تازہ ترین

جمعرات، 14 ستمبر، 2023

معاشرےکی اولین ترجیح "میاں بیوی اور فیملی کی تربیت اوران کےمسائل کا تصفیہ" ہونا چاہئے

 خالدہ کے خلع کی کیس اسٹڈی،  دس تجاویز، "رقباء" اور "دارالعفاف" کا خاکہ

مشن تقویتِ امت قسط 30

 پس منظر

مفتی رضی احمد صاحب ندوی جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں قائم دار القضاء میں منصب قضا پر فائز ہیں، ہم نے ان سے خلع اور طلاق وغیرہ کی کارروائیاں دیکھنے کی درخواست کی، ایک دن وہ ہمیں دارالقضا لے کر آئے تو اس جوڑے سے ملنا ہوا جو خلع لینے آیا تھا، وہ عورت چوں کہ چار مرتبہ خلع لینے آچکی تھی اور چار مرتبہ سمجھا بجھاکر واپس کردیا تھا قاضی صاحب نے اور اس بار وہ پختہ ارادہ کرکے آئی تھی اور قاضی صاحب کے پوچھنے پر خلع لینے کی وجہ یہی بتائی کہ ہم ساتھ میں رہتے ہیں تو خالی ہمارے جھگڑے ہی ہوتے رہتے ہیں اس لیے میں خلع لینا چاہتی ہوں ان کے ساتھ کسی بھی صورت رہنا نہیں چاہتی ہوں، پھر بھی میں نے قاضی صاحب سے اجازت مانگی کہ میں تھوڑی کاؤنسلنگ کرسکتا ہوں ان کی؟ غالب امکان اگرچہ عدم تبدیلی کا ہے لیکن پھر بھی ایک بار کوشش کرکے دیکھ لیتا ہوں

انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ماننے والی ہیں پھر بھی کوشش کرکے دیکھ لیں

 


 پہلی نشست

میں نے خالدہ (فرضی نام) کو ایک طرف بٹھایا اور سوال کرنا شروع کردیا

آپ کی شادی کو کتنے سال ہوگئے ہیں؟ چار سال

آپ کی ارینج میرج تھی یا لو میریج؟ لو میریج

تو پھر کیا اب آپ دونوں ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے؟ نہیں

کیا آپ اس وجہ سے چھوڑنا چاہتی ہیں کہ وہ آپ سے محبت نہیں کرتا؟

خالدہ:  نہیں، بس ہر وقت ہمارے جھگڑے ہوتے رہتے ہیں اس لیے میں نہیں رہنا چاہتی ہوں، میں جھگڑے لڑائیوں سے تنگ آچکی ہوں

لیکن جھگڑے ہوتے کیوں ہیں؟ کس بات پہ ہوتے ہیں جھگڑے؟

خالدہ:  بس ایسے ہی جھگڑے ہوتے ہیں گھر میں ہمارے

آپ کچھ چھپا رہی ہیں، مجھے اب تک آپ کے خلع لینے وجہ سمجھ میں نہیں آئی، کیا صرف جھگڑے بنیاد ہیں آپ کے خلع کی؟ ویسے تو میاں بیوی میں روز جھگڑے ہوتے رہتے ہیں لیکن اس کہ وجہ سے خلع کی نوبت کیوں آئی؟

خالدہ:  ہمارے جھگڑے ایسے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوسکتے اس لیے میں خلع لینا چاہتی ہوں

مجھے صحیح جواب ابھی تک نہیں ملا، دیکھیں مجھے آپ کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ آپ واقعی کسی بہت بڑی تکلیف سے گزری ہیں اس لیے مجبور ہیں، میں بس وہ مجبوری جاننا چاہتا ہوں، میں جب تک پرابلم کی جڑ کو نہیں سمجھ جاتا تب تک آپ کی مدد کیسے کرسکتا ہوں؟

خالدہ:  کیا فائدہ بتا کر جب سب لوگ مذاق ہی آڑاتے ہیں طعنے ہی دیتے ہیں

کیا ہمیں (وہاں میرے ساتھ مفتی رضی احمد صاحب ندوی اور مفتی نصر اللہ صاحب مظاہری تشریف رکھتے تھے) دیکھ کر آپ کو لگتا ہے کہ ہم آپ کی کسی بھی بات کا مذاق اڑائیں گے؟ پلیزززز بتادیجئے ہوسکتا ہے ان وجوہات کو جان کر ہم کسی اور کی زندگی ٹوٹنے بکھرنے سے بچا سکیں؟

خالدہ:  (تھوڑی دیر غور و فکر اور تذبذب کی حالت کے بعد آنکھوں میں آنسو لئے) ٹھیک ہے میں بتاؤں گی لیکن خلع کے بعد

میں نے سوچا ٹھیک ہے اگر یہ ٹھان کر آئی ہے تو مانے گی نہیں، خلع کے بعد ہی اس سے بات کرتے ہیں

 

 خلع کے بعد دوسری نشست

جب خلع ہوگیا اس کے بعد سارے گواہان اور سابقہ شوہر کے جانے کے بعد ہم نے خالدہ کو روک لیا اور کہا

چلئے اب جو کچھ آپ کے ساتھ بیتی ہے وہ سب پوری تفصیل سے بتائیے؟

خالدہ: ہم نے محبت کرکے شادی کی تھی، اس وجہ سے ماں نے گھر سے نکال دیا، رشتہ ناطہ ختم کردیا، شادی سے پہلے میرا کسی کے ساتھ افئیر تھا، اس کے بعد ان سے محبت ہوئی تھی، تو شادی سے پہلے ہی میں نے صاف صاف بتا دیا تھا کہ مجھ سے یہ غلطی ہوئی تھی تاکہ وہ کسی دوسرے تیسرے سے سن کر بدگمانی نہ کر بیٹھیں اور قبول کرنا ہو تو کریں ورنہ شادی نہ کریں، انہوں نے قبول کرلیا، لیکن شادی کے دو ہی دن بعد اس بات کے طعنے دینا شروع کردیا، ایک مرتبہ تو بھری مجلس میں مجھے ذلیل کیا، سسرال کے سارے اڑوس پڑوس کو پتہ چل گئی یہ بات، میں ان کے طعنے سن سن کر پریشان ہوگئی ہوں

دوسری بات انہوں نے دوسرے تین سے ہی میری پٹائی شروع کردی، اتنا مارتے تھے کہ بیلٹ ٹوٹ جاتا تھا (یہ سارا دکھڑا سناتے ہوئے مسلسل ان کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے اور میں بھی بمشکل اپنے آنسوؤں پر قابو رکھ پارہا تھا)، اب پچھلے ایک سال سے انہوں نے مارنا چھوڑا ہے کیوں کہ پہلے میں بیمار نہیں پڑتی تھی ان کی مار سے، لیکن اب بیمار پڑ جاتی ہوں تو پیسے خرچ ہونے کے ڈر سے اب مارنا چھوڑ دیا ہے انہوں نے

تیسری بات ان کی ماں نے مجھ سے جھگڑنا شروع کیا، ماں کو لگا کر باپ کو لگا کر میری پوری فیملی خاندان کو لگا کر طعنے اور گالیاں دینے لگی، کھانے تک ٹھیک سے نہیں دیتی تھی، یہ ایک کپڑا اگر نیا لے آتے تو آسمان سر پر کھڑا کردیتی تھی، چوں کہ میں گھر چھوڑ کر آئی تھی جہیز میں کچھ نہیں لے کر آئی تھی اس کی وجہ سے بھی دوسری بہوؤں کے مقابلے مجھے بہت گری ہوئی نگاہوں سے دیکھتی تھی، ان کا دیکھا دیکھی دوسری بہوؤں نے بھی طعنے دینا شروع کردیا، اور پھر اسی پر نہیں رکی میری ساس بلکہ انہوں نے بھی مارنا شروع کردیا، اتنا سارا درد سہتے سہتے تین چار سال بتادئیے، میں اب اور نہیں سہ سکتی

10 تو پھر اب آپ جائیں گی کہاں؟ آپ کا تو یہ گھر بھی چھوٹ گیا اور وہ گھر بھی چھوٹ گیا؟

خالدہ:  ابھی چار مہینے سے میں ماں کے پاس ہی رہ رہی تھی، لیکن اب انہوں نے پھر مجھے گھر سے نکال دیا ہے، میں خالہ کے گھر رہ رہی ہوں، وہیں رہ لوں گی

11 لیکن کیا وہ آپ کو زندگی بھر رہنے دیں گے وہاں؟ آپ کے پاس خرچے کو پیسے کہاں سے آئیں گے؟

خالدہ: بس میں وہیں رہ کر بھانڈے وغیرہ دھونے کا یا کوئی اور کام کرلوں گی، میری قسمت میں سکھ چین اور خوشی لکھی ہی نہیں ہے، اسی بدنصیبی کے ساتھ کسی طرح زندگی کاٹ لوں گی، لیکن اس جہنم میں اس شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی (زار و قطار آنسوؤں کی لڑی بہ رہی ہے)

تو مطلب کل ملا کر شوہر کے طعنوں اور گھر والوں کے جھگڑوں اور طعنوں سے آپ تنگ آچکی ہیں؟ جی

 

 تیسری نشست سابقہ شوہر خالد (فرضی نام) کے ساتھ

اس کے بعد خالد کو بلایا

اب میں نے کنفرم کرنے کے لیے وہ سارے الزامات خالد کے سامنے دہرائے اور اس نے اقرار کیا کہ ہاں ایسا ہی ہوا ہے

میں نے اس پوچھا کہ آپ کی لو میریج ہوئی ہے رائٹ؟ جی

کیا آپ کو پتہ ہے کہ لو میریج میں ایک عورت اپنا گھر بار اپنی فیملی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بس ہونے والے شوہر کے سہارے چلی آتی ہے؟ دنیا میں کوئی اس کا اپنا نہیں بچتا سوائے شوہر کے؟ جی

تو پھر کیوں آپ نے اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا؟ کیا آپ کو شرم نہیں آئی مارتے وقت؟ آپ کو ابھی کوئی دو تھپڑ لگادے تو کیا آپ برداشت کرپائیں گے؟ اس نے تین سال آپ کی مار برداشت کی ہے، اور جب اس نے آپ کو اپنے پرانے افئیر کے بارے میں بتایا ہی اس لئے تھا تاکہ وہ اپنی شفافیت ثابت کرسکے اس کے باوجود آپ نے مسلسل اس کو اس بات کے لیے طعنے دئیے، اگر اللّٰہ اسی طرح آپ کے ہر جرم ہر گناہ پر آپ کو ذلیل کرنے لگے اور طعنے دینے لگے تو سوچئے آپ کی کیا حالت ہوگی؟ یار وہ ایک عورت ہے، پتھر نہیں، تمہیں ترس بھی نہ آیا اس کی زندگی کو نرک بناتے ہوئے؟ تم خود کو اس کی جگہ پر رکھ کر سوچو؟ کتنی عمر ہے تمہاری؟

خالد:  چھبیس سال، میں بھی چھبیس کا ہوں، ہوسکتا ہے تم نے جب شادی کی ہوگی تمہیں تجربہ تو تھا نہیں شادی کا، اس لیے سچویشن سنبھال نہیں پائے، لیکن تم چھبیس سال کے ہوچکے ہو، چار سال شادی کے بعد بھی اگرچہ مارنا چھوڑ دیا لیکن تم اپنے طعنے دینے کی حرکتوں سے باز نہیں آئے ابھی تک کیوں؟ تمہیں احساس بھی ہے اس بات کا کہ تم نے کیا کیا اس بیچاری عورت کے ساتھ؟ تمہارے سوا اس کا کوئی سہارا نہیں ہے اور تم ہی اس پر ظالم و جابر بن بیٹھے؟

جب میں نے شروع سے خالدہ کے ساتھ ہونے والے مظالم کو ایک ایک کرکے گنانا شروع کیا تو خود خالد کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنا شروع ہوگئے

میں نے پوچھا کیوں کیا آپ نے ایسا؟؟

خالد: مفتی صاحب (روتے ہوئے) میں بہت محبت کرتا ہوں اس سے، بس غصے میں میں کہ دیتا تھا اس سے کچھ باتیں، اور اب تو میں نے اس کو مارنا بھی چھوڑ دیا ہے

محبت؟ بھائی محبت خالی اظہار کرنے اور رونے دھونے سے نہیں ہوتی، تمہارے سارے کرتوت محبت کے برخلاف نفرت کا ثبوت پیش کررہے ہیں، تو وہ کیسے مان لے کہ تم محبت کرتے ہو اس سے؟

اور غصہ؟ ارے بھائی تم کو غصہ آرہا تھا تو تم بھگتتے نا، کہیں اکیلے نکل جاتے ٹہلنے، تنہائی میں بیٹھ کر تھوڑا رو لیتے، اس کو کیوں نقصان پہنچاؤگے؟  یہ کوئی تمہاری خریدی ہوئی بے جان ملکیت ہے جس کو تم نے جب جیسے چاہا ظلم کردیا گھر سے نکال دیا؟

خالد: نہیں مفتی صاحب غلطی ہوگئی مجھ سے

غلطی ہوگئی؟ ارے میرے بھائی یہ غلطی کا مسئلہ نہیں ہے، غلطی پر اصرار کا معاملہ ہے، اللّٰہ گناہ کرنے پر کبھی ناراض نہیں ہوتا، وہ کہتا ہے میرے بندے تو ستر ہزار بار گناہ کرلے لیکن بس ایک مرتبہ کہ دے یا اللّٰہ میری توبہ تو تیرے گناہ احد پہاڑ کے برابر کیوں نہ ہوں میں معاف کردوں گا، اللّٰہ بندے سے کبھی گناہ پر ناراض نہیں ہوتا، لیکن گناہ پر اصرار سے ضرور ناراض ہوتا ہے، تم نے صرف غلطی نہیں کی بل کہ مسلسل چار سال تک وہ غلطی دہرائی ہے، کیوں؟ میں جانتا ہوں کہ اب تم دونوں کا کچھ نہیں ہوسکتا لیکن میں صرف سمجھنے کے لیے پوچھ رہا ہوں کہ کیوں تم نے اصرار کیا ہے اپنی غلطی پر؟

خالد: مفتی صاحب بس کیا بتاؤں، اس کی ماں اور بہن جھگڑا کرلیتی تھی میری ماں سے، مجھے کبھی انہوں نے ایکسیپٹ نہیں کیا، حالاں کہ اس سے پوچھ لیجئے اس کے باوجود میں ان کے ہر دکھ سکھ میں کھڑا رہتا تھا، میرے پاؤں میں تکلیف شروع ہوگئی ہے، میں ٹھیک سے زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا، میں نے اس سے تذکرہ کیا کہ اگر تمہارے میکے سے کچھ پیسے مل جاتے تو اور قرض وغیرہ لے کر میں اپنا علاج کرالیتا، پہلے تو ساس نے کہا ٹھیک ہے دیں گے لیکن ایک سال تک ٹہلاتی رہی، پھر دس میں سے سات ہزار دئیے، اسی دوران ان کے ایک رشتے دار بچے کے ہاتھ کا فریکچر ہوگیا، وہ ہاسپیٹل میں اکیلا تھا، کوئی اس کو دیکھنے والا نہیں تھا، مجھے پتہ چلا میں گیا اور پھر اسی سات ہزار سے اس کا علاج کرایا کہ مجھ سے زیادہ ضرورت ابھی اس کو ہے، مجھے وہ پیسے بعد میں مل جائیں گے، لیکن اتنا حسن سلوک کرنے کے باوجود اس کی ماں نے نہ وہ پیسے دئیے اور نہ میری یا اپنی بیٹی کی بیمار پرسی کے لیے کبھی آئی، اور ہمیشہ کہتی تھی کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں اسی دوران ان کا ایک اور داماد بیمار پڑا تو جھٹ سے نکال کر بیس ہزار دے دی، تو کیا ہمارا اتنا بھی حق نہیں بنتا تھا؟ بس انہیں سب رویوں سے پریشان ہوکر اس کو بول دیتا تھا

میرے بھائی پہلی بات تو یہ کہ تم ان کی بیٹی کو بھگا کر لائے ہو تو تمہارا حق جتانا تو ویسے بھی نہیں بنتا ہے، اور حق جتانا کیا سسرال سے پیسے مانگنے کا تمہیں کوئی حق ہی نہیں حاصل ہے، دوسری بات یہ سب اس کی ماں نے کیا لیکن تم اس کی وجہ سے خالدہ کو کیوں طعنے دے رہے ہو؟ اس کا کیا قصور ہے اس میں؟

خالد خاموش۔۔۔۔ ایک لفظ نہیں نکلا اس کے منہ سے

 

 چوتھی نشست دونوں کے ساتھ

میں نے خالدہ  کو مخاطب کرکے کہا کہ دیکھئے پرانی باتوں کو یاد کرکے کوئی فائدہ نہیں ہے، مجھے یہ بتائیے کہ آپ نے جو خلع لیا ہے وہ پرانی مارپیٹ اور طعنوں کی وجہ سے لیا ہے یا پھر حال میں ہوئے حالات و مصائب کی بنا پر؟

خالدہ:  نہیں میں تو پچھلی ساری باتیں بھلا چکی ہوں، میں نے اس عید کے بعد کے پانچ چھ مہینوں کے حالات کو دیکھ کر خلع لیا ہے

تو ان پانچ چھ مہینوں میں کتنی بار مارا ہے انہوں نے؟ ایک بار بھی نہیں

طعنے کتنے بار دئیے ہیں؟ صرف ایک بار

تمہارا خرچ اٹھاتے تھے یہ؟ جی اٹھاتے تھے

تو پھر آپ نے خلع کیوں لے لیا؟

خالدہ:  کیوں کہ میں تو ابھی اپنے میکے میں تھی تو جھگڑے کم ہوتے تھے، اور مجھے یقین تھا کہ اگر میں ان کے گھر جاؤں گی تو میری پھر وہی حالت ہوگی جو میں چار سال سے سہتی آرہی ہوں اس لیے نہ رہنے کا فیصلہ کرلیا نیز میری امی کو ہمارا یہ رشتہ پسند نہیں تھا وہ بولتی تھی کہ تم لوگ الگ ہو جاؤ اس لیے بھی

اب آپ خود اپنی باتوں کا تجزیہ کریں، آپ کے حساب سے انہوں نے عید کے بعد نہ مارا ہے ایک سے زیادہ بار طعنے بھی نہیں دئیے ہیں، اس حساب سے تو یہ بندہ خود کو سدھار رہا ہے اس کے باوجود آپ نے صرف اپنے اس مفروضے کی بنا پر فیصلہ لیا ہے کہ یہ ہوگا تو وہ ہوگا، اب سمجھ میں آرہا ہے کہ آپ کا فیصلہ کتنی کمزور بنیادوں پر قائم تھا؟

خالدہ: نہیں وہ ہیں ایسے، یہ دس مرتبہ معافی مانگ چکے ہیں اور پھر دس بار یہی چیز دہراچکے ہیں، ان کی عادت سدھرنے والی نہیں ہے

میں نے کہا اچھا دیکھو دنیا میں انسان تین طرح کے ہوتے ہیں ایک ہوتے ہیں جن کا رویہ بھی اچھا ہوتا ہے اور زبان بھی اچھی ہوتی ہے

دوسرے وہ ہوتے ہیں جن کا رویہ اچھا ہوتا ہے لیکن زبان اچھی نہیں ہوتی ہے

تیسرے وہ ہوتے ہیں جن کا رویہ اچھا نہیں ہوتا ہے لیکن زبان بس اچھی ہوتی ہے

سب سے بہترین آدمی پہلا والا اور سب سے خراب منافق آدمی تیسرا والا ہے اور دوسرا والا تیسرے والے سے بہرحال بہتر ہوتا ہے

آپ اپنے سابقہ شوہر کو کس کیٹیگری میں رکھتی ہیں؟

خالدہ: دوسری کیٹیگری میں کیوں کہ یہ انسان اچھے ہیں بس کبھی کبھی طعنہ دے جاتے ہیں اور ان کے گھر والوں کے جھگڑوں کی وجہ سے میں تنگ آجاتی ہوں

پھر خالد  سے پوچھا آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟

خالد: مفتی صاحب میں تو ان کو پہلی کیٹیگری میں رکھوں گا، انہوں نے کبھی مجھے تکلیف نہیں دی، کبھی مجھ سے کھانے کپڑے کے تعلق سے کوئی مانگ نہیں کی، جتنا دیا اتنے میں صبر کرلیا، مجھے اس سے اچھی لڑکی نہیں مل سکتی (اور اس وقت تک دونوں رونے لگے تھے)، آپ پوچھ لیجئے انہیں سے کہ میں نے ان کو کبھی دوسروں کے سامنے ذلیل نہیں کیا سوائے ایک بار کے، مجھے جو بھی شکایت ہوتی تھی میں اکیلے میں ان کو لے جاکر کہتا تھا، ان کے لیے میں اپنی ماں سے اپنے بھائیوں تک سے لڑگیا تھا

بہن کیا یہ صحیح بول رہے ہیں؟ جی یہ صحیح بول رہے ہیں

اب آپ لوگ غور کریں کہ آپ ان کو اچھا انسان سمجھ رہی ہیں یہ آپ کو اچھا انسان مان رہے ہیں تو پھر صرف  دوسروں کے پریشان کرنے کی بنا پر ایک دوسرے سے جدا ہونے کا کوئی مطلب نہیں بنتا

(لڑکی خالدہ  سے) آپ کو پتہ ہے نا معاشرے میں اکیلی طلاق شدہ لڑکی کو کتنی گری نظروں سے دیکھا جاتا ہے، دوسری شادی کو عیب سمجھا جاتا ہے، آپ کو یہ بھی پتہ اہے خالہ کے گھر میں بھی آپ بہت دن نہیں رہ سکتیں، تو پھر آپ کی زندگی بے سہارا ہوکر رہ جائے گی، اس لیے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرکے جدائی کا فیصلہ لینے کے بجائے اس کے اسباب کو ختم کرنے پر غور کیجئے

(لڑکے خالد سے) آپ بھی یاد رکھیں کہ کوئی دوسری لڑکی اتنا نبھانے والی نہیں ملے گی آپ کو، اس لیے اگر دوسری شادی کا خیال ذہن میں رکھے ہوئے ہیں تو نکال دیجئے

خالد: مفتی صاحب میں کبھی اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ہوں، کیوں کہ ان کے ساتھ رہ کر مجھے یہ تجربہ ہوگیا ہے کہ کوئی دوسری لڑکی ہمارے ان مسائل پر صبر کر ہی نہیں سکتی ہے جتنا انہوں نے کیا ہے اور نہ ہی اتنے اچھے سے چیزوں کو ہینڈل کرسکتی ہے

اچھا یہ بتائیں کیا آپ کی ماں بدتمیز ہیں؟ ان کو ذلیل کرتی ہیں؟ جی

کیا وہ اپنے گھر میں رہتی ہیں؟ جی

کیا وہ کھانا پکاسکتی ہیں خود سے؟ جی

کیا ان کے پاس پیسے ہوتے ہیں؟ نہیں، وہ بیمار بھی رہتی ہیں، دوا وغیرہ اور ان کا خرچہ وغیرہ سب میں ہی دیکھتا ہوں، کوئی دوسرا بھائی پیسہ نہیں دیتا ہے۔

تو پھر ایسا کیجئے جس طرح آپ اپنے پاؤں کے علاج کے لیے قرض لے رہے ہیں کیوں کہ آپ اس کا علاج ضروری سمجھتے ہیں اسی طرح پہلی فرصت میں آپ اپنا گھر الگ کریں، استطاعت ہو تو تھوڑی زمین خرید کر پھوس اور کھپڑے کا مکان کیوں نہ بن جائے اسی میں رہیں، یا کرائے کا مکان لینے کی کوشش کریں، شروعات میں قرض بھی لے سکتے ہیں کچھ، کیوں کہ یہ آپ کے سکون کا مسئلہ ہے، سکون سے بڑھ کر انسان کے لیے دنیا میں کوئی اور چیز  معنی نہیں رکھتی، بیوی کو اپنے گھر میں رکھنے کی ذمہ داری آپ کو شریعت نے دی ہے، وہ آپ کا نہیں آپ کی ماں کا گھر ہے، اگر دونوں میں نبھاہ نہیں ہوپاتا تو دونوں کو الگ کردیں تاکہ دونوں سکون سے رہ سکیں،

شریعت نے آپ پر ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، ساتھ رہنے کو ضروری قرار نہیں دیا ہے، آپ اپنے گھر میں رہیں اور ماں کا خرچہ اٹھائیں ان کی خدمت کریں

خالد: جی ان شاءاللہ میں کوشش میں ہوں کہیں زمین سستے میں مل جائے تو خرید لوں

ہاں لیکن تب تک آپ کو اپنی بیوی کو کرایے کے مکان میں ہی رکھنا ہوگا، اور میں بھی ان شاءاللہ کوشش کرتا ہوں کہ آپ کو  کوئی اچھی سی جاب مل جائے جس سے آپ دونوں کا خرچہ اٹھاسکیں بہتر طریقے سے

 

 بہرحال اخیر میں آپ دونوں کو چار نصیحتیں کروں گا

کم از کم چار چھ مہینے آپ لوگ الگ رہیں تاکہ دونوں کو احساس ہو کہ ایک دوسرے کے بغیر زندگی کیسی کٹتی ہے

خالد: مفتی صاحب ان سے کہ دیں کہ یہ چار چھ مہینے تک ڈیڑھ دو ہزار اپنے خرچے کے لیے مجھ سے لے کیا کریں، یہ تیار نہیں ہیں لینے کو

میں نے سابقہ بیوی خالدہ کو سمجھایا کہ دیکھو تمہارا اپنی خالہ کے ہاتھوں مجبور بن کر رہنا صحیح نہیں ہے، تم نے اگرچہ اپنی عدت وغیرہ تک کا خرچہ معاف کردیا ہے لیکن تم ان سے بقدر ضرورت لے سکتی ہو تاکہ تم کسی اور کی زیادہ محتاج نہ بنو

غصے میں کبھی بھی فیصلہ مت لینا کیوں کہ اس وقت انسان نہیں شیطان فیصلے لے رہا ہوتا ہے

انسان کی اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ کبھی بھی اس کے الفاظ کی بنا پر مت کرنا، بلکہ اس کے رویے کی بنا پر کرنا، کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ  مجبوری، غلطی، غصے، یا غلط فہمی میں آدمی کچھ الفاظ ایسے بول دیتا ہے جو حقیقتاً اس کی مراد نہیں ہوتی، اور سامنے والا اسی کو بنیاد بناکر اس کے تمام اچھے رویے کو پس پشت ڈال کر غلط فیصلے لے لیتا ہے، طلاق یا خلع کی نوبت آنے میں اس کا بڑا دخل ہے اس لیے کبھی بھی الفاظ کی بناپر اپنے فیصلے مت کرنا

اچھا آپ لوگوں کے درمیان کوئی ایسا آدمی تھا جس کے پاس آپ لوگ اپنے جھگڑے سلجھانے کے لیے لے کر جاتے تھے؟ نہیں

مطلب بس آپ لوگ آپس میں جھگڑ کر فیصلے لیتے تھے؟ جی

اب دوبارہ کبھی ایسا مت کرنا، خانقاہ کے سجادہ نشیں امیر شریعت مدظلہم العالی نے ہمیں ایک موقع پر نصیحت کی آپ لوگ کتنے ہی سمجھ دار کیوں نہ ہو یا آپس میں ایک دوسرے کی انڈرسٹینڈنگ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، ہمیشہ ایک ایسے آدمی کو حکم بنائیں جس کے فیصلے پر دونوں متفق ہوں اور جب کبھی نا اتفاقی ہو اور خود سے معاملہ نہ سلجھ پائے تو ان کے پاس معاملے کو لے جاسکیں، کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے یہ نصیحت بہت اہم رول ادا کرتی ہے اس لیے جب چار چھ مہینے کے بعد آپ  دونوں دوبارہ نکاح کریں تو ان تینوں نصیحتوں پر ضرور عمل کریں

پھر دونوں نے بے حد شکریہ ادا کیا میرا اور رخصت ہوئے، دو دن کے بعد ہم نے ایک جاب آفر کی ہے ان کو، امید ہے دو تین دن بعد وہ جوائن کرلیں گے

خیر یہ ہوئی کیس اسٹڈی

 

اچھا اسی دو دن کے دوران دو تین کیس سننے کو ملے

دو کیس ایسے تھے جن میں شوہر کو غصہ آیا اور شوہر نے بلا چون و چرا طلاق دے دیا، اور بعد میں افسوس کرتے بیٹھا ہے

ایک کیس یہ سامنے آیا کہ دو بچوں کی ماں ہے بی ایڈ کی ہوئی ہے، شوہر جاہل تھا لیکن بارہویں پاس کہ کر شادی کرائی گئی، شادی کے بعد اب ساس اس کو ہر دن مارتی ہے، کھانا ٹھیک سے نہیں دیتی، ایک دو حمل گروادئیے یہ کہ کر کہ ہم تمہارے بچے کا خرچہ نہیں اٹھاسکتے، بیٹیاں ساری پڑھی لکھی ہیں تو اپنے نواسوں کو خوب کھلاتی ہے اور میرے شوہر جاہل ہیں تو ان کو گھر میں دب کر رہنا پڑتا ہے، وہ بولتے ہیں ماں کچھ بھی کرے برداشت کرلیا کر

ان سارے کیسیز کو سامنے رکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہماری قوم کی اولین ترجیح "فیملی میں پیدا ہونے والی دشواریوں کو ختم کرنا" ہونا چاہئے ، ورنہ اس سے میاں بیوی کی زندگی اجیرن بنے گی، پھر اس کا منفی اثر بچوں کی پرورش و تربیت پر پڑے گا جو کہ بالآخر سماج میں فساد پر منتج ہوگا، اور عورتوں میں غیر مسلموں کے پیار کے جال میں پھنسنے اور مرتد ہوکر بھاگ جانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے اندر اپنے سماج اور فیملی سے وہ یگانگت والا احساس ماند پڑ جاتا ہے اور مصیبت میں ساتھ دینے والا ہاتھ ملنے کی امید ختم یا کم  ہوجاتی ہے

آج ہی ایک مسلم ایکٹریس کا بیان سنا کہ باپ شرابی تھا اور ماں کو اور ہمیں مارتا تھا اس لیے ہم ساری بہنیں بھاگ کر اپنے گاؤں سے ممبئی چلی آئیں، اس کا مطلب ہم فیملی کے مسائل کا حل نکال کر اس پرابلم کو بھی حل کرسکتے ہیں

آپ غور کریں کہ بنیادی احکامات قرآن سے اور ان کی تفصیلات احادیث سے ثابت ہیں لیکن جب فیملی کی بات آتی ہے تو قرآن بھی غیر معمولی طور پر چھوٹی چھوٹی باتوں کو اہمیت دے کر ان پر گفتگو کرتا ہے اور فیملی  مسائل کا حل پیش کرتا ہے، اس سے ہمیں یہ نتیجہ نکالنا چاہئے کہ اجتماعی کاموں میں ہماری اولین ترجیح فیملی کے لیے احتیاطی و اصلاحی اقدامات (preventive and corrective measures) ہونے چاہئیں

 

 اس سلسلے میں چند تجاویز پیش خدمت ہیں:

1  عنقریب شادی کرنے والے مردوں اور عورتوں کی تربیت کے لیے سہ روزہ تربیتی پروگرام کیا جائے جس میں انہیں یہ بتایا جائے کہ ساتھ میں کیسے رہنا ہے، ماں اور بیوی اور ساس کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے، اپنے غصے پر قابو کیسے پانا ہے، جھگڑے کیسے سلجھانا ہے، گھر کے ماحول کو کیسے خوش گوار رکھنا ہے، حضور صلی اللّٰہ کا رویہ اپنی بیویوں کے ساتھ، ان کی سنتوں سے وقفیت، بچوں کی تربیت کیسے کرنی ہے وغیرہ وغیرہ

ہمارے کولیگ حفظ الرحمٰن بھائی نے بتایا کہ ملیشیا میں مسجد کے اندر شادی سے چند مہینوں پہلے ایک ورک شاپ لڑکے لڑکی کے گارجین کے لیے دوسرا شوہروں اور تیسرا بیویوں کے لیے ہوتا ہے جس میں اس طرح کی ٹریننگ دی جاتی ہے، ہم اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں

پہلے سماجی دباؤ کے ڈر سے لوگ غصے میں بھی طلاق دینے سے ہچکچاتے تھے، لیکن اب سماج کا تانا بانا اتنا تتر بتر ہوگیا ہے اور انفرادیت کی فضا اتنی عام ہوگئی ہے کہ کسی کو کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، کسی کا کسی پر زور نہیں چلتا، جہاں عورت کا میکے مضبوط ہو وہاں سسرال میں تو صورت حال تھوڑی غنیمت  ہے لیکن جہاں کمزور ہے وہاں مرد کھلے سانڈ کی طرح جب تھوڑا غصہ آیا طلاق دے دیتا ہے، ساس مارپیٹ کرتی ہے، ان پر لگام لگانے والا اور فیملی کے مظلوم افراد کی فریاد سننے والا کوئی ایسا مضبوط ادارہ موجود نہیں ہے جہاں جاکر یہ مظلومین اپنا دکھڑا سنا سکیں اور فورا ان کے مسائل کا تصفیہ کیا جاسکے، اس کے لیے دو کام کرنے کی ضرورت ہے

ہر علاقے میں کاؤنسلنگ سینٹرز بنائے جائیں جہاں لوگ اپنے مسائل لے کر جائیں اور انہیں ان مسائل کا تشفی بخش حل بتایا جائے

گاؤں اور ضلعی سطح پر "رُقباء" کی ایسی باڈی بنائی جائے جس کے پاس سوشل پریشر بنانے کی طاقت موجود ہو، جو ان کے اندر خوف پیدا کرے کہ اگر میں نے اپنی منمانی کی اور عورت پر ظلم کیا تو میرا بائیکاٹ بھی کیا جاسکتا ہے یا میرے خلاف قانونی ایکشن لیا جاسکتا ہے، نیز یہی باڈی گاؤں میں موجود تمام بہنوں کا ڈاٹا تیار کرکے ان کی سرگرمیوں کی نگرانی بھی کرے

رقباء کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ قرآن میں کفار کی صفت بتائی "لا یرقبون فی مومن الا و لا ذمۃ" کہ وہ مسلمانوں کے معاملے میں نہ تو قرابت کا لحاظ کرتے ہیں نہ معاہدے کا، اس کا مطلب وہ ہیں جو رشتہ داروں اور معاہدوں کا لحاظ کرتے ہیں اس مناسبت سے ہم نے اس جماعت کا نام رقباء رکھا ہے کہ یہ جماعت ان چیزوں کا لحاظ کرے گی بھی اور کروائے گی بھی ان شاءاللہ

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ عورت پر سسرال میں بے تحاشا ظلم ہورہا ہے لیکن اس کے میکے والے یہ کہ کر اس پر ستم در ستم ڈھاتے ہیں کہ صبر کرو یہاں مت آنا یا اپنی غربت کی بنا پر وہ کوئی اقدام نہیں کرسکتے، ایسی عورتوں کو اس جہنم سے نکالنے کے لیے "دار العفاف" ("ولیستعفف الذین لا یجدون نکاحا حتی یغنیھم اللہ من فضلہ" کی مناسبت سے) قائم کئے جائیں، جو ایسی مظلوم عورتوں نیز غیر مسلموں کے چنگل سے چھڑائی گئی مسلم بہنوں کے لئے پناہ گاہ بنے

عورتوں کی ضروریات سے متعلق مختلف ہنر انہیں سکھائے جائیں اور کمپنی ایکٹ کے تحت ایک سوسائٹی بناکر ان عورتوں کی صلاحیتوں کو کام میں لاکر بزنس کیا جائے اور ملنے والے منافع سے دیگر علاقوں میں اسی طرح کے "دارا العفاف" اور اسکولز و مدارس قائم کئے جائیں

اسی دوران مختلف صاحب استطاعت لوگوں کی ذہن سازی کی جائے دوسری شادی کے لیے، جوں ہی بہتر رشتہ ملے شادی کراکر انہیں رخصت کردیا جائے

عام شادی کے وقت بھی اور ان کی دوسری شادیوں کے وقت بھی چند شرائط نکاح نامے میں درج کرواکر ان پر دستخط کروائی جائے تاکہ میاں بیوی کسی قسم کے ظلم کا شکار نہ بن پائیں، میری نظر سے غالبا اس سے ملتا جلتا کوئی نکاح نامہ گزرچکا ہے اسی کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

تمام قاضیوں کو سائیکالوجی اور فیملی کاؤنسلنگ کا پروفیشنل کورس کرایا جائے یا پھر کسی کاونسلر کا ورک شاپ رکھ کر ان کی ٹریننگ کی جائے تاکہ ان کی کارکردگیوں میں مزید نکھار پیدا ہو

میاں بیوی کے درمیان جھگڑے اور فساد کی ایک بڑی وجہ غربت ہے اس لیے ایک ایسی باڈی بھی ہر گاؤں میں ہونی چاہئے جہاں چھوٹے لیول پر ہی سہی چھوٹے بزنس کے لیے کچھ قرض مل سکے، تاکہ جن لوگوں کا اپنی فیملی یا رشتے داروں میں کوئی سہارا نہ ہو یہ باڈی ان کا سہارا بن سکے

10 مسلم سماج اور فیملی کو بیٹیوں کے درمیان اپنا اعتماد بحال کرنے اور ان پر ہورہے ظلم کو روکنے کے لیے چار مشکل ترین تبدیلیوں سے گزارنا ہوگا:

جلدی شادی کرنا تاکہ غلط راستے پر چلنے کی نوبت ہی نہ آئے

 2 تربیت ایسی ہو کہ کہیں غلط راستے پر نہ چلیں لیکن اگر محبت ہو جائے اور معقول رشتہ ہو تو اسے اپنی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے اپنے اندر لچک پیدا کرنی ہوگی، اس بات کو محسوس کرنا ہوگا کہ اس نے گناہ میں ملوث ہونے کے بجائے آپ سے شادی کی درخواست کی ہے، نیز کسی کافر کے بھگوا لو ٹریپ میں گرفتا ہونے کے بجائے اس نے ایک مسلمان سے محبت کی ہے

مسلمانوں کو حسب نسب کے تعلق سے اپنا ذہن خوب صاف کرنا ہوگا کہ فرق مراتب کی دو قسمیں ہیں کسبی (جسے محنت و مشقت سے حاصل کیا جاسکتا ہو) اور غیر کسبی (جسے محنت و مشقت سے حاصل نہیں کیا جاسکتا ہو)، اللّٰہ کے ذریعے بتائے ہوئے غیر کسبی فرق مراتب کو مٹانا غیر مطلوب ہے بلکہ جائز بھی نہیں ہے مثلاً نبی صحابی اور امتی کا فرق، لیکن انسانوں کے پیدا کردہ غیر کسبی فرق مراتب کو ختم کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گولز اور مقاصد میں شامل ہے، اسی لیے اللّٰہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انسانوں کے پیدا کردہ نسلی و نسبی فرق کو اپنے آخری خطبے میں "لا فضل لعربی علی عجمی و لا لعجمی علی عربی" کے ذریعے اور رنگوں کے ذریعے پیدا کردہ فرق کو "و لا احمر علی اسود و لا اسود علی احمر" کے ذریعے ختم کرنے کا فرمان صادر کیا، لائے نفی جنس پورے کی نفی کرتا ہے یعنی کسی قسم کی فضیلت حاصل نہیں ہے

یہ خبر متواتر ہے لہذا اگر اس کے مقابلے میں کوئی خبر واحد ہو تو اس کو منسوخ مانا جائے گا یا تاویل و تعلیل کی جائے گی، اور قرآن میں کہیں بھی نسبی تفوق کو مستحسن نہیں گردانا گیا ہے کہ ہم اسے فرقِ مراتبِ خداوندی مان لیں

اسی طرح قرآن میں کفار نوح علیہ السلام پر ایمان نہ لانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں "و اتبعک الارذلون" تو نوح علیہ السلام کے جواب دینے کے انداز "و ما علمی بما کانوا یعلمون" پر غور کریں تو سمجھ میں آتا ہے کہ نہ مجھے پتہ ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں اور نہ ہی مجھے جاننا ہے کیوں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میرے لیے ایمان لانے کے بعد سب برابر ہیں "و ما أنا بطارد المومنین"

اگر انسانوں کے پیدا کردہ فرق مراتب کو قبول کیا جانے لگے تو پھر برہمنزم کے پیدا کردہ برہمن، شتریہ، ویشیا اور شودر کی تقسیم پر بہت سے معقول دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں، اس لیے عافیت اسی میں ہے کہ چپ چاپ غیر کسبی فرق مراتب ربی پر ہی انحصار کیا جائے، افسوس اس بات کا ہے ہمارے اکثر علماء سادات و شیوخ یعنی اشراف میں سے رہے ہیں تو کہیں نہ کہیں اس عصبیت کو جان بوجھ کر برقرار رکھا گیا ہے، برقرار ہی نہیں بلکہ اس کی تائید میں دلائل پیش کئے گئے ہیں اسی وجہ سے اس جہالت میں ملوث عوام کو میں ایک حد تک مجبور مانتا ہوں اور ہمارے علماء کو زیادہ قصور وار گردانتا ہوں، رہی بات کسبی تفوق کی تو اسے دنیا بھی مانتی ہے اور اللّٰہ نے بھی مانا ہے "ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم" "و فوق کل ذی علم علیم" اور "رب زدنی علما" کے ذریعے

 میں کئی ایسی لڑکیوں کو جانتا ہوں جن کی عمریں پینتیس سے محض اس بنا پر تجاوز کرگئیں کہ ان کے والدین کو ان کی برادری کا کوئی رشتہ نہیں مل رہا تھا، اور غیر برادری کے جتنے رشتے آئے سب کو ٹھکراتے گئے

دوسری شادی کے رجحان کو عام کرنا ہوگا، اس سلسلے میں مولانا طارق مسعود کی کوششیں قابل قدر ہیں، ان کے بیانات سن کر کئی عورتوں نے اپنا ذہن بدلا اور خود سے اپنے شوہروں کی شادی کروائی کیوں کہ بیواؤں، مطلقہ اور اپنے سسرال کی ستائی ہوئی عورتوں کے لئے اس سے بہتر کوئی آپشن نہیں ہوسکتا، "کسی نکمے لچے لفنگے کی پہلی بیوی بننے سے تو اچھا ہے کہ کسی اچھے انسان کی دوسری بیوی بن جائیں" یہ ایک بہن کا جملہ ہے جس کے والدین اتنے بوڑھے ہیں کہ وہ خود رشتہ نہیں دیکھ پارہے، مہنگے جہیز کی مانگ پوری کرنے کی ان کی حیثیت نہیں، نہ کوئی غم گسار ہے نہ کوئی دو لفظ بات کرنے والا، مجھ سے رابطہ کیا انہوں نے اور میری نظر میں سب سے بہتر دوسری شادی والا آپشن تھا جسے پیش کرنے پر ان کا یہ جواب آیا تھا

 یہ وہ تجاویز ہیں جنہیں مشن تقویتِ امت اپنے ایجنڈے میں شامل کرتی ہے اور دیگر تنظیموں کو بھی دعوت دیتی ہے کہ وہ اولِ وہلہ میں ان تجاویز کو بروئے کار لائیں

مفتی قیام الدین قاسمی سیتامڑھی، خادم مشن تقویتِ امت، استاذ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad