تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 19 اگست، 2021

ہندوستان کی آزادی مسلمانوں کی مرہون منت ہے، نئی نسل کو اپنی تاریخ سے واقف کروانا وقت کی اشد ضرورت ہے!

 مرکز تحفظ اسلام ہند کے جشن یوم آزادی کانفرنس سے مولانا اشہد رشیدی، مفتی اشرف عباس قاسمی، مفتی سبیل احمد قاسمی اور مولانا عبد الرحیم رشیدی صاحبان کا خطاب!



بنگلور، 19/ اگست (پریس ریلیز):  یوم آزادی کے موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام عظیم الشان آن لائن ”جشن یوم آزادی کانفرنس“ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد کے مہتمم اور جمعیۃ علماء اترپردیش کے صدر نواسہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید اشہد رشیدی صاحب نے فرمائی۔ جبکہ کانفرنس کی نگرانی مرکز کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان اور نظامت جمعیۃ علماء رائچور کے صدر مفتی سید حسن ذیشان قادری قاسمی نے فرمائی۔ اس موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا اشہد رشیدی صاحب نے فرمایا کہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کے کردار کو سمجھنے کیلئے صرف اتنا ہی کافی ہیکہ جو کردار ہمارا ہے وہ کسی کا نہیں ہے، جو کردار ہمارے بزرگوں نے پیش کیا ہے دوسری قومیں اپنے پاس اسکی کوئی مثال نہیں رکھتی ہیں۔


لیکن افسوس کی بات ہیکہ آج مسلم قوم اور ہمارے نوجوان خود اپنے بزرگوں کی تاریخ، کردار اور وطن عزیز کیلئے ان کی قربانیوں سے ناواقف ہے۔ مولانا نے آزادی وطن میں ہمارے بزرگوں کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ہندوستان کے طول و عرض پر مسلمانوں نے حکومت کی اور ملک کو سونے کی چڑیا بنایا۔ لیکن جب شاہی خاندان میں بے راہ روی عام ہوگئی تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے ملک کی سیاست میں دخل دینا شروع کردیا اور آہستہ آہستہ پورے ملک پر قبضہ جمانا شروع کردیا۔ مولانا نے فرمایا کہ سب سے پہلے انگریز کے خلاف بغاوت اور جہاد کرنے والے مسلمان ہی تھے۔ جنوبی ہند میں حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ انگریز کے خلاف لڑتے ہوئے 1799ء میں جام شہادت نوش فرمالی۔ اور ادھر 1803ء میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؒنے انگریز کے خلاف جہاد کرنے کا فتویٰ دیا۔ مولانا نے فرمایا کہ 1857 میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حافظ ضامن شہید ؒجیسی بزرگ ہستیوں نے انگریز کے خلاف جہاد کیا۔ پھر 1866ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی تاکہ جنگ آزادی کیلئے ہماری نسلوں کو تیار کیا جائے۔ مولانا نے فرمایا کہ 1907ء میں انگریز کے خلاف حضرت شیخ الہندؒ نے ریشمی رول کی تحریک چلائی۔ 


جس کی وجہ سے انہیں اور انکے شاگرد شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ کو مالٹا کی جیل میں قید کردیا گیا۔ پھر 1919ء میں جمعیۃ علماء ہند کی بنیاد رکھی، جس نے برادران وطن کو ساتھ لیکر آزادی وطن کیلئے قربانیاں پیش کیں اور ہزاروں مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد بالآخر 1947ء میں ہندوستان آزاد ہوا۔ مولانا نے فرمایا کہ 1803ء سے لیکر 1919ء تک آزادی کے حصول کیلئے صرف مسلمان ہی انگریز سے لڑتے رہے اور ہر طرح کی قربانیاں دیتے رہے جس کی مثال کسی اور قوم کے پاس نہیں ہے۔ مولانا اشہد رشیدی نے موجودہ حالات میں ہماری ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ملک کی فرقہ پرست طاقتیں نفرت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے


 لہٰذا ان حالات میں ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر قومی اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے اور آپسی ملاپ کو پروان چڑھانا چاہیے۔ اسی کے ساتھ ہمیں اعمال صالحہ کو انجام دیتے ہوئے زندگی کے ہر قدم پر گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہیے کیونکہ اگر وہ راضی ہوگیا تو ساری دنیا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔


کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند استاذ حدیث حضرت مفتی اشرف عباس قاسمی صاحب نے فرمایا کہ جب ملک کی فرقہ پرست طاقتیں جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ناقابل فراموش قربانیوں کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کررہی ہیں، ایسے حالات میں ملک و ملت کو مسلمانوں کی روشن تاریخ سے واقف کروانے کی اشد ضرورت ہے۔ مولانا نے آزادی ہند میں مسلمان بالخصوص دارالعلوم دیوبند کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کے بغیر ہندوستان کی تاریخ آزادی کبھی مکمل نہیں ہوسکتی بلکہ ہندوستان کی آزادی مسلمانوں ہی کی مرہون منت ہے۔ 


مولانا قاسمی نے فرمایا کہ موجودہ حکومت نے 14/اگست کو تقسیم کی ہولناک یادوں کے نام پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ حکومت کو چاہیے کہ ملک کے باشندوں کو آزادی وطن کی اصل تاریخ اور تقسیم کی اصل حقیقت اور ذمہ داران سے واقف کروانا چاہئے۔ غلط تاریخ بتاکر اصل تاریخ کو قطعاً مٹانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔


کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء تمل ناڈو کے صدر حضرت مولانا مفتی سبیل احمد قاسمی صاحب نے فرمایا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ، حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ سے لیکر حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ، حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت شیخ الاسلامؒ تک ہزاروں مسلمان خصوصاً علماء کرام کی قربانیوں سے ہندوستان کو آزادی نصیب ہوئی ہے۔لہٰذا آج ضرورت ہیکہ ہم نوجوان طبقہ بالخصوص عصری تعلیم یافتہ طبقے کو اپنے اسلاف کی تاریخ سے واقف کروائیں، اسکول و کالج اور مدارس اسلامیہ میں تاریخ آزادی کو نصاب میں داخل کیا جائے، تحریک آزادی میں صف اول میں شامل رہنے والی تنظیم جمعیۃ علماء ہند سے جڑ کر قومی یکجہتی اور پیام انسانیت کو عام کرنی کی کوشش کریں، مجاہدین آزادی کی تاریخ کو پورا سال بیان کریں۔


کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر حضرت مولانا عبد الرحیم رشیدی صاحب نے فرمایا کہ ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔ آج فرقہ پرست طاقتیں مجاہدین آزادی کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کررہی ہیں بالخصوص حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ پر بے جا تنقید کی جاتی ہیں، جو جنگ آزادی کے اولین مجاہدین میں سے ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جس طرح آزادی وطن میں تمام مذاہب والوں نے ایک ہوکر قربانیاں پیش کی تھیں اسی طرح اپنے آباؤ اجداد کی روشن تاریخ کی حفاظت اور اس ملک کی ترقی اور سلامتی کیلئے تمام مذاہب والوں کو متحد ہونا پڑے گا اور ایک ہوکر کام کرنا پڑے گا۔


قابل ذکر ہیکہ اس عظیم الشان جشن یوم آزادی کانفرنس کا آغاز قاری اسامہ کی تلاوت اور قاری فخر الاسلام کبیر نگری کے نعتیہ اشعار سے ہوا۔ مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی نے تمام مہمانان کا استقبال کیا۔ اسٹریم میں مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی خاص طور پر شریک تھے۔اپنے خطاب میں تمام اکابر علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کے خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا اور حضرت مولانا عبد الرحیم رشیدی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad