تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 14 مئی، 2020

ہم تحریر کیوں سیکھیں؟؟؟

طاہر ندوی دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنؤ
اللہ رب العزت نے کائناتِ عالم میں بود و باش اختیار کر نے والے انسانوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔
آسمان و زمین کی پیدائش، چاند، سورج اور گردش کرتے ستاروں کی تخلیق،
ہواؤں اور پانی کا نظم ونسق ، دریاؤں اور سمندروں کا بندوست، انسانوں اور حیوانوں کی تخلیق کاری،
الغرض زندگی گزارنے کے  سارے لوازمات مہیا کئے۔

انہیں نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت " قلم " ہے۔
قلم ایک نعمت ہے اور لکھنا ایک مقدس عمل۔

اس سلسلے میں ایک اقتباس کا پیش کرنا مفید ہوگا!!!

حضرت مفتی ابو لبابہ شاہ منصور صاحب اپنی کتاب " تحریر کیسے سیکھیں" میں رقم طراز ہیں :
جب قلم کی نوک کاغذ کے سینے پے چلتی ہے تو حروف جنم لیتے ہیں، حروف و الفاظ کے سنگم سے جملے وجود میں آ تے ہیں، جملوں کی ترتیب اور ملاپ سے پیراگراف تشکیل پاتے ہیں، اسی طرح ہزاروں الفاظ، سینکڑوں جملے،  اور بیسیوں پیراگراف آپس میں ایک دوسرے سے مربوط ہوکر تحریر کا روپ دھار تے ہیں اور اس طرح ایک تحریر عدم سے وجود میں آ تی ہے!!!!

اب آئیے اصل مقصد کی طرف۔۔۔۔۔
ہم تحریر کیوں سیکھیں؟؟؟؟؟؟
بزمِ سائبان کے نو شگفتہ پھولوں !!!!!

قلم کے ذریعہ دینِ اسلام کی حفاظت، احکامات و فرمودات کی تبلیغ و اشاعت، نبوت و رسالت کی پاسبانی، دشمنانِ اسلام سے زور آزمائی،
باطل طاقتوں اور مخالفین کی سرکوبی، اسلام مخالف پالیسیوں اور اقدامات کا سدِ باب،
فرعونی و طاغوتی طاقت و قوت، اور مطلق العنان جابر و ظالم حکمرانوں کی حمایت یافتہ دور حاضر کی بے لگام گودی میڈیا اور  ذرائع ابلاغ کا ناحق استعمال کرنے والوں کی روک تھام کیلئے فنِ تحریر کو سیکھنا اور سیکھ کر میدانِ کارزار میں افکارو خیالات، احساسات و جذبات اور زندگی کے تجربات کو بذریعہ قلم صفحئہ قرطاس پر منتقل کرنا عبادت ہی نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی رضا و خوشنودی کا ذریعہ اور عطا کردہ ایک بہت بڑی صلاحیت ہے۔

اب آئیے ثانوی مقصد کی طرف۔۔۔۔
فن تحریر کے ذریعہ معاش بنانے کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟؟؟؟؟
بزمِ سائبان کے چہکتے مہکتے بلبلوں !!!!!
موجودہ دور میں فن تحریر اقتصادی پہلو اختیار کر گیا ہے، بعض مغربی ممالک میں فن تحریر کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔
کالیجیز اور یونیورسٹیز کے طلباء کے لئے تحریر  معاش کا ذریعہ ہے ۔
اگر آپ ایک اچھے لکھاری ہیں ، الفاظ و اصطلاحات کے استعمال پر قدرت اور محاورات پر دسترس حاصل ہے ، تو یقین رکھیں !!
عالمِ اسلام کی تنظیمیں، اخبارات و رسائل، اور جرائد و مجلات کے ادارے آپ کے مضامین کو صفحئہ قرطاس پر قلمبند کرنا اپنے لئے فخرو سعادت سمجھیں گے!!!
نوٹ.......!!!
یہ شرف و عزت اور مقام و منزلت سخت کوش اور محنت کوش لکھاریوں کے لئے ہے ۔ ہر کس و ناکس اس عظیم نعمت سے  بہرہ ور نہیں ہو سکتی!!!!

اور جو احباب کسی تحریک سے وابستگی کے خواہاں ہیں ، ان کے لئے قلم و قرطاس کا فن جاننا ناگزیر ہے ۔
اگر آپ اپنے افکار و نظریات کو الفاظ  کا جامہ پہنانے پر قادر ہیں اور آپ کی باتوں میں وزن ہے اور پختہ دلیلیں بھی۔
تو یقین رکھیں !!!!
آپ کی تحریر بہتوں کو متاثر کرے گی ،  بے شمار لوگوں کو قائل اور توجہات کا مرکز بنیں گی۔۔
اخبار و رسائل کے صفحئہ اوّل پر آپ کے مضامین منقش  ہوں گے اور چار چاند لگا رہے ہوں گے!!!!!

جناب دیر کس بات کی ہے؟؟؟؟؟

محنت کریں  !!!!   آگے بڑھیں !!! اور سستی و کاہلی کی تمام درو دیواریں توڑ ڈالیں !!!!!
یہ کائنات آپ کی منتظر ہے!!!!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad