تازہ ترین

جمعرات، 14 ستمبر، 2023

حفید انور، ابن الازہر مولانا سید نسیم اختر شاہ قیصر رحمہ اللہ

حفید انور، ابن الازہر مولانا سید نسیم اختر شاہ قیصر رحمہ اللہ 
از۔ خبیب انور شاہ قیصر 


جو بھی اس دنیا میں آیا ہے اسے ایک دن یہاں سے رختِ سفر باندھنا ہے. یہ دارِ فرار ہے یہاں کسی انسان کو قرار نہیں. لوگ آتے ہیں، اپنا اپنا وقت گزارتے ہیں اور پھر ایک نئی دنیا کی طرف انتقال کر جاتے ہیں. وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ جانے والوں کی یاد بھی چلی جاتی ہے. دنیا کے تام جھام میں ہر چیز دندھلاتی اور پھر مٹ جاتی ہے. ہاں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے علم و عمل، کردار و اخلاق، شرافت و صلاحیت، شفقت و محبت اور علمی و عملی کمالات کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتے اور اپنی موجودگی کا احساس کراتے ہیں.

 ایسی ہی ایک شخصیت 11 ستمبر 2022ء کو اس عالمِ فنا سے رخصت ہوئی. یہ شخصیت والد گرامی مولانا سید نسیم اختر شاہ قیصر رحمہ اللہ کی تھی جو دارالعلوم وقف دیوبند کے ممتاز استاذ، باکمال مفسر، مایا ناز ادیب، بے مثال خطیب، بلند پایہ انشا پرداز، لازوال خاکہ نگار، نبیرۂ انور اور نورِ چشمِ ازہر تھے. ان کی رحلت ایک عہد کا مکمل ہونا اور حسنِ کردار و حسنِ اخلاق کے ایک باب کا تمام ہونا ہے. 


وہ امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے فرزند رئیس القلم سید ازہر شاہ قیصر رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے تھے، جو اپنے وقت کے صفِ اول قلم کاروں میں شمار ہوتے تھے. سید محمد ازہر شاہ قیصر رحمۃ اللہ علیہ قلمی دنیا کا ایک معتبر و بڑا نام تھا، ماہنامہ دارالعلوم نے ان کی زیر ادارت عہدِ شباب طے کیا اور پھر معیار کی سدرۃ المنتہی تک جا پہنچا. امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے درس حدیث کی تاثیر و خوشبو احاطۂ دارالعلوم میں باقی تھی، نیک لوگ موجود تھے، صالح انسانوں کا وجود تھا. دنیا سے بے رغبت لوگوں کی اپنی ایک دنیا آباد تھی. یہ وہ لوگ تھے جن کے دل اسلام کے لیے دھڑکتے تھے اور جو آسائشوں و راحتوں کے معروف معیارات کو عیب سمجھتے تھے. 

توکل علی اللہ کو زندگی کا عنوان جانتے تھے، جن کو دولت و شہرت، رتبہ و مقام سے نفور تھا، ریاکاری و دکھاوے کا ان کی ذات سے دور کا بھی کوئی تعلق نہ تھا. والد صاحب رحمہ اللہ کا بچپن ایسے ماحول میں گذرا اور انہوں نے وہ بھلا وقت دیکھا جو اہلِ فن کی عزت و احترام اور اہلِ کمال کی قدر و قیمت کا زمانہ تھا. انہوں نے اکابر کی یادوں، باتوں، طریقۂ زندگی اور کردار کی خوشبو کو اپنی ذات میں شامل کرلیا، بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور اکابر کی زندگیوں سے روشنی حاصل کرتے ہوئے وہ بھی اُس جماعت کا ایک فرد بن گئے جس کا علم، حسنِ اخلاق، حسنِ کردار، تقوی، سادگی دینی درسگاہوں کا تعارف رہی ہے اور بطور خاص سر زمین دیوبند و اکابر دیوبند کی پہچان و طرۂ امتیاز رہی ہے. 


فارسی تعلیم اور عربی درجات کی تکمیل دارالعلوم دیوبند سے کی. عصری علوم اسلامیہ انٹر کالج دیوبند، جامعہ اردو علی گڑھ و آگرہ یونیورسٹی سے حاصل کیے. 

باری تعالیٰ کے فضل و کرم نے ان کو کم سنی میں ہی علم و ادب کی وادی میں تیز گامی کی توفیق عطا کی. ابتدائی درجات سے ہی انہوں نے قلم و قرطاس اور تقریر و خطابت سے مضبوط رشتہ استوار کیا. اُس دور میں علم و تحقیق میں کامل ہونا، زبان و بیان پر عبور حاصل ہونا، سند و اعتبار کے لیے لازمی و شرط تھا. ناقص العلم و بے صلاحیت شخص کے لئے دینی و ادبی محفلوں اور معتبر رسالوں و مجلوں میں کوئی جگہ نہ تھی. 

والد صاحب رحمہ اللہ پر خدا تعالیٰ کی خاص عنایات رہیں، جب وہ رسمی طالب علمی کا زمانہ پورا کرکے میدانِ عمل میں آئے تو انہوں نے موقر و معتبر نشستوں میں اپنے وجود کا احساس کرایا. رسائل و جرائد میں اپنے قلم کی دھاک جمائی اور انشاء پردازی وشخصیت نگاری میں نئی سر حدوں کو چھوا اور نیک نامی و مقبولیت حاصل کی. ان کی تخلیقات و تصنیفات کی عمدگی، اسلوب کی شادابی وتازگی، زبان و تعبیر کی پختگی، پیرایۂ بیان کے حسن و جدت، انشا کی دلکشی اور فکر کی پختگی و بلندی نے انہیں اعتبار و سند کی رفعتیں عطا کیں.


تقریباً 33 تینتیس برس دارالعلوم وقف دیوبند میں مختلف فنون کی کتابیں ان کے زیر درس رہیں. طویل عرصے سے تا وفات تفسیر کا درس ان سے متعلق رہا. حجۃ الاسلام اکیڈمی کے شعبۂ صحافت و مضمون نگاری کے نگراں، استاذ اور ذمہ دار رہے. ماہنامہ طیب دیوبند، اشاعت حق دیوبند کے مدیر اور نداۓ دارالعلوم وقف دیوبند، دیوبند ٹائمس کے شریک مدیر رہے. ان کی تحریریں 47 سینتالیس برس کے طویل عرصے تک ہندو پاک کے جرائد میں آب و تاب سے شائع ہوتی رہیں. 


طلبہ کی قلمی و لسانی تربیت کے لیے مرکز نوائے قلم کی بنیاد رکھی. مرکز نواۓ قلم میں مضمون نویسی و خوش بیانی کے وہ اصول و ضوابط اور رموز سکھائے جاتے جو ضخیم سے ضخیم کتابوں میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتے بلکہ ایک ماہر قلم کار کو عمر بھر کی محنت اور طویل تجربات کے بعد حاصل ہوتے ہیں. والد صاحب یہ بیش قیمت خزانہ بے جھجھک لٹاتے اور طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارتے و نکھارتے. 

اور وہ صرف اس پر اکتفا نہ کرتے بلکہ حوصلہ افزائی کی غرض سے مجلسوں، اخبار و جرائد میں انہیں اپنی صلاحیت کے اظہار کے مواقع فراہم کرتے اور اس سلسلے میں اپنے تعلقات مراسم کا بے تکلف استعمال کرتے. یہ وہ انفرادیت و خصوصیت ہے جو کسی تعلیمی ادارے اور تربیتی مرکز میں ملنا قریب قریب ناممکن ہے. 

مولانا نسیم اختر شاہ قیصر رحمۃ اللہ علیہ کی دو درجن سے زائد کتابیں ہیں، جن میں سے کچھ شخصیات پر لکھی گئی اور کچھ دینی موضوعات پر مشتمل ہیں. بعض ان کی تقریروں کا شاہکار ہیں. وہ خطابت میں بھی اپنے زمانے میں ممتاز تھے. جب وہ خطاب کے لیے کھڑے ہوتے الفاظ ان کے ارد گرد چکر لگاتے اور ان کی زبان سے ادا ہونے کی تمنا و ارمان رکھتے. ان کے لہجے میں روانی وتسلسل تھا، نہ وہ تھکتے نہ دوسروں کو اکتاہٹ کا شکار بناتے، ان کے ذہن میں تعبیرات و واقعات اور معلومات کا غیر متناہی ذخیرہ ہر وقت موجود رہتا، ذہانت و فطانت ہر جملے میں چمکتی اور سننے والوں کو تحسین و تعجب، حیرت و فرحت کے جذبات میں غرق کر دیتی.


ان کی ذات حسن کردار و حسن اخلاق کا مجموعہ تھی، بڑا ہو یا چھوٹا ہر ایک سے محبت و خلوص سے پیش آتے تھے، رواداری و پاس داری ان کا مزاج، تحمل و بردباری ان کا شیوہ تھا، سخاوت و تعلقات نبھانے کو فرض جانتے تھے. انہوں نے علم و عمل ، اخلاق و اخلاص میں اپنے اجداد کی جانشینی کا حق ادا کیا اور خانوادۂ کشمیری کی عظمت و رفعت کے پرچم کو تھامے رکھا. 


آج انہیں رخصت ہوئے ایک سال مکمل ہو گیا ہے. ان 365 دنوں میں کوئی دن، کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرا جب ان کی یاد نے رلایا نہ ہو، ان کے اداؤں کے تصور و خیال نے ستایا نہ ہو اور قہقہوں کی بازگشت نے ہنسایا نہ ہو. ان کی یاد دل کو تڑپا رہی اور نوک قلم پر بے اختیار یہ شعر آرہا ہے
منسوب تیری ذات سے رعنائیاں تمام
تیرے بنا حیات میں کچھ دلکشی نہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad