تازہ ترین

Post Top Ad

Thursday, March 5, 2020

صنف نازک کے عزم کو سلام:دیوبند کی عیدگاہ میں سی اے اے کے خلاف احتجاج جاری

دیوبند:دانیال خان(یواین اے نیوز5مارچ2020)دیوبند علم و ادب کی سر زمین ہے ہر دور میں یہاں کے شعرا،ادباء اور علما ء نے تحریک کو مہمیز دینے میں اہم رول ادا کیا ہے،چاہے ہندوستان چھوڑو تحریک ہو،نمک تحریک ہو یا پھر ریشمی رومال تحریک۔1857میں ہونے والے غدر کے بعد سے دیوبندد کو ملک کی مختلف تحریکات میں حصہ داری کی مرکزیت حاصل رہی ہے، یہاں کے شعرا،ادباء اور علما ء نے ہمیشہ ملک میں جو بھی تحریکات چلی ان میں مرکزی کردار ادا کیا،جنگ آزادی کی تحریک ہو یا اس کے بعدملک کے تقسیم کے وقت وطن میں رہنے والی تحریک یہاں کے علماء نے ہمیشہ سے اپنے کردار کو ملک کی سالمیت اور اس کے اتحاد کے لئے وقف کئے رکھا 1857میں جب ملک پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا تو علمائے دیوبند نے تحریک ریشمی رومال اورنمک تحریک کے ذریعہ بیک فٹ پر لا دیا۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی،علامہ انور شاہ کشمیری،علامہ شبیر عثمانی،مولانا حسین احمدد مدنی اور انکے دیگر شاگردوں نے ان تحریکات میں بھر پور حصہ داری کی اور جب ملک کی تقسیم کا وقت آیا تو علمائے دیوبند نے لوگوں کو وطن میں ہی رہنے کے لئے یکجہ کیا اور ہدایت کی کہ ہمارا اصل ملک یہی ہے ساتھ ہی تقسیم ہند کی مخالفت بھی کی۔

اسی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے دیوبند کے عیدگاہ میدان میں شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت میںمتحدہ خواتین کمیٹی کے زیر اہتمام خواتین کا غیر معینہ دھرنا جاری ہے،جس کے سبب دیوبند عیدگاہ میدان کا احتجاج عوامی توجہ کا مرکز بن گیاہے،یہاں دن رات 24گھنٹہ متنازع قوانین کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں،تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی میں دیوبند کا اہم رول رہا ہے،اس مرتبہ بھی اس غیر آئینی قانون کے خلاف جو تحریک پورے ملک میںچل رہی ہے اس میں بھی دیوبند نے اہم رول ادا کیا ہے،اس تحریک کی کمان خواتین کے ہاتھوں میں ہے جس میں روزانہ کثیر تعداد میں خواتین شریک ہوتی ہیں اور اس تحریک کو مہمیز دینے میں اہم رول ادا کر رہی ہیں،حکومت خواتین کی اس تحریک سے گھبرائی ہوئی ہے اور وہ مختلف طریقوں سے ان خواتین کو تنگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ضلع پولیس کی جانب سے ستیہ گرہ کو برخاست کرنے کی ہدایت کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے باوجود اس کے مقامی پولیس منظم احتجاجی دھرنے کو آغاز سے ہی برخاست کرنے کے لئے دباؤ بنا رہی ہے اور امن و ضبط کی برقراری کے لئے احتجاج کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے تاہم خواتین اس بات کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں کہ وہ پر امن احتجاج سے دست بردار ہو جائیں لہذا اس خنس میں پولیس نے خواتین اور ان کے اہل خانہ پر مقدمات بھی قائم کر دئے ہیں۔

یہ خواتین انصاف کی امید میں آج بھی بیٹھی ہوئی ہیں، ان کے حوصلہ ابھی بھی ویسے ہی برقرارہیں جیساکہ پہلے دن تھے،انہوں نے اسی امید کے ساتھ ستیہ گرہ شروع کیاتھا کہ انھیں انصاف ملے گا،خواتین کا کہناہے کہ وزیراعظم کبھی کہاکرتے تھے میری ماں اور بہنیں لیکن آج کون سی آفت آپڑی ہے کہ انھیں یہ چیخیں سنائی نہیں دے رہی ہیں،ہم اپنے بچوںکو چھوڑ کر آئین ہند کوبچانے نکلیں ہیںاور انصاف کامطالبہ کررہی ہیں اور گزشتہ27جنوری سے اس امید کے ساتھ غیر معینہ دھرنے پر ہیں کہ مرکزی حکومت ہمارے اس جائز اور پر امن احتجاج کو سمجھے گی اور اس پر توجہ دے گی اور پورا ملک جو اس وقت خلفشار کا شکار ہے اس کو اس سے نجات ملے گی۔واضح ہو کہ دیوبند کا عیدگاہ میدان اس وقت اتحاد کی علامت بنا ہوا ہے،ملک کی وہ تحریکات وہ طریقہ کار جو بابائے قوم مہاتما گاندھی نے اپنائے ان کو پیش کرکے یہاں کی خواتین پورے ملک کو ایک پیغام دے رہی ہیں،گزشتہ روز سے یہاں پر مختلف خواتین وقتا فو وقتا چرخا کاتکر گاندھی جی کے پیغام کو عام کرنا چاہتی ہیں اور یہ حقیقت سامنے لانا چاہتی ہیں کہ ہم سودیشی ہیں،ہم ملک کے پہرے دار ہیں،ہم ہندو مسلم اتحاد کے الم بردار ہیں،گاندھی جی نے جس چرخے کے ذریعہ انگریزوں کو ایک چیلنج پیش کیا تھا آج اسی چرخے کے سہارے مرکزی حکومت کو یہ خواتین اپنا چیلنج پیش کر رہی ہیں۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad