تازہ ترین

Post Top Ad

Wednesday, March 4, 2020

برطانوی پارلیمنٹ میں دہلی تشدد کی گونج، برٹش حکومت نے انتہائی تشویشناک قراردیا

 لندن(یو این اے نیوز 5مارچ 2020)برطانوی حکومت نے ایک بار پھر شہریت ترمیمی ایکٹ کےممکنہ اثرات پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے شمال مشرقی دہلی  کے تشدد کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ تسلیم کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی برٹش حکومت نے منگل کو ہاؤس آف کامن (برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں) میں دہلی تشدد کے تعلق سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ وہ ہندوستان کے حالات پر باریکی سے نظررکھے ہوئے ہے۔برطانوی وزیر مملکت برائے دفتر خارجہ ودولت مشترکہ (ایف سی او)  نائیجل ایڈمس نے بتایا کہ برطانیہ حقوق انسانی سمیت ہندوستان سے ہر سطح اور تمام امور پررابطہ میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’برطانوی حکومت نئے قانون (سی اے اے) کے اثرات کے تعلق سے بھی فکر مند ہے۔‘‘ایڈمس جو وزارت خارجہ میں ایشیائی امور کے ذمہ دار ہیں، نے مزید بتایا کہ ’’ہندوستان کے ساتھ قریبی روابط کے سبب ہم ان کے ساتھ مشکل معاملات کو بھی اٹھاسکتے ہیں اور اقلیتوں کے حقوق سمیت اپنی  تمام تشویشات کو دور کرسکتے ہیں۔

 لیبر پارٹی کے اراکین پارلیمان تمن جیت سنگھ دھیسی اور پریت کور گل  کے ساتھ ہی ساتھ  پاکستانی نژاد رکن  پارلیمان خالد محمود کے سوالوں کا جواب د یتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہم حالات پر باریکی  سے نگاہ رکھیں گے اور جب کوئی تشویش محسوس ہوگی ہم اس پر ان سے گفتگو کریں گے۔‘‘تمن جیت سنگھ اور  پریت کور نے ۱۹۸۴ء کے فسادات کا بھی حوالہ دیا اور برطانوی حکومت سے پوچھا کہ ہندوستان میں  مذہبی اقلیتیں خود کو محفوظ محسوس کریں،اس کیلئے برطانوی حکومت نے کیا قدم اٹھائے ہیں۔ بحث کے دوران چند اراکین آسام اور جموں  کشمیر کے حالات کا بھی حوالہ دیا۔ا س موقع پر رکن پارلیمنٹ نصرت غنی نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تشویش اور فکر مندی سے حکومت ہندکوفوری طور پر آگاہ کرے۔  اسکاٹش نیشنل پارٹی کے  رکن الین اسمتھ نے ہندوستان میں  پھیلائی جارہی ہے فیک نیوز کا معاملہ بھی حکومت ہند کےساتھ اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ 

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad