تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 23 جون، 2020

ایک گمنام شاعر: وسیمؔ اعظمی

محمد سالم سَرَیَّانوی
 قصبہ مبارک پور میں اندرون وبیرون مشہور وبڑے اٹھائیس محلے ہیں، جو کہ مبارک پوری لہجے وزبان میں ’’اٹھائیسووں‘‘ کے نام سے زبان زد ہیں، اسی میں ایک قدیم اور مشہور محلہ ’’سریاں‘‘ ہے، پہلے یہ ایک گاؤں تھا اور املو پردھانی کا حصہ تھا، ابھی تین سال قبل یہ قصبہ کا ایک محلہ بن گیا ہے، ’’سریاں‘‘ سین ، راء اور یاء کے زبرمع تشدید پڑھا جائے گا، آخر میں نون غنہ ہے، یہ محلہ اور علاقہ نہایت قدیم ہے، اس کی قدامت کے بعض آثار اب بھی موجود ہیں، اسی کے پڑوس میں مبارک پور کی مشہور تاریخی جگہ ’’ملک شدنی‘‘ ہے، جو میری ناقص معلومات میں مبارک پور کی سب سے قدیم تاریخی جگہ ہے۔

 مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر صاحب مبارک پوریؒ سریاں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’قصبہ کے مشرقی شمالی گوشے میں چند فرلانگ پر سریاں نامی بستی ہے، یہاں قدیم زمانے میں راج بھر قوم کی بہت بڑی اور خوشحال آبادی تھی، اس کے آثار نمایاں ہیں، اس جگہ کو اینٹور کہتے ہیں، اس کے پاس ملک شدنی ہے۔ یہاں قصبہ کی سب سے قدیم تاریخی یادگار ملک شدنی کا مزار ہے، کہتے ہیں کہ گورکھپور اور کچھار کی طرف جانے والے قافلوں کے لیے یہاں کئی سرائیں تھیں، جن میں مسافر ٹھہرتے تھے، بعد میں کثرتِ استعمال سے ’’سریاں‘‘ ہوگیا۔ (تذکرہ علمائے مبارک پور ص:۶۳)
 محلہ سریاں میں کئی اصحاب علم وفضل پیدا ہوئے، جنہوں نے اپنی زندگی کو علم دین اور اشاعت اسلام کے لیے وقف کردیا، جن میں شیخ عبد الوہاب سریانوی، مولوی شاہ محمد سریانوی، حافظ شاہ نظام الدین سریانوی اور مولانا نیاز احمد صاحب العمری کا نام نمایاں ومشہور ہے، شیخ عبد الوہاب شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کے شاگردوں میں سے تھے، اپنے وقت کے زبردست عالم دین تھے۔ محلہ سریاں میں علماء وفضلاء کے علاوہ شعراء کی بھی ایک تعداد گزری ہے، جنہوں نے شعر وسخن کے ذریعہ اپنی خدمات انجام دیں، افسوس کہ ان کا تذکرہ محفوظ نہیں ہوسکا، زیادہ تر ایسے شعراء گزرے ہیں جو مقامی طور پر شعر وسخن کرتے تھے، اسی طرح ماحول اور گرد وپیش کے موافق نہ ہونے کی وجہ سے گمنام رہے، یہاں شعر وسخن کی سالانہ نشستیں لگا کرتی تھیں، ایسے ہی بڑے پیمانے پر مشاعرے بھی ہوا کرتے تھے، خود ہماری کم عمری میں ہر سال پابندی کے ساتھ ستائیسویں رجب کو مشاعرہ ہوا کرتا تھا، جس کا سلسلہ اب بند ہوچکا ہے۔

 محلہ سریاں میں زیادہ تر کسب معاش کا ذریعہ بُنائی (پارچہ بافی) ہے، تجارت کم ہی لوگ کرتے ہیں، ادھر ایک دہائی قبل سے باہری ممالک میں کسب معاش کے لیے جانے کا ماحول بنا، جو اب بھی جاری ہے، محلے میں کل سات مساجد ہیں، تین مکاتب ہیں، جن میں سب سے قدیم مدرسہ نظام العلوم ہے، جس کی تاسیس پر ایک سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے، چند دہائی پہلے علاقے میں اس مدرسہ کا بول بالا تھا اور لوگ اسی سے خوشہ چینی کرتے تھے۔موجودہ وقت میں یہاں بہت سے علماء وفضلاء کے ساتھ حفاظ کی بھی ایک بڑی تعداد پائی جاتی تھی، اسی طرح شعر وسخن سے وابستہ افراد بھی موجود ہیں۔
 شعر وسخن سے وابستہ افراد میں یہاں کا ایک مشہور نام ’’وسیم اعظمی‘‘ ہے، جو کہ بیرونی سطح پر ایک طرح سے گمنام ہے، اگر چہ قصبہ واطراف میں اس کی شہرت ہے، اس وقت وسیم اعظمی کی عمر ۷۲/ سال مکمل ہورہی ہے، بچپن سے ہی شعر وسخن سے تعلق رہا ہے اور اپنی شاعری سے لوگوں کی رہنمائی کی ہے، لیکن ماحول کی ناسازگاری اور گرد وپیش، نیز گھریلو حالات کی وجہ سے آپ کو وہ شہرت نہیں ملی جس کے آپ حقدار ہیں، تغزل کا ایک خاص ملکہ رکھتے ہیں، نعت ومنقبت، غزل وترانہ اور حالات پر مختلف کلام آپ کے موجود ہیں، اگر ان کو اکٹھا کرکے طبع کرایا جائے تو پورا ایک مجموعہ تیار ہوجائے گا۔ خدا کرے کہ اس کی کوئی سبیل نکل جائے۔ آمین

 کل گزشتہ ہم لوگ (راقم، مولانا محمد یوسف صاحب قاسمی سریانوی اور مولانا ابو الجیش صاحب قاسمی سریانوی) بعد نماز مغرب آپ کے یہاں استفادہ کے لیے حاضر ہوئے تھے، قریب ایک گھنٹہ سے زیادہ ملاقات رہی، مختلف امور پر تبادلۂ خیال ہوا، آپ کے کلام سے بھی لطف اندوزی رہی، آپ ہماری ملاقات سے بہت خوش ہوئے، بوقت عشاء بہت سارے احساسات وتاثرات کے ساتھ ہم واپس ہوئے، اس مجلس میں ہم نے آپ کے کلام کا بہت سا نمونہ دیکھا، ایک نمونہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے، جو آج سے بہت پہلے لکھا گیا ہے، لیکن موجودہ حالات کی عکاسی من وعن کرتا ہے، آپ کے اس کلام میں سوز دروں کو دیکھا جاسکتا ہے، امت مسلمہ کے تئیں بیداری وفکر مندی کو محسوس کیا جاسکتا ہے، حکومتی بے حسی پر نقد کو دیکھا جاسکتا ہے اور یہ جانا جاسکتا ہے کہ ہم اس وقت کس ڈگر پر ہیں اور کیا کرنا چاہیے!

جب سے یہ دنیا تیری نظروں میں جنت ہوگئی
اے غیورِ قوم غارت تری غیرت ہوگئی

چند سکّوں میں سرِ بازار سودا ہوگیا
کتنی ارزاں آج ایماں کی تجارت ہوگئی

ہر گلی کوچے سے آتی ہے صدائے الاماں
پھر دلِ انساں پر نازل قیامت ہوگئی

ڈھونڈتی پھرتی ہے جس کو ہر طرف انسانیت
یہ سنا ہے ہم نے اس انساں کی رحلت ہوگئی

آشیانوں میں ہیں سہمے عندلیبانِ چمن
ہائے کس صیاد کی نافذ حکومت ہوگئی

دیکھ کر حال پریشاں لوگ کترانے لگے
کیا مروت سینۂ انساں سے رخصت ہوگئی

یہ کہا ایک دانۂ گندم نے مجھ سے اے وسیمؔ
خاک میں مل کر ہماری اور عزت ہوگئی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad