تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 30 مارچ، 2020

کچھ یادیں کچھ باتیں ایک پیغام میرے رفقاء کے نام

 از قلم : عبدالواحد حلیمی جون پوری
مدتوں سے چلتا طویل سفر آج اختتام کو پہنچ گیا ، اور رفتہ رفتہ چلتی ھوئ کشتی بالآخر ساحل پر جلوہ گر ہوگئی ، وہ آمدنامہ سے چلنے والا درس آج بحمد اللہ بخاری شریف کی تکمیل تک اختتام پذیر ہوا ، اب ھم تمام رفقاء کے مابین فراق و جدائی کا وقت آگیا ، وقت کی رفتار نے ہم پر ستم ڈھایا کہ آج فراق کی گھڑی کو لا کھڑا کردیا  ، وہ فارسی کے میرے مدتوں کے ساتھی اب ہم سے طویل رھائش کے باوجود ایک اجنبی کی طرح ھو جا ئنگے ، وہ میرے آٹھ سالہ رفیق درس آج ہم کو داغ مفارقت  دیئے جا رہیں ھیں ، وہ ہماری درسگاہیں آج ہم  کو سلامی پیش کر رہی ہیں ، وہ ہماری کتابیں آج ہم سے چیخ چیخ کر کھولنے اور پڑھنے کو کہہ رہی ہیں ، وہ شجر و حجر آج ہم کو  نا آشنا معلوم ہو رہے ہیں ، وہ میرے مشفق و مربی اساتذہ کرام آج ہم سے جدا ہو رہے ہیں ، وہ پر لطف و دلچسپ  شیخ اول  کا درس ہم سے چھوٹ رہا ہے ،  وہ میرے رہنما میرے پیشوا ہم سب کے خیرخواہ امت کا غم دل میں لینے والے اور ان کے حق میں دعائیں کرنے والے نہایت ہی عمدہ اخلاق کے مالک  محترم جناب اقدس مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب کی سرپرستی  آج ہم سے  مفقود ہو رہی ہے۔

 غرض یہ کہ ہر چیز ایک اجنبی معلوم ہوتی ہے،  چرند و پرند ،  شجر و حجر مدرسہ کی در و دیوار سب بیگانہ معلوم ہورہی ہیں ، آج وہ میرے ساتھی مجھ سے جدا ہو رہے ہیں جن کے ساتھ رہ کر ہم کچھ اپنا وقت گزارا کرتے تھے ، جن کے ساتھ ہم مذاق وہ اٹھکھیلیاں کرتے تھے ، جن کے ساتھ ہم کچھ باتیں کیا کرتے تھے ،  جن کے ساتھ رہ کر ہم تکرار و تقریر آپس میں کیا کرتے تھے ، اور جن کے ساتھ قیام وطعام بھی ہم اکثر کرلیا کرتے تھے ،  غرض جن کے ساتھ ہم بود و باش اپنائے ہوئے تھے۔

 برکتے ہیں وہی کاٹے جو چبھ کر ٹوٹ جاتے ہیں 
 تڑپتے ہیں وہی دو دل جو مل کر چھوٹ جاتے ہیں

آہ اب ہم کس کے ساتھ باتیں کر کے اپنے دل کو سکون دینگے ،  کس کے ساتھ مذاق و اٹھکھیلیاں کرینگے ، کس کے ساتھ قیام و طعام کرکے ہم لطف اٹھائیں گے ،  آخر وہ  اسامہ  کے چہرے کی مسکراہٹ ہم کو کہاں ملےگی ،  انوار الحق  کی پر لطف  و ضحک پر مبنی باتیں ہم کو کہاں نصیب ہونگی ،  وارث و عبداللہ رحمانی  کے پر مغز و دلچسپ اشعار و عشقیہ مصرے اب کہاں سے حاصل کیے جائیں گے ،  قطب الدین و سعد   کی وہ سریلی  اور خوش کن آواز اب کہاں سے تلاش کی جائینگی ، عرباض و ابراہیم  کی وہ مسحورکن و سرورکن عبارت خوانی کہاں سے میسر ہوگی ،  اسلم و شاہد  کے وہ نایاب اور خوش کن و پرمسرت جملے ہم کو کہاں سننے کو ملیں گے ،  سیف و کاشف  کی وہ سیادت و قیادت اور سخاوت ہم کو کہاں سے ملے گی ،  عیاض و عبداللہ کی آپسی محبت  ہم کو کہاں دیکھنے کو ملے گی ، آصف و سمیع اللہ جیسا با حیا و با صفا انسان ہم کو کہاں سے ملے گا ،  عبدالماجد و شمشاد،  کے اخلاق کریمانہ و صفات حسنہ اب ہم کو کہاں دیکھنے کو ملیں گے ،  محفوظ و طہ کی تواضع اور خاکساری و انکساری اب کہاں دیکھنے کو نصیب ہوگی، ریحان کی ولولہ انگیز تقریر سننے کا اب موقع کہاں ملے گا ،  وہ عمر و عبدالرحمن جن کی وجہ سے انجمنوں و محفلوں کا رنگ دو بالا ہو جایا کرتا تھا اب وہ ہم کو کہاں نصیب ہوں گے ، وہ ?عثمان و بو ہریرہ کی کم گفتاری و نرمی مجازی ہم کو کہاں دیکھنے کو ملے گی ،  افسر و بلال کی خوش کن بیانی و خوش لسانی ہم کہاں سے ڈھونڈیں نگے ، 

آہ صد آہ :  آج رنج و غم ، مصائب و آلام کے ہم پر پہاڑ ٹوٹ گئے ہیں ، ہر ایک دوسرے کی جدائی کے غم میں مدہوش و بے قرار ہوتا چلا جا رہا ہے ، دل کو سکون اور آنکھوں کو قرار نہیں مل رہا ہے ، ذھن و دماغ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہے ،  لیکن کیا کیا جائے اسی شعر سے اپنے دل و دماغ کو تسکین دیتا رہتا ہوں - کہ

 دکھ درد ، رنج و غم کا نہ کوئی ملال کر 
ہوتا ہے سب خدا کی طرف سے خیال کر

 بہرحال میرا دل یہ نہیں کرتا تھا کہ میں ان چند الفاظ میں اپنے دکھ درد کا اظہار کروں ،  لیکن میرے خاص رفیق درس مولوی محمد وارث سلمہ   کے اسی کے متعلق بار بار اصرار کرنے پر مجبور ہو کر قلم اٹھا لیا کی کچھ دھکڑے کو حوالہ ورق کر ہی دوں ،  امید ہے کہ کچھ اسی سے دل کو سکون مل جائے 

جیسا کہ آپ سب حضرات کو معلوم ہی تھا کہ سالانہ امتحان کیلئے نظام الاوقات و ٹائم ٹیبل کا اعلان لگ گیا تھا ، کہ 29 رجب المرجب بمطابق 25 مارچ کو پہلا پرچہ ہونا طے پایا ہے ، جس کے بعد تمام طلباء ہمہ تن اپنی اپنی کتابوں میں مشغول ہوگئے ، اور امتحان کی تیاری شروع کر دیے اور تمام طلباء اس بات کی خواہش اور اس کی طرف سعی کرنے لگے کہ امتحان میں اچھے نمبرات سے کامیابی حاصل کرنا ہے ، لیکن حالات و آفات کچھ اس طرح کے ہوگئے یے جس میں امتحان کرانا ناظم مدرسہ کے لیے ایک درد سر بن گیا ، اور بار بار حکومت کی طرف سے  مدرسہ کو بند کرنے کی ہدایات و نوٹس آنے لگی تو بالآخر مجبور  ہوکر  ناظم مدرسہ نے مدرسہ کو بند کردیا ، جس کے باعث 24 رجب المرجب بمطابق 20 مارچ بروز جمعہ بعد نماز فجر ناظم مدرسہ نے کچھ  اساتذہ کے ساتھ مختصر سے میٹنگ  کرکے کے یہ اعلان کردیا کی اب مدرسہ میں چھٹی ہوگئی ہے سارے طلباء جلد اپنے گھروں کی طرف رخ  کر لیں - 

 اس اعلان کے سننے کے بعد کچھ لوگوں کو تو خوشی ہوئی اور کچھ لوگوں کو غمی ہمارے تمام ساتھیوں میں خوشی و غمی دونوں کے آثار تھے ،  خوشی تو اسلئے تھی کہ۔ اللہم بلغلنا رمضان بغیر امتحان  یہ دعا قبول ہوگئ ، جسکی وجہ سے دل و دماغ  کو ایک طرح سے بہت ہی راحت ملی ، کیونکہ امسال امتحان کا پرچہ  بغیر ایک دو دن کا فاصلہ کئے ہوئے مسلسل تھا ، اور غمی اس بات کی تھی کہ ابھی تو ساتھیوں کے ساتھ کم از کم دو ہفتہ رہنے کا موقع تھا ، لیکن وہ اب ایک دو دن کا بھی فاصلہ باقی نہیں رہا ، اور ساتھیوں سے مفارقت و جدائی کے لمحات بالکل سر پر منڈلا رہے تھے ، اور ابھی اساتذہ وغیرہ سے ملاقاتیں اور معافی و تلافی کی بھی باتیں باقی تھی ، اور خود آپس میں بھی معافی و تلافی کی باتیں بھی باقی تھیں  سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے ، بالآخر مشورے میں یہ طے ہوا  کی پہلے اساتذہ سے ملاقات کرلی جائے بعد میں آپس میں معافی و تلافی ہو جائے گی ۔ بہرحال ملاقات کے لیے سارے ساتھی  شیخ الحدیث حضرت مفتی عبداللہ صاحب ( مدظلہ العالی ) کے پاس تشریف لے گئے ،  کچھ دیر گفتگو ہونے کے بعد مفتی صاحب نے ایک بہت ہی مؤثر اور دل کو دہلا دینے والی نصیحت فرمائی ،  جو میرے دل پر پتھر پر لکیر کی طرح نقش ہے مفتی صاحب نے فرمایا کی چھٹی ایک بیک و اچانک ہوگئی ہے ، خیر مدرسے والوں کا تو یہی ارادہ تھا کہ حسب معمول امتحان کراکے ہی  بچوں کو چھٹی دی جائے گی ، لیکن آفات و حالات کی وجہ سے چھٹی کا اعلان اچانک کر دیا گیا ھے ، اور یہ پہلی بار کا واقعہ ہے کہ بغیر امتحان لئے ہوئے بچوں کو چھٹی دی جا رہی ہےاس کے بعد مفتی صاحب نے کہا کہ جو طلباء گھر جانے کے لئے تیاری کیے ہوں گے ، وہ اپنا سامان اٹھائیں گے اور گھر چلے جائیں گے ، لیکن جو طلباء گھر جانے کے لئے تیاری نہیں کیے ہوں گے ، ان کو ابھی مدرسہ میں رکھنا پڑے گا ، جب تیاری کرلیں گے تو پھر وہ گھر جائیں گے - اسی پر قیاس کرتے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا کی دیکھو موت و آخرت کا معاملہ اسی طرح ہے کہ جو شخص اس دنیا میں رہتے ہوئے ہمیشہ اس بات کی فکر میں لگا رہے گا کہ موت کا کوئی بھروسہ نہیں کب آ جائے ، اور وہ اس کے لئے تیاری کیا ہوگا  تو وہ آخرت میں مزے ، سکون و اطمینان کے ساتھ رہے گا ،  لیکن جو شخص موت و آخرت کی تیاری نہیں کیا ہوگا بلکہ اس فکر میں لگا رہے گا کہ بعد میں تیاری کرلیں گے ،  تو وہ اسی طرح پیچھے رہ جائے گا ،  مفتی صاحب نے یہ نصیحت فرمائی ، اس کے بعد ہم تمام ساتھیوں نے دوسرے اساتذہ سے ملاقاتیں کیں اور انہوں نے بھی  بیش قیمت نصیحت ہم کو فرمائیں ،  اور ہم لوگوں کے لئے دین و دنیا میں ترقی و عزت کی دعائیں دیں۔

اس کے بعد مشورہ یہ طے پایا کی اب  آپس میں معافی و تلافی کا سلسلہ شروع کیا جائے  بہرحال اس کے بعد ہم تمام ساتھی آپس میں معافی و تلافی کے لئے خیر البقاع ( مسجد مدرسہ ) میں اکٹھا ہو گئے ، چنانچہ کچھ دیر پانی وغیرہ ہونے کے بعد معافی و تلافی کا سلسلہ شروع ہوا ، بات طے یہ ہوئی کی ایک ایک ساتھی اٹھ کر تمام ساتھیوں سے ملاقات کرے ،  اور مصافحہ کرے اور معافی و تلافی کرے ، چنانچہ ایک ایک ساتھی اٹھ کر تمام لوگوں سے ہاتھ ملانا شروع  کر دیا اللہ اکبر  وہ کیا منظر تھا تھا سارے ساتھیوں کے اوپر ایک دم سے غموں کا پہاڑ ٹوٹا ہوا تھا ،  سر سب کے جھک گئے تھے تھے ،  آنکھیں آنسوؤں میں ڈب ڈبا اٹھی تھی ،  کلیجے باہر کو آنے لگے تھے ،   ملاقات کے وقت ایک دوسرے کا ہاتھ چھوڑنے کا جی نہیں کہتا تھا ، آہ و بکا کا ایک ماحول بن گیا تھا ، مجلس میں ایک دم سے رونے کی آوازیں آنے لگی تھیں ، کوئی نہیں چاہتا تھا کہ ایک دوسرے سے جدائی کی بات کی جائے ، غرض یہ کی ہر شخص پر رنج و غم طاری تھا ، میں کھاں تک الفاظ کو لاؤں اور کیا کیا بیان کروں  بس اسی شعر سے آپ اندازہ لگا لیجئے  کہ۔

 زمین کاغذ کی بن جائے سمندر روشنائی کا
 قلم کچھ لکھ نہیں سکتا کی صدمہ ہے جدائی کا 

بہرحال معافی و تلافی کا یہ سلسلہ کافی دیر تک چلا اس کے بعد بسکٹ نمکین کھا کر پانی پیا گیا اور کچھ دیر تک باتیں کی گئی ، اس کے بعد سارے ساتھی اپنی اپنے گھر جانے کی تیاری میں لگ گئے ، آخر میں میں اپنے تمام ساتھیوں سے ایک بہت ہی مؤدبانہ و عاجزانہ درخواست کرنا چاہتا ہوں ہوں کہ

 صدیوں کے تعلق کو لمحے میں نہ بھلا دینا
ایسا  نہ  ستم  کرنا  ایسی  نہ سزا  دینا 

ہوئی جو تلخ خطائیں اسے معاف کرنا 
دعاؤں  میں  ہم  کو  صدا   یاد  رکھنا 

اور میں بھی اپنے تمام رفقاء کو اپنی طرف سے اصالۃ اور اپنے ہر ہر  ساتھی کی طرف سے دوسرے ساتھیوں کو نیابۃ یہ دعا دینا چاہ رہا ہوں   کہ

 خدا کبھی نہ کرے غم سے ہمکنار تجھے
 دعا یہ  دیتا ہے  دل میرا بار بار تجھے

 اب تو ہر وقت یہی بات ستاتی ہے مجھے 
کہ ہر ملاقات کا انجام جدائی کیوں ہے 

اور احقر اپنی اس تحریر کے متعلق یہ کہنا چاہ رہا ہے۔   کہ

 این سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد  خدائے   بخشندہ

 نیز یہ بھی کہہ دینا چاہ رہا ہے   کہ

 کرۓ گا  درگزر  ہوئی لکھنے میں جو خطا
 خدا  حافظ   آپ کا  خدا  حافظ میرا 

 اور

 یہ ضروری نہیں کہ ہر کلی پھول ہو معاف کرنا جو ہم سے ہوئی بھول ہو اور سب سے آخر میں احقر اپنے تمام رفقاء سے  بہت ہی تاکید کے ساتھ یہ کہہ رہا ہے کی 

 رشتوں  کو یوں  ہی   بنائے   رکھنا
 دل میں یاروں کے چراغ جلائے رکہنا

 بہت لمبا ہے سفر زندگی کا اے میرے دوست 
 اپنی زندگی کا ایک حصہ مجھے بھی بنائے رکھنا

اللہ ہم تمام رفقاء کو دین کی کوئ نمایاں خدمت انجام دینے کے ساتھ اس دنیا میں قائم و دائم رکھے  اور آخرت میں بھی سرخروئ و کامیابی سے ہمکنار کرے آمین یا رب العالمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad