تازہ ترین

Post Top Ad

ہفتہ، 25 نومبر، 2017

قرآن وحدیث کے مطابق زندگی گزارنے سے ہی دلوں کو سکون اور مصائب سے چھٹکا را ملے گا۔،مولانا افضال الرحمن


 قرآن وحدیث کے مطابق زندگی گزارنے سے ہی دلوں کو سکون اور مصائب سے چھٹکا را ملے گا۔،مولانا افضال الرحمن
تصویر،گٹٹی امیچ
کانپور(یواین اےنیوز24نومبر2017)رحمۃ للعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت کو عام کرنا اور اسکو اپنانا بے حد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے جمعیۃ علماء شہر و مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور کی جانب سے زیر نگرانی مجاہد اسلام ،خطیب الہند حضرت الحاج مولانا محمد متین الحق اسامہ صاحب قاسمی صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش و صدر مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور نے ماہ ربیع الاول کو رحمت عالم مہینہ کے طور پر سالہائے گزشتہ کی طرح امسال بھی منایا جارہا ہے جس کے تحت مسجد کچی سرائے موتی محال اورمسجد حلیمہ پوکھر پور جاجمؤ میں جلسہ رحمت عالم کا انعقاد ہوا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا افضال الرحمن صاحب شیخ الحدیث مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی نے کہا کہ اللہ رب العالمین ہیں اور حضور رحمۃ اللعالمین ہیں اس سے ایک یہ بات نکل کر آتی ہے کہ اللہ اور رسول کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتاجس طرح قرآن کو ماننا ضروری ہے اسی طرح حدیث کو بھی ماننا ضروری ہے دونوں کو مانے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ۔ قرآن وحدیث کے مطابق زندگی گزارنے سے ہی دلوں کو سکون اور مصائب سے چھٹکا را ملے گا۔ مولانا نے صحابہ کرامؓ وبزرگان دین کے واقعات کے ذریعہ لوگوں کو جھنجھوڑا کہ اس سے سبق حاصل کرکے دین کے کام میں مصروف ہو جاؤ گھر کے بڑوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کی پرورش دینی ماحول میں کرو اور گھر کا ماحول دینی بناؤ ۔ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے نوجوان سنتوں سے دور ہوتے جارہے ہیں نماز وغیرہ کی پابندی کا خیال نہیں رکھتے شریعت کے مطابق چلنے کا جذبہ مفقود ہوتا جارہا ہے نوجوان اگر سنت کو عملی زندگی میں لانے کا بیڑا اٹھا لیں تو صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے ۔ پوری دنیا میں امن وامان قائم ہوسکتا ہے۔ خوشحالی اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی ، اخوت بھائی چارہ پر مشتمل معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے۔ مولانا مفتی محمد عثمان قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آج کل نفرت کا ماحول ہے اس ماحول میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات رحمت کو عام کرنا ہے ۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانی دشمنوں کو جو ہمیشہ درپہ آزار رہتے تھے آپؐ کو اور آپ کے ساتھی صحابہ کرامؓ کو ایذا پہچانے میں پیش پیش رہتے تھے جس سے مجبورہوکرمسلمانوں کو مکہ چھوڑ کر مدینہ آنا پڑا اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ایسے دشمنوں کو فتح مکہ کے وقت عام معاف کردیا یہ آپ ؐ کی رحمت ہی تھی ورنہ چاہتے تو بدلہ لے سکتے تھے ۔ مولانا انصار احمد جامعی نے کہا کہ ہم جو کلمہ پڑھتے ہیں اس میں اتنا وزن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے فرمایا کہ اے موسی اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں تو کلمہ والا پلڑا بھاری رہے گا۔ کلمہ کی شان اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اپنا ئیں اس سے آخرت ودنیا دونوں سنور ے گی۔مولانا انصار احمد نے صحابہ کرامؓ کے عشق رسولؐ وحب نبیؐ کو واقعات کی روشنی میں بیان کیا اور لوگوں کو سنت پر عمل کرنے کی طرف راغب کیا۔ جلسہ کا آغاز قاری حبیب اللہ صاحب عرفانی کی تلاوت سے ہوا مدرسہ مفتاح القرآن کے طلبا نے محسن انسانیت جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ جلسے کے نگراں قاری مجیب اللہ عرفانی اور کنوینر معراج احمد وتبریز احمد تھے ۔ جلسہ کی نظامت مولانا محمد شکیل نے کی ۔اس موقع پر مولانا عبید اللہ ، مولانا عنایت اللہ ، قاری محمد آصف ، حافظ نصیر احمد، حافظ ولی اللہ ، محمد سراج ، محمد شکیل ، ڈاکٹر وسیم ، محمد مستقیم بابا، حاجی محمد ریاض ، محمد شمیم سمیت کثیر تعداد میں علماء وحفاظ کرام اور اہل محلہ شریک ہوئے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad