تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 19 مئی، 2020

سپریم کورٹ نے ارنب گوسوامی معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کرنے سے اکیا نکار۔

نئی دہلی(یواین اے نیوز19مئی2020)سپریم کورٹ نے مہاراشٹرا کے پال گھر میں دو سادھووں سمیت تین افراد کی پٹائی کے معاملے میں ریپبلک ٹی وی کے چیف ایڈیٹر  ارنب گوسوامی کے خلاف درج ایف آئی آر کو سی بی آئی کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ کے بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 (1) (اے) کے تحت صحافی کا حق شہری کے بولنے اور اظہار رائے کے حق سے زیادہ نہیں ہے۔

بنچ نے کہا کہ آرٹیکل 32 کے تحت ایف آئی آر پر کوئی سماعت نہیں ہو سکتی۔درخواست گزار کو مجاز عدالت کے روبرو اس کا ازالہ کرنے کی آزادی ہے۔ صرف یہی نہیں ، سپریم کورٹ نے بانڈرا میں مسجد کے سامنے جمع ہجوم سے متعلق ارنب گوسوامی کی درخواست کو بھی مسترد کردیا ہے اور راحت کے لئے مجاز عدالت جانے کا کہا ہے۔

بینچ نے اس سے پہلے 24 اپریل کو منظور کیے گئے عبوری حکم کی تصدیق کی ہے ،جس میں متعدد ایف آئی آر بیک وقت ممبئی منتقل کردی گئیں۔ 24 اپریل کو دی جانے والی عبوری سیکیورٹی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کی گئی ہے تاکہ ایف آئی آر کے سلسلے میں مناسب اقدامات کرنے کا اہل بن سکے۔ بنچ نے ممبئی پولیس کمشنر کو بھی ان کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔بینچ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اسی ایکشن کی وجہ سے ان کے خلاف مزید ایف آئی آر نہیں ہونی چاہئے۔

گیارہ مئی کو بینچ نے مذکورہ رٹ پٹیشن پر حکم محفوظ کرلیا۔ گوسوامی نے ممبئی پولیس کی غیر جانبداری پر شبہ کرتے ہوئے تحقیقات کو سی بی آئی میں منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل بنچ نے ایف آئی آر کے فیصلے تک سخت کارروائی سے عبوری تحفظ فراہم کیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad