سے کم،مگر شریعت اسلامیہ میں ایام و شہور کی ایک مذہبی حیثیت بھی ہے،جسکا ذکر قرآن و حدیث میں واضح طور پر ملتاہے،


اسلئے ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کس مہینے میں کونسا اسلامی واقعہ پیش آیا مثلاً رسول اکرم ﷺ کی ولادت،ہجرت،نکاح،آغازِ وحی،شب معراج،نماز کی فرضیت،شب برات،نزولِ قرآن،فرضیت صیام،غزوات،فتح مکہ،حجة الوداع،ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی پیدائش،نکاح، رخصتی،جہاد،قربانی،حج،شہادت حسینؓ،وغیرہ جیسے اہم واقعات کی تاریخی حیثیت کا جاننا ضروری ہے"


 دوسرے مہینوں کے علاوہ ایسے بہت سارے اہم واقعات ہیں جو اس ماہ میں پیش آئے،اسی ماہ میں عاشورہ کا روزہ بھی فرض ہوا،حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ"رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت سے پہلے عاشورہ کا روزہ سرکارِ دوعالم ﷺ پر فرض تھا لیکن رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کے بعد ایک قوم کی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور دوسری قوم کی توبہ قبول فرمائیگا"

       

  علماء نے لکھا ہے کہ حضرت آدمؑ نے جب بھول کر شجر ممنوعہ کا پھل کھالیاپھر اسکے نتیجے میں انھیں اپنی خطا کا احساس ہواتو کئی برس تک اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتے رہے،توبہ استغفار کرتے رہے،جس دن آپ کی توبہ قبول ہوئی وہ محرم الحرام کا ہی مہینہ تھا،اسی طرح حضرت ادریسؑ کو اسی مہینے میں آسمان پر اٹھایاگیا،حضرت نوحؑ کی کشتی اسی ماہ کی دس تاریخ کو یعنی دس محرم کو جودی پہاڑ پر ٹھری،حضرت ابراہیمؑ عاشورہ ہی کے دن پیداہوئے،اور اسی دن انھیں تاج نبوت پہنایاگیا،نمرود کے بتوں کو اسی دن حضرت ابراہیمؑ نے توڑا،اوراسکی سزا کے طور پر آپ کو جس دن آگ میں ڈالاگیا وہ بھی عاشورہ ہی کا دن تھا،پھر عاشورہ ہی کے دن اللہ تعالیٰ نے آگ کو آپؑ کیلئے گلزار بنادیا،حضرت یونسؑ کو عاشورہ ہی کے دن رب کریم نے اپنی رحمت بیکراں سے مچھلی کے پیٹ سے رہائی عطافرمائی،حضرت یعقوبؑ اپنے بیٹے حضرت یوسفؑ کے فراق میں روتے روتے بینائی کھوبیٹھے تھے،وہ عاشورہ ہی کا دن تھا جب یعقوبؑ کی بینائی لوٹ کر آئی،اسی ماہ میں حضرت  موسیٰؑ کو عزت وسربلندی نصیب ہوئی،


اور اسی دن فرعون دریائے نیل میں لشکر سمیت غرق ہوا،حضرت عیسیٰؑ کو جب یہودیوں نے سولی پر چڑھانے کا ارادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق اسی ماہ میں انھیں آسمان پر زندہ اٹھالیا، عاشورہ کے دن ہی حضرت داؤدؑ کی دعائے صحت قبول ہوئی،حضرت سلیمانؑ کی سلطنت جب ہاتھ سے نکل گئی تو آپ نے بارگاہ خداوندی میں عجزو انکساری کے ساتھ دعا فرمائی، چنانچہ عاشورہ کے دن اللہ تعالیٰ نے انکی دعا قبول فرمائی،اوردوبارہ سلطنت عطاکی گئی،حضرت ایوبؑ جب بیماری میں مبتلاء ہوئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی،چنانچہ عاشورہ کے دن ہی انھیں انکی دعا قبول ہوئی اورشفاء نصیب ہوئی،یہ تو چند انبیائے کرام  کے واقعات تھے جسکا ظہور اسی ماہ میں ہوا،ورنہ ایسے بے شمار واقعات کتابوں میں درج ہیں،

       


   کچھ اور تاریخی واقعات ہیں جو اسی ماہ میں پیش آئے،بیت اللہ پرحملہ کرنے والے سرکش بادشاہ ابرہہ کا عبرتناک انجام اسی ماہ میں ہوا،کعبة اللہ پر سب سے پہلا غلاف اسی ماہ میں چڑھایاگیا،خلیفہ ثانی حضرت فاروق اعظمؓ کی شہادت اسی ماہ میں ہوئی،حضرت علیؓ وحضرت عثمانؓ کو اسی ماہ میں خلافت کے منصب پر فائز کیاگیا،حضرت امیر معاویہؓ اسی ماہ میں امیربنے،مہاجرین حبشہ اسی ماہ میں واپس لوٹے،مسلمانوں نے بے شمار ملکوں کو اسی ماہ میں فتح کیا،غزوہ خیبر کی کامیابی و کامرانی  اسی ماہ میں حاصل ہوئی،مصر پر عباسیوں کا قبضہ اسی ماہ میں ہوا،قیصر روم کو ذلت آمیز شکست اسی ماہ میں ہوئی،مسجد نبوی کی توسیع اسی ماہ میں کی گئی،


شعب ابی طالب میں رسول اکرمﷺ کی محصوری کا آغاز اسی ماہ میں ہوا، رسول اکرمؐ نے حضرت صفیہؓ سے اسی ماہ میں نکاح فرمایا،حضرت علیؓ وحضرت فاطمہؓ  کا نکاح بھی اسی ماہ میں ہوا،حضرت عثمان غنیؓ کا نکاح حضرت ام کلثومؓ سے اسی ماہ میں ہوا،عاملین زکوۃ کاتقرر باضابطہ اسی ماہ میں عمل میں آیا،میزبان رسولؐ حضرت ابوایوب انصاریؓ کی وفات بھی اسی ماہ میں ہوئی،دمشق پر فاطمیوں کا قبضہ بھی اسی ماہ میں ہوا،دنیا کی سب سے بڑی رصدگاہ بغداد کے اندر اسی ماہ میں تعمیر ہوئی،ایک بدبخت لعین نے حجر اسود کو ہتھوڑے کے مارکر توڑنے کی کوشش اسی ماہ میں کی،نواسہ رسولؐ کی شہادت کا خونی اورشہرہ آفاق واقعہ سرزمین کربلا میں اسی ماہ میں پیش آیا،اسکے علاوہ اور بھی بہت سارے واقعات ہیں جو اسی ماہ میں پیش آئے،سیدنا حسینؓ کا واقعہ شہادت نے بلاشبہ دنیا کو ایک اہم پیغام دیا،اور یہ بتلایا کہ حق کیلئے اپنی جان مال خاندان یہاں تک کے سب کچھ قربان کیاجاسکتاہے اگرآپ چاہتے ہیں کہ حق کا بول بالا ہو،


اسلامی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے،بغیر قربانی کے انقلاب نہیں آیاکرتا اور نہ ہی حق کا بول بالا ہوسکتاہے،اسلامی تاریخ کا جن لوگوں نے مطالعہ کیاہے وہ جانتے ہیں کہ اسلام میں حضرت سیدناحسینؓ کی شہادت کا واقعہ کوئی نیا نہیں ہے،بلکہ اس قسم کے بے شمار واقعات رونما ہوئے،ہزاروں اورلاکھوں لوگوں نے اسلام کی بقاء اوراسکے تحفظ کیلئے اپنے جان ومال کی قربانیاں پیش کیں،تب کہیں جاکر اسلام سرخرو ہوا اور پوری دنیامیں پھیلا،جنھیں شہادت کا مرتبہ حاصل ہوجاتاہے وہ بلاشبہ ایک بڑا اعزاز ہے،خود رسول اکرمؐ نے اپنے لئے شہادت کی تمنا بار بار فرمائی ہے،آپﷺ نے فرمایا"میں چاہتاہوں کہ اللہ کے راستے میں ماراجاؤں،پھر زندہ کیا جاؤں،پھر ماراجاؤں پھر زندہ کیا جاؤں،پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیاجاؤں"



اس طرح کی اور بہت سی روایتیں ہیں جس سے پتہ چلتاہے کہ اسلام کی راہ میں شہید ہونا یہ بڑے اعزاز کی بات ہے،جب تک ہم بھی صحابہ کرام کی طرح قربانیاں نہیں دیں گے اسلام کبھی غالب نہیں آسکتا،اس امت میں صرف حضرت سیدناحسینؓ شہید نہیں ہوئے بلکہ اس امت میں لاکھوں شہداء موجود ہیں،ہمیں چاہئے کہ ان شہداء کے کارناموں کو اپنائیں،اورشہادت کی تمنا کریں،ایک حدیث میں ہے کہ شہید کو اللہ تعالیٰ کے ہاں چھ خصوصیات سے نوازا جاتاہے،1پہلے قطرہ خون پر انکی مغفرت کردی جاتی ہے،2جنت میں انکو اسکا ٹھکانا دکھایاجاتاہے،3عذاب قبرسے محفوظ رہتاہے،نیز قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہتاہے،4اسکے سرپر عزت و عظمت کا تاج رکھاجائیگا کہ جسکا ایک موتی دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا،5حورعین میں سے 72اسکے نکاح میں دی جائیں گی،6انکے ستر رشتہ داروں میں انکی شفاعت قبول کی جائیگی"



سیدنا حسینؓ کی شہادت ایک عظیم شہادت تھی،اور وہ اپنی شہادت پر خوش تھے،اللہ تعالیٰ خوش تھا اوراسکے رسول ﷺ بھی خوش تھے،آپؓ کے مخالفین نے آپ پر بڑاظلم کیا،انھیں کوئی حق نہیں تھاکہ وہ نواسہ رسولؐ کے مقابلے پر آئے،سیدنا حسینؓ اگر حکومت بھی طلب کرتے تو انھیں دینا چاہئے تھا،اسلام کی سفید چادر پر شہادت حسینؓ ایک بہت بڑا داغ ہے،یہود ونصاری ہمیں طعنہ دیں گے کہ تم نے اپنے رسول کے نواسے کو قتل کیاہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت حسینؓ سے اہل کوفہ نے غداری کی،اٹھارہ ہزار آدمیوں کی طرف سے ہزاروں خطوط آئے کہ آپؓ حجاز مقدس سے کوفہ آجائیں،ہم بیعت کیلئے تیار ہیں،آپ نے مسلم بن عقیل کو بھیجا کوفہ والے صبح انکے ساتھ تھے،شام کو اٹھارہ ہزار کے بجائے 18آدمی انکے ساتھ رہ گئے اورغروب 

آفتاب کے بعد وہ بھی غائب ہوگئے، پھرمسلم بن عقیل شہید کردئیے گئے،ادھر حضرت حسینؓ میدان کربلا تک پہونچے تھے کہ سامنے سے عبداللہ بن زیاد گورنر نے مقابلے کیلئے فوجیں بھیج دیں،سخت ترین معرکہ ہوا اوربدبختوں کے ہاتھوں نیک بخت نواسہ رسولؐ شہید ہوگئے،انکی شہادت نے دنیا کو یہ پیغام دیاکہ ظالم و جابر حکومتیں اوراستعماری طاقتیں اگر حق کو دبانے اور ظلم وبربریت کا مظاہرہ کریں تو آنے والی نسلوں اور اسلام کے نام لیواؤں کو حسینی کردار  اداکرنے کی ضرورت ہمیشہ رہیگی،دنیا انکے قاتلوں کو یادنہیں رکھ سکی، لیکن حسینی کردار باقی ہے اورانشاء اللہ قیامت تک باقی رہیگا، بقول شاعر


ستم شعار تو دنیا سے مٹ گئے لیکن

جبین دہر پہ یاد حسین باقی ہے

(مضمون نگار کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad