تازہ ترین

جمعہ، 3 مئی، 2024

شریمد بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ

شریمد بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ
رمضان سے پہلے لکھنؤ جانا ہوا تو ان دنوں وہاں لگے ہوئے  کتاب میلہ کے متعلق معلوم ہوا ، کافی کتابیں دیکھنے کے بعد یہ کتاب سمجھ آئی تو خرید لی  ، اس میں حسن الدین احمد نے ہندوؤں کی مذہبی کتاب شریمد بھگوت گیتا کا ترجمہ کیا ہے ۔۔۔


 گیتا ہندوستان میں سب سے زیادہ مشہور مذہبی نظم اور اہل ہند کے نام کرشن کا پیام ہے جس کو ویدیاس نے لکھا ہے ، اس کتاب کا امتیاز ہے کہ ہندوؤں کے تمام فرقوں میں اس کتاب کو مقدس مانا جاتا ہے ، وید اور بھگوت گیتا میں فرق ہے کہ وید کے خداؤں کی عظمت و بزرگی کو بھگوت گیتا تسلیم نہیں کرتی  ۔ بھگوت گیتا میں نظم کی تمہید دیکھ کر لوگوں کو توہم ہوتا ہے کہ یہ محض ارجن اور کرشن گفتگو کررہے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ ایک علم کشف رکھنے والا سجنے کی زبانی ہے جو جنگ کے واقعات کو اپنی ہتھیلی پر رکھ کر دھرت راشٹر کو سنا رہا ہے ۔  

دھرت راشٹر کون ہے اور یہ سجنے اس کو کیوں سنا رہا ہے ؟ 


خاندان کورو کے بادشاہ شانتنو کی دو بیوی تھیں ایک سے اسکا بیٹا بھیشم اور دوسری بیوی سے چترانگد اور وچترویریہ تھے اول الذکر تو ہمیشہ رنڈوا رہا بقیہ چترانگد شادی سے پہلے چل بسا چترویریہ کے دو بیٹے ہوئے دھرت راشٹر اور پانڈو ، البتہ حکومت کی کمان دھرت راشٹر نے ہی سنبھالی  انتظامات کا ذمہ پانڈو کے سر ہوا ، پانڈو پہلے مرگیا اور اپنے پانچ بیٹے چھوڑ گیا (1) یودھشٹر (2) ارجن (3) بھیم ، یہ تینوں پانڈو کی پہلی بیوی کنتی سے تھے بقیہ دو نگل اور سہدیو جڑواں دوسری بیوی مادری سے تھے ۔ 


شہزادوں کے سن بلوغ کو پہنچنے  تک بھیشم نے حکومت کا ذمہ لیا لیکن جب سن بلوغ کو پہنچے ، تو وہی عام جھگڑا ہوا کہ دھرت راشٹر کے بیٹے دریودھن کو حکومت ملے یا اسکے بھائی پانڈو کے بیٹے یودھشٹر کو ؟ یودھشٹر سے حکومت چھین لی اور بارہ سال پانڈو کے تمام بیٹوں کو جلاوطن رہنے کی شرط رکھی لیکن بعد میں بھی انکو انکی حکومت کا حصہ نا ملا اور بات جنگ تک آپہنچی  ، جب میدان کار زار سجا تھا تو پانڈو کے بیٹے ارجن نے اپنے ماموں زاد بھائی اور دوست کرشن سے درخواست کی کہ انکا رتھ دونوں فوجوں کے درمیان لے جائیں تاکہ وہ معائنہ کرسکے جب وہ وہاں پہنچا ہے تو رشتہ داروں کے دیکھ کر اسکے جذبات بدل گئے اور اس نے کرشن سے گفتگو شروع کی اور پھر دھیرے دھیرے بھگوان سے بھی گفتگو شروع کی اور اس سے طرح طرح کی گفتگو کی جس کو گیتا میں موجود 18 باب اور 701 شلوکوں میں بیان کیا گیا ہے ۔، 


یہ اسی گفتگو کا  مرقع ہے  جس کو سجنے اپنی ہتھیلی پر لکھ کر اور جنگ کے واقعات دھرت راشٹر جوکہ اندھا تھا اسکو سنا رہا ہے ۔۔۔


گیتا کے مترجم نے اسی کو قدرے مفصل لکھا ہے اور پھر گیتا کے تمام 18 ابواب اور 701 شلوک کا نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ اردو ترجمہ کیا ہے ، جس میں کل اٹھارہ باب ہیں ، ارجن کی اداسی ، علم کا فلسفہ ، عمل کا فلسفہ ، عرفان عمل  اور ترک دنیا کا فلسفہ ، اعمال کے نتیجہ سے دست بردار ہونے کا فلسفہ ، خود پر قابو پانے کا فلسفہ وغیرہ وغیرہ ان سب میں ارجن بھگوان سے مخاطب ہے اور گفتگو کررہا ہے بھگوان اسکو تعلیم دے رہے ہیں کہ یوگیہ کیا ہے اور یوگیہ کا کیا فائدہ ہے ، تارک الدین اور اپنے فرض کو جزا کی خواہش کے بغیر انجام دینا ہی یوگیہ ہے اور اسکو کرنا والا یوگی ۔ 


روح اگر نیک اعمال کرے تو وہ بھگوان سے جا ملتی ہے ورنہ وہ جسم بدل لیتی ہے جیسے جسم پرانا کپڑا بدل لیتا ہے ۔۔ 


اس میں اسی طرح کی گفتگو ہے اور بہت ہی کام کی گفتگو ہے ، جو آئندہ ہمارے کام انے والی ہے اسلئے کہ اس میں موجود باتوں پر خود ہندو ہی عمل نہیں کرتے ، اسکا فایدہ یہ ہے کہ اگر آپ کا مطالعہ ہے تو وقت آنے پر اپ ان  سے اسکا جواب بھی طلب کرسکتے ہیں ۔

نوٹ : اس کتاب کے ملنے کی شکل کا کوئی علم نہیں ہے ، آپ خود کوشش کرلیں ۔

سمرہ عبدالرب

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad