تازہ ترین

Post Top Ad

بدھ، 13 مئی، 2020

صلہ رحمی اور اخروی فوائد

محمد ضیاءالحق ندوی
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
عصرحاضرمیں حریت اور حقوق کے دلفریب آغوش میں آزاد سماج و سوسائٹی تشکیل پارہی ہے جس میں ایک طرف کسی قسم کی قدغن نہ ہونے کی وجہ سے گناہ اور غیرنیچرل سرگرمیاں سماج وسوسائٹی کوگھن کی طرح چاٹ رہی ہے اور دوسری طرف خاندانوں  رشتہ داروں میں رائج  مطلوبہ  صفات حمیدہ دم توڑ رہی ہیں ،صلہ رحمی ، باہمی تعاون ،غم خواری و ہمدردی اورحسن سلوک جوخیرامت کاشیوہ اور شعاررہا ہے یہ صفات حمیدہ اورعمدہ روایات اب عنقاہوتی جا رہی ہیں،دین اسلام جہاں سماج و سوسائٹی کو گناہوں سےبچنےکےلئے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کاوسیع و مستحکم نظام دیتاہے،وہیں خاندانوں  ،رشتہ داروں اوران کی صفات حمیدہ اورعمدہ روایات کی بقاء کےلئے صلہ رحمی کے اصول وقوانین کوضروری قرار دیتا ہے.وہ کونسی شئی مرغوب و مطلوب ہے  جسے صلہ رحمی کہا جاتا ہے ؟توسپرد یہ کہ   لفظ"صلہ"   وصل سے مشتق ہے جس کےلغوی معنی جوڑنےاورملانے کے ہیں.اور رحم کےلغوی معنی  شفقت،رحمت اورہمدردی کے ہیں،یہاں رحم اپنے مجازی معنی رشتہ داری کے ہیں،یعنی صلہ رحمی کہتےہیں اپنے نسبی اورسسرالی رشتے داروں کےساتھ حسن سلوک اورخیرخواہی کرنے کو"أحسن الی الاقربین الیہ من ذوی النسب والاصہار،وعطف علیھم ورفق بھم وراعی أحوالھم  "معجم الوسیط "

 صلہ رحمی کی اہمیت :
 قرآن واحادیث میں بہت سی جگہوں میں صلہ رحمی کی تاکیدآئی ہے اورقطع رحمی پر وعید بھی،  چنانجہ اللہ جل جلالہ وعم نوالہ کا ارشاد ہے"اس اللہ سےڈروجس کے نام پرایک دوسرے سے مانگتےہو اوررشتےناتے توڑنے سےبھی بچوبےشک اللہ تعالی تم پرنگہبان ہے" "سورہ نساء ۱" اس آیت میں" ارحام" سے مراد رشتہ داریاں ہیں جورحم مادر کی بنیادپرقائم ہوتی ہیں اس سےمحرم اورغیر محرم دونوں رشتے مراد ہیں،یعنی آدمی کے والدین ،بہن بھائی ، بیوی بچے،خالہ پھوپھی، چچااوران کی اولاد وغیرہ یہ تمام رشتےدار صلہ رحمی میں آتے ہیں، اسی طرح والدین کے دوست واحباب جن کے ساتھ ان کےتعلقات ہوں ان سب کےساتھ صلہ رحمی کرناچاہیے،جب ان کےحقوق ادانہ کئےجائیں ان کی مددونصرت اور ان کےساتھ اچھےتعلقات قائم نہ کئےجائیں تواسے قطع رحمی کہتےہیں.قرآن مجید میں قطع رحمی کرنےوالوں کو لعنتی قراردیاگیا ہے نیزقطع رحمی اشقیاء کی عادات اورکبیرہ گناہ میں سے ہے.قطع رحمی کےبارےمیں قرآن مجیدمیں یوں بیان کیاگیا ہے.ترجمہ :"اورجو اللہ کےعہدکواس کی مضبوطی کےبعدتوڑ دیتے ہیں اورجن چیزوں کے جوڑنےکااللہ نےحکم دیاہے انہیں توڑتے ہیں اورزمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کےلئے لعنتیں ہیں اور ان کےلئے براگھرہے" سورہ رعد  ۲۵" حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا"اللہ تعالی نے مخلوق کوپیدا کیااور جب اس سےفارغ ہوئےتوصلہ رحمی کہنے لگی،ہاں! یہ اس کامقام ہے جوتوڑ نے سےتیری پناہ چاہتاہے،اللہ تعالی نے فرمایا:کیاتواس بات سے راضی نہیں کہ جوکوئی تجھ کوجوڑے اسےمیں بھی جوڑوں گااورجو کوئی تجھےتوڑے میں بھی اسے توڑوں گا؟صلہ رحمی نےکہا:میں اس پر راضی ہوں. اللہ تعالی نے فرمایا:میں نےیہ مقام تجھے دے دیاہے.حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرتم چاہو تو  پڑھو.ترجمہ "اورتم سےیہ بھی بعید نہیں کہ اگرتم کوحکومت مل جائےتوتم زمین میں فسادبرپاکردو اوررشتے ناتے توڑڈالو" "محمد ۲۲""صحیح بخاری. کتاب الأدب باب من وصل وصلہ اللہ رقم الحدیث۵۹۸۶" اس میں فساد فی الارض کی عمومااورقطع رحمی کی بالخصوص ممانعت اور اصلاح فی الارض اور صلہ رحمی کی تاکیدہے احادیث میں اس کی بڑی فضیلت وارد ہے چنانچہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا"جوشخص یہ چاہتاہوکہ اس کےرزق میں برکت ہو،اس کی عمر لمبی ہو،اسےچاہیےکہ صلہ رحمی کواپنائے "صحیح بخاری. کتاب البیوع. باب من أحب البسط فی الرزق رقم الحدیث .۲۰۶۷صلہ رحمی کامطلب یہ ہے کہ رشتےداروں کےساتھ اچھے تعلقات قائم کئے جائیں،ان کی مدد اور خیرخواہی کی جائے،صلہ رحمی یہی نہیں کہ مال ہی سےمددکی جائے بلکہ صلہ رحمی یہ بھی ہے کہ رشتےداوں کےیہاں آمد و رفت رکھےجائیں جو اپنے تعلقات استوار نہیں رکھے ہیں ان سے تعلقات استوار کئے جائیں،  جوآپ سے دور  ہیں آپ اسے قریب ہوئیے اور دشمنی لاکھ سہی رشتہ داروں سے محبت و مودت کےساتھ پیش آئیے، شاعرنے کیاخوب کہا ہے
 *دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجیے رشتہ 
  دل ملےیا نہ ملےہاتھ ملاتےرہیے* 

صلہ رحمی ہمیشہ انبیاءعلیہم السلام کاشعاررہا ہے، صلہ رحمی کرنےوالوں کی قرآن میں مدح سرائی کی گئ ہے ارشاد باری ہے: ترجمہ"اوراللہ نےجن چیزوں کوجوڑنےکاحکم دیاہے وہ اسےجوڑتےہیں ، اوروہ اپنےپروردگارسے ڈرتےہیں اورحساب کی سختی کااندیشہ رکھتے ہیں " الرعد ۲۱ ایک شخص ایک مرتبہ سفر کےارادےسےروانہ ہوا،راستےمیں اتفاق سے بارش شروع ہوگئ تو وہ   پناہ لینےکی غرض سے ایک غارمیں گھس گیا ابھی غارمیں گھسے ہی  تھا کہ پہاڑ  کے اوپر سے ایک چٹان لڑھکتا ہوا آیااور غار کے منھ کوبندکردیا جب زندگی سے ناامیدہوگیا تو اس نے اللہ تعالی سےدعا کی اوراپنی صداقت وسچائی کا واسطہ دیا  کہ اے اللہ! تجھےمعلوم ہےکہ میرے یہاں ایک شخص نے معمولی اجرت کےبدلے میں مزدوری کی تھی. کام سےفارغ ہونےکےبعد جب میں نےاسےاجرت دینے کی کوشش کی تووہ اسےچھوڑ کر چلاگیا.میں نے اسکی اجرت تجارت میں لگادی اورتھوڑے ہی عرصہ میں اس مزدوری سے مال میں بہت اضافہ ہوا اور میں نے اس سے اونٹ ،گائے ،بکریاں اور غلام خریدا ایک عرصہ کے بعد وہ مزدور پھراپنی اجرت  لینے آیا میں نے اس شخص سےکہا کہ یہ اونٹ ،گائے،بکریاں اور غلام لےجاؤ تووہ حواس باختہ اورحیران ہوکر کہنے لگاکہ میری مزدوری تومعمولی تھی.  میرا مزاق نہ اڑاؤ میں نے جواب دیاکہ اسی اجرت  سےیہ سب ہے چنانچہ وہ یہ سب کہ سب لےکر چلاگیا. الہی اگرمیں نے یہ عمل تیری رضامندی کے لئے کیاتھاتو اس غار سے اس چٹان کوہٹادیجئے  اس دعا کےبعد چٹان غارسے ہٹ گیا اور یہ شخص باہر نکل آیا . 

 قارئین کرام ! ان تمام باتوں سےیہ ثابت ہوئی کہ صلہ رحمی اللہ رب العزت کوبہت پسندہے اور قطع رحمی مبغوض و مذموم چیز ہے، قطع رحمی کرنے والوں کے بارےمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: "قطع رحمی کرنےوالا جنت میں نہیں جائےگا" "صحیح بخاری کتاب الأدب. باب اثم القاطع رقم الحدیث ۵۹۸۴"لیکن افسوس صدافسوس کہ آج ارباب اقتدار صاحب مال و منال نے دولت کے نشے میں بدمست ہوکر قرابت داری کے تانےبانے بکھیردیے ہیں،کمزوراورغریب طبقہ کےلوگوں کےساتھ صلہ رحمی کےبجائے قطع رحمی کرتے ہیں،ان سے ملنے اوربات کرنے میں اپنی بےعزتی سمجھتے ہیں،اور اسی کےساتھ صلہ رحمی کرتے ہیں جو ان کےساتھ کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"صلہ رحمی کرنےوالاوہ نہیں ہے جوبدلہ کےطورپرصلہ رحمی کرتاہے.بلکہ اصل میں صلہ رحمی تویہ ہے کہ جب کوئی قطع رحمی کرے تووہ اسے جوڑے" "صحیح بخاری. کتاب الأدب. باب لیس الواصل بالمکافی "اللہ تعالی سےدعاگوہوں کہ ہم مسلمانوں کو صلہ رحمی کی توفیق نصیب فرمائے. آمین یارب العالمین 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad