تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 18 مئی، 2020

صفا بیت المال سے معذوروں، بیواؤں اور یتیموں میں راشن اور وظائف کی تقسیم/سینکڑوں بیواؤں اور دو سو سے زائد یتیموں کی بھی کفالت ۔ مولانا غیاث احمد رشادی

حیدرآباد (یواین اے نیوز17مئی2020)مولانا غیاث احمد رشادی صدر صفا بیت المال انڈیا نے اطلاع دی ہے کہ صفا بیت المال انڈیا گزشتہ 14سال سے شہر حیدرآباد کے علاوہ ملک کی مختلف ریاستوں کے 50 سے زائد مقامات میں قائم شاخوں کے تحت مختلف فلاحی ، رفاہی ،تعلیمی اور ہنگامی خدمات انجام دے رہا ہے ۔ واضح ہوکہ صفا بیت المال انڈیا نے انسانیت کی بنیاد پر خدمت خلق کا جو مثالی جذبہ پیدا کیا ہے تاریخ اسکو ہمیشہ یاد رکھے گی ۔ ملک کے گوشے گوشے اور چپے چپے میں صفا بیت المال انڈیا کی منظم انداز سے کی جانے والی منفرد اور مثالی خدمات کا چرچا ہے ۔ اس تنظیم کی بروقت ہنگامی خدمات ، مستحق افراد تک پہنچ کر کیا جانے والا دردمندانہ تعاون ، ٹیم کی شکل میں فیلڈ ورک اور سروے کے تجربہ سے بھرپور وسیع و عریض کام نیز شفافیت اور اطمینان بخش انداز میں اہل خیر کے تعاون کو حقیقی مستحقین تک پہنچانے کا طریقہ کار اس تنظیم کا اختصاص ہے۔ 

معذوروں میں ماہانہ وظائف کا سلسلہ گزشتہ 13 سال سے جاری ہے ۔یہ وہ معذور اور بیوائیں ہیں جو عزت نفس کے ساتھ بے کسی و بے بسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ صفا بیت المال نے اپنی ٹیم کے ذریعہ جامع سروے کیا اور ان میں ماہانہ وظائف کی تقسیم کا سلسلہ شروع کیا۔ صفا بیت المال انڈیا کی مقبولیت اور اس کے خدمات کی وسعت کے پیچھے ان بے بس سینکڑوں مستحق بیواؤں کی دعائیں کام کر رہی ہیں ۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے کے آغاز کے ساتھ ہی ان مستحق بیواؤں اور معذوروں میں ماہانہ وظائف اور ان میں رمضان راشن تقسیم کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ صفا بیت المال کا مرکزی عملہ ایک طرف ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہونے والے مزدوروں میں پانی پلانے اور ان کی دیگر خدمات میں مصروف ہے

 تو دوسری طرف کورونا وائرس کے نتیجے میں نافذ لاک ڈاؤن کے متاثرین میں راشن تقسیم میں بھی مصروف ہے۔ سخت گرمی میں محنت طلب خدمات میں صفا کی ٹیم ہمہ تن مصروف ہے ۔ معذوروں اور بیواؤں کے علاوہ دو سو سے زائد یتیم بچوں کی کفالت بھی صفا بیت المال کر رہا ہے۔ ان تمام معصوم و مجبور بچوں اور بچیوں کو شہر کے مختلف مسلم مینجمنٹ اسکولوں میں شریک کیا گیا ہے اور صفا بیت المال ان تمام یتیم بچوں اور بچیوں کی اسکول کی فیس ادا کر رہا ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ان خاندانوں میں راشن کے علاوہ تعلیمی وظائف بھی دئیے گئے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad