تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 18 جون، 2020

اسمارٹ فون ,سوشل سائٹس, جدید ٹیکنالوجی مفید یا مضر ایک جائزہ

ازقلم :محمد طاسین ندوی
اللہ تبارک وتعالی نے انسانوں کو پیدا فرماکر انکو زندگی گزارنے اور رہنے سنہے کا سلیقہ بتایا اور ساری تخلیقات اسی حضرت انسان کے لئے فرمائی تاکہ روز بروز انسان راہ ارتقاء کی طرف گامزن رہے ، اس وقت جس دور سے ہم گزر رہے ہیں وہ نہایت ہی حساس اور پرآشوب دور ہے، جہاں ٹکنالوجی کی ترقیاں آسمان کو چھو رہی ہیں تو دوسری طرف حضرت انسان اپنی دنیا و عاقبت کو چند کوڑی کے عوض فروخت کرنے پر تلے ہیں ۔اگر ہم اس وقت کارگہ عالم کا جائزہ لیں تو یقینا یہ روز روشن کی طرح عیاں  ہوجائیگا کہ کونسا گھرانہ و کنبہ اور خاندان ایسا نہیں ہے جس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون -دجالِ وقت- نہ ہو اور اگر کسی کے پاس نہیں ہے تو گویا اس کی دنیا تاریک تر ہے اور وہ اپنا وجود کو کوستے اور لعن طعن کرتے ہیں کہ تم کہاں ہو اس دور ترقی میں ایک اسمارٹ فون تیرے پاس نہیں ؟ اگر کسی کے پاس اسمارٹ فون ہے اور وہ یومیہ کمائی سے اپنا اور اپنے اہل وعیال کے خورد ونوش کا انتظام کرتا ہے وہ بھی موبائیل و انٹرنیٹ میں ایسا مستغرق ہیکہ کمائی میں سے ایک بڑی رقم اسی پر صرف کرتا ہے اور جو خوشحال و فارغ البال ہے اسکا کیا کہنا دنیا ان کی مٹھی میں ہوتی ہے انکے کم سن بچے اور بچیاں کے ہاتھ برانڈیڈ اسمارٹ فون سے نیچے نہیں ہوتے اور یہ ایک یہودی پالیسی ہیکہ انسان کو کیسے الجھاکر اپنا الو سیدھا کریں چنانچہ وہ اپنے حربے میں کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے.

ہمارے چھوٹے اور کم سن بچوں کے پاس  موبائیل,انٹرنیٹ نت نئے ایجادات ہیں وہ کرتے کیا ہیں اس نئی ایجادات و اسمارٹ فون کے ذریعہ تو آئیے میں بتاتا ہوں اکثرو بیشتر بچے حیاسوز،اخلاق سوز یہاں تک کے ایمان سوز سیریل و مسلسلات کی طرف اپنا قدم بڑھاتے ہیں اور نہ جانے اس کا یہ قدم بڑھتا ہوا کس قعر مذلت و رذالت میں جاگرتا ہے اس کا مشاہدہ اس روئے زمین پر رہنے بسنے والے خوب کرتے ہیں اور آئے دن ایسے واقعات اور حادثات رونما ہوتے ہی رہتے ہیں ، یہ اوراس جیسے ڈھیرسارے نقصانات ہیں جس کا شمار اس مختصر مضمون میں محال ہے.البتہ جدید ٹکنالوجی اور سماجی ویب سائٹس کی منفعت سے آنکھیں بند کرلینا تقاضۂ انصاف نہیں۔

تو اس کے فوائد پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اگر سماجی سائٹس کا صحیح استعمال سکھایا جائے تو وہی نو عمر اور کمسن بچے اس سے بہت استفادہ کر سکتےہیں, چونکہ اسوقت دنیا بالکل بیت عنکبوت کی طرح مربوط ہے اس لئے اس سے جان چھڑانا بہت ہی مشکل اور کٹھن ہے البتہ  اپنے کم سن بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھا جائے اور اپنی نگرانی میں اسے نیٹ وموبائیل کے استعمال کی اجازت دی  جائے. اس کے مثبت و اچھے استعمال سکھائے جائیں کیونکہ نئی ایجادات کے فوائد سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا نیز  اسکے فساد و منفی اثرات اسکے فائدے سے زیادہ ہیں لیکن اس وقت یہ دنیا کی اہم ترین ضرورت ہیکہ ہم اسے استعمال کریں ۔ اس کے اندر کی خوبیاں اخذ کریں اور اسکو اپنی زندگی کے اندر اپنانے کی مساعئ  جمیلہ کریں کیونکہ کوئی بھی چیز دو پہلووں کاحامل ہوتی ہے منفی و مثبت اب اس کے استعمال کرنے اور کروانے والے کو چاہئیے کہ اس کے ذریعہ ایسے پھول سے اپنا دامن بھرے جس سے دامن نہ الجھے اور نہ داغدار ہوں

یہی جدید ٹکنالوجی ہے جس کی وجہ سے انسان کےسالوں، مہینوں اور گھنٹوں کے کام منٹوں میں ہورہے ہیں، ایک تار جو ہفتوں اور مہینوں بعد منزل مقصود تک پہنچتا تھا اب وہ چشم زدن میں آپ کی نگاہوں کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ انٹرنیت کے فوائد بھی بے شمار اور نقصانات بھی ان گنت ہیں البتہ جو صارف جسطرح کا ہوتا ہے اس سے اسی قدر کسب فیض کرتا ہے اور اس پر تربیت اور تہذیب و ثقافت کا خاصا اثر ہوتا اب یہاں مربیان و اساتذہ اور والدین کاامتحان بھی درپیش ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے نونہالان کی کیا اور کیسی تربیت کی ہے اور ایسا بالکل نہیں کہ کوئی بھی سرپرست، والدین اور ذمہ داران اپنے آل و اولاد کی اچھی تربیت کی فکر نہیں کرتے یقینا کرتے ہیں ان بچوں کی فکر ہمیشہ انہیں دامن گیر رہتی ہے البتہ انسانی نفس ہے جس کہ بارے میں خود باری تعالی نے فرمایا .."*وما أبرئ نفسي إن النفس لأمارة بالسوء *"نفس امارة انسانوں تو برائیوں پر بر انگیختہ کرتا ہے جس کی وجہ سےاکثر انسان اسمیں مبتلا ہوتے ہیں سوائے ان نفوس قدسیہ کے جس پر اللہ کا رحم و کرم ہوجائے.اللہ ہمارے نونہالان کو مثبت فکر، نفس مطمئنہ اور جدید ٹکنالوجی کا مثبت استعمال کرنے والا بنائے. آمین وماتوفیقی الا باللہ رب العالمین۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad