تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 12 نومبر، 2021

پولیس حراست میں اموات کے لیے اتر پردیش نمبرون: عمیق جامعی


جونپور ۔اجود قاسمی (یو این اے نیوز 12نومبر 2021) ریاست اترپردیش میں پولس حراست اور انکاؤنٹر میں مارے گئے لوگوں پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں، یہاں تک کہ بعض دفعہ عدالتوں کو بھی اس معاملے میں مداخلت کرنا پڑی ہے۔ حال ہی میں اتر پردیش کے کاس گنج میں الطاف کی موت کے بعد پولیس کی جانب سے اسے خودکشی بتائے جانے پر معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے اپوزیشن جماعتیں سماج وادی پارٹی، بی ایس پی اور کانگریس کے لیڈران ریاست کی یوگی حکومت کے قانونی انتظامات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔


کاس گنج میں پولیس حراست میں الطاف نامی نوجوان کی موت پر سماج وادی پارٹی کے قومی ترجمان عمیق جامعی نے بھی اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ عمیق جامعی نے وزیرِ اعلیٰ پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تحویل میں ہونے والی اموات کے معاملے میں اتر پردیش اول بن چکا ہے اتر پردیش میں قانونی انتظامات اور امن و امان مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔


انہوں نے کہا کہ یوگی کی پولیس مذہب و ذات کو دیکھ کر بے قصوروں کو نشانہ بنا رہی ہے اس بات کو اب عوام بھی سمجھنے لگی ہے جس کا جواب دینے کے لیے عام آدمی 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتحابات کا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس تحویل میں ہوئی اموات کے معاملے میں ریاست اتر پردیش نے ملک بھر کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اور ایسے معاملات میں مسلمانوں،دلتوں،اور پسماندہ افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی حکومت آتے ہی فرضی انکاونٹر،اور پولیس تحویل میں ہوئی اموات کی منصفانہ جانچ کر اصلی ملزمان پر کاروائی کرنے کا کام کرے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad