تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 14 فروری، 2020

بھارتی جنتا پارٹی کا ملک کے تئیں محبت کا نعرہ سراسرفرضی ثابت ہوا ہے:ہاشمی

رپورٹ۔ حافظ محمد ذاکرمین پوری۔ (یو این اے نیوز 14فروری 2020)بی جے پی لیڈران کو چاہئے کہ وہ اپنی ذہنیت کو صاف کریں،نفرت کی سیاست اب اس ملک میں کامیاب نہیں ہو سکتی،جیساکہ آپ کا انتخاب سے قبل نعرہ تھا ”سب کا ساتھ سب کا،وکاس اور سب کا وشواس“اسی نعرہ کو عملی جامہ پہنائیے،صرف زبان خر چی سے کسی کا بھلا نہیں ہو سکتا،نا ہی ملک کا اور ناہی ملک میں رہنے والوں کا،ان باتوں کا اظہار خیال مین پوری کے معروف ایڈ ووکیٹ احتشام الحق نے نمائندے کیا،انہو نے کہا کہ بی جے پی نے خوددہلی کے انتخاب سے یہ بات واضح طور پر سمجھ لی ہو گی،کہ ملک میں زیادہ دن آپ کی جانبدارانہ سیاست نہیں چل سکتی،دہلی کے حالیہ انتخاب میں کس قدرمسلم قوم کو نشانہ بنا یا گیا،

انسانیت کے حدود سے بھی کچھ بی،جے،پی لیڈران گزر گئے،بی جے پی نے دہلی انتخاب صرف اور صرف شاہین باغ یعنی مسلمانوں کو نشانہ بنا کر ہی لڑا،کبھی شاہین باغ کو پاکستان علاقہ بتا نا،وہاں احتجاج کر نے والی خواتینوں کو(جس میں ہندو مسلم سکھ عیسائی سبھی شریک تھیں)پانچ سو روپیہ کا بکنے والا بتایا،گولی مارنے جیسے نعرے، کرنٹ لگنے والے جملے، یہی سب وہ باتیں تھیں جسے سیکولر ذہن کے ہندوستانیوں کو تکلیف دہ لگیں،اس بات کا احساس وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی ہوا،لیکن احساس اسوقت ہوا جب چڑیاں کھیت چن گئیں،دہلی کے حالیہ انتخاب سے بی جے پی نے بخوبی سمجھ لیا ہوگا کہ اب ملک میں جانبدارانہ اور نفرت والی سیاست کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، 

اسی موقعہ موجود ہاشم منصوری نے کہا کہ اب بی جے پی کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے،ہندوتوا کے سہارے آپ نے اقتدار تو حاصل کر لیا مگر آپ ہندتوا ذہنیت کے لوگوں میں بھی کھرے نہیں اترے،آزادی کے بعد جب اس ملک کو ایک جمہوری ملک تصور کیا گیا تو پھر آپ کس طرح ہندوتوا کے پرچم کو لہرانے کوشش کر رہے ہیں،بی جے پی والے ایک مرتبہ، دومرتبہ مصنوعی ہندوتا کا چولا پہن کر اکثریت کو گمراہ کر سکتے ہیں،مگر ہر بار نہیں؟آپ کی پالیسی کو ایک ایک ہندوستانی سمجھ چکا ہے،آپ صرف اقتدار کے بھو کے ہیں،ملک سے محبت کا نعرہ آپکا سراسرفرضی ہے،اس موقعہ پرموجود عبداقیوم انصاری نے کہا کہ بی جے پی کو ملک سے محبت ہے،تو بتائیں آپ نے کتنی اسمارٹ سٹی تعمیر کیں،کتنے کالج کتنی یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لائے،انہو نے کہا کہ صرف بیت الخلاء کی تعمیرات کو ترقی نہیں کہتے،کسان کی خوشحالی،تاجروں کے چہروں پر مسکراہٹ، سستی تعلیم،بہتر طبی سہولیات،بے روزگاروں کو ملازمت،یہ ہیں وہ کام جسے ملک کی ترقی کی بنیاد کہا جا سکتا ہے،

انہو نے کہا کہ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے  نوجوانوں کی ملازمتیں گھٹ گئیں،تمام فیکٹریاں بند ہو گئیں،ملک کی معاشی حالت  بہت خستہ ہے،جبکہ بی جے پی نے اپنے اقتدار میں آنے سے قبل کروڑوں ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا،آئین ۰۷۳کشمیر،مندر،تین طلاق اوریہ نئے نئے ایکٹ،ان سب باتوں سے وقتیہ طور پر اکثریتی طبقہ کے چند لوگوکو خوش تو کر سکتے ہیں،مگر ملک میں خوشحا لی نہیں لا سکتے،ترقی کے لئے شرط ہے کہ آپ اپنے نعروں ”سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواس“ عمل پیرا ہوں،نہیں تو وہ دن دور نہیں جب  بی جے پی مکت بھارت بن جائیگا،

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad