تازہ ترین

جمعہ، 10 نومبر، 2017

انسانی زندگی پر خدمت خلق کے ثمرات


انسانی زندگی پر خدمت خلق کے ثمرات
عبیدالرحمن الحسینی،رکن حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ آنند نگر مہراج گنج یوپی
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
خدمت خلق کا مفہوم:
خد مت خلق کے لغوی معنی مخلوق کی خدمت کرناہے اور اصطلا ح اسلام میںخدمت خلق کا مفہوم یہ ہے :رضا ئے حق حاصل کر نے کے لیے تمام مخلوق خصوصاً انسانوں کے سا تھ جائز امور میں مدد دینا ہے۔لوگوں کی خدمت سے انسان نہ صرف لوگوں کے دلوں میں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی بڑی عزت واحترام پاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کا حقدار بن جاتا ہے اور مخلوقِ خدا کی خدمت کرنے والا شیخ سعدی علیہ الرحمة کے اس مصرع کے مصداق بن جاتا ہے:یعنی  جو شخص دوسروں کی خدمت کرتا ہے (ایک وقت ایسا آتا ہے کہ)لوگ اس کی خدمت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔اسلام میں ایک بہترین انسان کے لئے جن صفات کا ہونا ضروری ہے، ان میں سے ایک صفت خدمت خلق کی ہے اور ایسی صفت رکھنے والے کو اچھا انسان قرار دیا گیا ہے۔ خدمت خلق میں جس طرف اشارہ کیا گیا ہے، اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔خدمت خلق اور قرآنی حکم:خدمت خلق میں صرف مالی امدادواعانت ہی شامل نہیں بلکہ کسی کی رہنمائی کرنا،کسی کی کفالت کرنا، کسی کو تعلیم دینا، کوئی ہنر سکھانا،اچھا اور مفید مشورہ دینا،کسی کی علمی سرپرستی کرنا،مسجد اور مدرسہ قائم کرنا،نیکیوں کا حکم دینا اور برائیوں سے روکنا ، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا وغیرہ یہ تمام امور خدمت خلق میں آتے ہیں ۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا :
﴾ وَتَعَاوَنُوا عَلَی البِرِّ وَالتَّقویٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الاِثمِ وَالعُدوَانَ۔ ﴿(سورةالمائدہ:آیت۲)ترجمہ:اے ایمان والو! نیکی اور پر ہیزگاری(کے کاموں) میں ایک دوسرے سے تعاون ومدد کرو اور گناہ اور برائی (کے کاموں) میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو۔اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ خیروبھلائی اور اچھے کاموں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون وامداد کریں اور گناہوں اور برائی کے کاموں میں کسی کی مدد نہ کریں بلکہ گنا ہ اور برائی سے روکیں کہ یہ بھی خدمت خلق کا حصہ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad