تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 11 ستمبر، 2020

آیوسا کی بہار شاخ کا افتتاح عالمی سطح کے پروگرام میں اردو کے عالمی اتحاد کی ضرورت پر زور

پٹنہ 11 ستمبر (پریس ریلیز)اردو کے فروغ کے لیے نوجوانوں کا اتحاد قابل ستائش قدم ہے۔ نوجوان ہماری تہذیب اور ادب و ثقافت کا مستقبل ہیں۔ اردو کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس عہد کے نوجوانوں پر اردو کی بقا اور تحفظ کی بڑی ذمہ داری ہے۔

 ہم نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے ہر طرح سے ان کے ساتھ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اعجاز علی ارشد نے ”آیوسا“ کی بہار شاخ کی افتتاحی تقریب میں صدارتی گفتگو فرماتے ہوئے کیا۔نوجوان ادیبوں، تخلیق کاروں، صحافیوں، قلمکاروں اور تحریکاروں پر مشتمل بین الاقوامی انجمن ”آیوسا“ (انٹرنیشنل ینگ اردو اسکالرز ایسو سی ایشن) کی بہار شاخ کاا فتتاح گوگل میٹ کے ذریعہ ہوا۔ جس میں دنیا بھر سے دانشوران علم و ادب کے علاوہ بہار سے تعلق رکھنے والے نوجوان اہل قلم اور ادیبوں نے شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اعجاز علی ارشد نے فرمائی جبکہ نظامت کا فریضہ آیوسا بہار شاخ کے کنوینر ڈاکٹر منہاج الدین نے انجام دیا۔ 


پروگرام کا آغاز حذیفہ شکیل کی تلاوت کلام پاک اور محمد عارف حسین کی نعت پاک سے ہوا۔ پروگرام کوآرڈینٹر اور معروف ناقد ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے آیوسا کی بہار شاخ کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس بات کی امید ظاہر کی کہ انجمن کے نوجوان اراکین ریاست میں اردو کے مسائل کو حل کروانے میں مثبت پیش رفت کریں گے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بطور خاص بہار کے سرکاری اسکولوں سے اردو کو بطور لازمی مضمون ختم کیے جانے کے مسئلے پر دانشوران علم و ادب، آیوسا کے ذمہ داران و اراکین کی توجہ مبذول کروائی۔ آیسو کے چیف ایڈوائزر اور چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے صدر شعبہ اردو پروفیسر اسلم جمشیدپوری نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ آیوسا کی شاخیں ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے علاوہ مختلف ممالک میں قائم ہو رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اردو والوں کا یہ عظیم اتحاد اردو کے فروغ اور اردو کے مسائل کو حل کروانے میں معاون ثابت ہوگا۔


انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ آیوسا نوجوان ادیبوں کی فکری رہنمائی کے ساتھ ساتھ روزگار کے سلسلہ میں بھی ان کی بھرپور مدد کرے گا۔ ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے تاریخی حوالوں سے بہار بالخصوص دبستان عظیم آباد کی ادبی اہمیت پر بھرپور روشنی ڈالی۔نوجوان شاعر کامران غنی صباؔ نے اپنی مترنم آواز میں غزل سرائی کی جسے کافی پسند کیا گیا۔ اس موقع پر بہار سے تعلق رکھنے والے چار نوجوان اسکالروں کا تعارف اور انٹرویو پیش کیا گیا۔


 پروگرام کے اس حصہ میں شاہد وصی نے ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی، کامران غنی صباؔ نے ڈاکٹر منصورخوشتر، محمد عطاء اللہ شمسی نے ڈاکٹر اویناش امن اور ڈاکٹر عبدالرافع نے ڈاکٹر زرنگار یاسمین کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان سے ان کی شخصیت اور فن کے حوالے سے گفتگو کی۔ محمد اطہر عالم کی پیش کردہ نظم ”اردو ہے مرا نام میں خسرو کی پہیلی“ کو کافی پسند کیا گیا۔


 پروگرام میں پروفیسر حامد علی خاں، صدر شعبہ اردو بہار یونیورسٹی مظفرپور، پروفیسر ارشد مسعود ہاشمی، صدر شعبہ اردو جے پی یونیورسٹی چھپرہ،پروفیسر جاوید حیات صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی،کے علاوہ عارف نقوی (جرمنی)، غوثیہ سلطانہ (امریکہ)، صدف مرزا (کنیڈا)، احمد بدر(بھاگلپور)، محمد کاظم(دہلی یونیورسٹی) وغیرہ نے بھی اپنے تاثرات اور مشورے پیش کیے۔ ڈاکٹر صالحہ رشید (الہ آباد)،شاہد بزمی (بھاگلپور)، پروفیسر اسرائیل رضا،ڈاکٹر طارق فاطمی،ڈاکٹر ارشد جمال، ڈاکٹر افشاں بانو،ڈاکٹر احمد علی جوہر،شاہد وصی، حبیب مرشد خان،عندلیب عمر،نیلوفر حسن، نکہت رحمان،رومانہ تبسم،سید ساجد علی،فیضان ضیائی،عبدالسمیع،عباس صدف،صباخان، آصف نواز، فقیہا جہاں سمیت کثیر تعداد میں محبان اردو بالخصوص نوجوان اسکالروں کی شرکت نے اس پروگرام کو تاریخی اہمیت کا حامل بنا دیا۔ ڈاکٹر اکبر علی(شعبہ اردو کامرس کالج، پٹنہ) کے شکریہ کے ساتھ اس اہم اور تاریخی پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad