تازہ ترین

Post Top Ad

اتوار، 22 مارچ، 2020

بہار میں کورونا سے ایک کی موت،تیاریاں نمک کے برابر،عوام بیٹھی ہے تھالی بجانے،روش کمار

 پٹنہ میں کورونا سے متاثرہ شخص کی موت ہوگئی ہے ۔یہ موت بتا رہی ہے کہ کورونا وائرس کو لیکر یہ ریاست کسی طرح سے تیار نہیں تھا، یہ وقت کسی نیتا کے کےلئے جن مانس کرنے کا نہیں ہے ۔  بلکہ تیاریوں کو لیکر  سخت سوالات کرنے کا ہے. ہم سول سوسائٹی کے طور پر یہ کام نہیں کر رہے ہیں. یہ کام تو ویسے دو مہینے پہلے سے کرنا چاہیے تھا .خیر آپ  لوگوں نے  جو فیصلہ کیا ہو گا وہ سو چ سمجھ کر ہی کیا ہوگا، لیکن کیا اس فیصلے پر پہنچنے سے پہلے آپ نے  تیاریوں کے متعلق تمام حقائق کی تحقیقات کرلئے تھے، انکی جانچ کر لی تھی؟ دو مہینے سے پوری دنیا میں کورونا کو لیکر  دہشت مچی ہوئی ہے  حکومتیں دن رات  جاگ رہی ہیں، لیکن اس کے بعد بھی بہار میں اس کی تیاری کا عالم  یہ ہے کہ مریض اسپتال میں مر گیا،اسکی لاش لیکر  اہل خانہ کے لوگ لیکر چلے گئے اور اسکے کئی گھنٹے بعد پٹنہ میں بتایا جاتا ہے ہیکہ جو مرا ہے اسکی رپورٹ کورونا پوزیٹو ہے۔ 

 آپ غور کیجیے . مریض کی موت ہوگئی ہے اسکے اہل خانہ کے لوگ لاش لیکر چلے گئے ہیں ،انھیں پتا نہیں ہیکہ پوزیٹو ہے لاش کو گھر میں رکھا گیا ہوگا ،اسکی تدفین میں کچھ لوگ بھی شامل ہوئے ہونگے. مریض  بہار کے منگیر ضلع کا ہے  جب پٹنہ میں تیاری دیکھاوے کی ہے تو منگیر میں کیا ہوگا  کس طرح سسٹم کی سستی نے عام شہریوں کی جان خطرے میں ڈالی ہے ،یہی نہیں  یہ شخص  قطر سے آیا تھا.  پٹنہ ہوائی اڈے پر اسکی جانچ ہوئی تھی ،اسے جانے کے لئے کہ دیا گیا  کچھ صحافیوں نے بتایا کہ یہ منگیر گیا. وہاں گردے میں تکلیف ہوئی تو بس سے پٹنہ کے ایمس اسپتال  پہنچا۔ سفر کے دوران، اس بس میں سوار کتنے مسافروں کو  منتقلی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس کا اندازہ آپ نہیں کرسکتے ہیں  معلوم ہوا ہے کہ ہوائی اڈے پر اسکریننگ کے نام پر دراصل کیا  ہورہا تھا کیا یہی  تیاری تھی  بہار کی کہ کوئی متائثر شخص اتنی آسانی سے نکل گیا ۔ حال حال تک پٹنہ میں،  کوئی لیب نہیں بنا تھا جہاں نمونہ کی جانچ ہو سکے . کولکتہ نمونہ بھیجا گیا تھا. 18 مارچ کو بی بی سی ہندی کے نیرج پریہ درشنی  نے ایک رپورٹ میں اس کا  ذکر کیا ہے. یعنی تین  دن پہلے تک پٹنہ میں   نمونہ ٹیسٹ کا کوئی انتظام نہیں تھا 20 مارچ کے  ٹائمس آف انڈیا میں رپورٹ کیا گیا ہیکہ  پٹنہ کے راجندر میموریا  ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس  ٹسٹ ہوگا  اور دربھنگہ میڈیکل کالج کو ٹسٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہے یہ کسی کو نہیں معلوم ایک دن میں کتنے سیمپل ٹسٹ ہوسکتے ہیں۔

 یہ سوال بہت ضروری ہے . لوگوں سے پوچھنے پر پتا چلا رہا ہے کہ ایک دن  میں   60-70 نمونے کی جانچ ہوسکتی ہے  یہ حالت ہے  بہار کی  کیا ایسے ہم کو رونا وائرس سے لڑیں گے؟ بہار کی آبادی تقریبا 11 کروڑ ہے. کیا آپ تھالی بجانے سے پہلے  یہ نہیں جاننا چاہنگے کی یہاں پر ممکنہ مریضوں کے لئے کتنے بیڈ تیار کیے گئے ہیں؟   20 مارچ کو، ٹائم آف انڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ پورے بہار میں آئی سولیشن کےلئے محض  356 بیڈ کا اہتمام کیا گیا ہے. صرف 356 حکومت پٹنہ کے دو سرکاری اسپتال میں 100 بیڈ کا انتظام اور کرنے والی ہے  اس میں سے بھی پٹنہ میں 100 بیڈ ہی ہیں 
پی ایم سی ایچ میں . 60 اور نالندہ میڈیکل کالج میں 40 باقی بہار کے  250 بیڈ؟ 

یہی نہیں ٹائم آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پورے بہار  میں 274 آئی سی یو وارڈ کی  نشاندہی کی گئی ہے .حکومت نے یہ نہیں کہا ہیکہ کہ الگ سے 274 وینٹیلیٹرکی تیاری کی گئی ہے کیا جو پہلے سے آئی سی یو ہیں ان ہی کو گن لیا گیا ہے ؟۔ نشاندہی کرنے  کا کیا مطلب  ہے؟ اگر موجودہ آئی سی یو کو گن لینگے تو کیا انکے سیریس مریض کو نکال کر باہر  کردیا جائے گا   کیا یہ ہوسکتا ہے ؟ اگر یہ پورے بہار  کے سرکاری اسپتالوں میں آئی سی یو  وارڈ کا آنکڑا ہے  ، تو آپ تھالی بجانے کے بجائے  سوال کریں . سوچیں کی   عام دنوں میں بہار کے مریضوں کا کیا حال ہوتا ہوگا. 11 کروڑ کی آبادی میں صرف 274 آئی سی یو؟ کیا آپ بغیر وینٹیلیٹر کے علاج کروالینگے ؟ کیا تھالی بجوانے والوں نے آپ کو  بتایا اور آپ نے پوچھا کہ سانس میں تکلیف ہوگی تو وینٹیلیٹر  کہاں سے آئے گا، آیا ہے یا نہیں آیا ہے ؟

 بہار وزیر اعلی اور وزیر  صحت وغیرہ ہیں تو بتادیں  کی پی ایم سی ایچ اور نالندہ میڈیکل کالج میں جو 100 وارڈ بنے ہیں  انکے ساتھ کتنے آئی سی یو  جوڑے گئے ہیں؟پی ایم سی ایچ میں دو آئی سی یو ہیں چلو مان لیتے ہیں کہ  ایک آئی سی یو میں کوئی دس پندرہ بیڈ ہونگے  ۔زیادہ سے زیادہ دونوں ملا کر تیس چالیس بھی نہیں ہونگے ایک شہری کے طور پر، آپ سے بھی سوال  ہیں، کیا آپ نے اسکی جانکاری لی تھی کیا تیاری ہے یا تھالی خریدنے چلے گئے تھے گھر میں نمک نہیں ہوگا، کوئی تو کہے گا کہ نمک نہیں ہے. نمک لانا ہے . میں وہی کر رہا ہوں. نمک نہیں ہے یہ بتانا  منفی ہونا  نہیں ہے. آپ دیکھیئے  اپنی آنکھوں سے ، آج اگر جنتا  کرفیو ہے، تو پولیس کیوں لاٹھی سے لوگوں کو مار کر بھگا رہی ہے ۔   جب آپ نے جنتا  پر چھوڑا ہے  تو  ایک بار آزما لیتے اس میں  پولیس اور ڈی ایم کیا کر رہے ہیں. یاد رکھیئے ہم سبھی  زندگی اور موت کی ایک ہی کشتی پر سوار ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad