تازہ ترین

Post Top Ad

بدھ، 29 جنوری، 2020

غیر معینہ مدت کے دھرنے میں خواتین کی تعداد میں روز بروز اضافہ

دیوبند/دانیال خان(یواین اے نیوز 29جنوری2020)شہریت ترمیمی ایکٹ،این پی آر اور این آر سی کے خلاف دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر عیدگاہ میدان میں خواتین کے ذریعہ شروع کئے گئے غیر معینہ مدت کے دھرنے میں خواتین کی تعداد میںروز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔شدید سردی اور بارش کے باوجود خانقاہ پولیس چوکی سے صرف سو میٹر کے فاصلے پر شروع کئے گئے دھرنے کو ختم کرانے کے لئے صبح پانچ بجے کے قریب ایس پی دیہات ودیا ساگر مشرا،ایس ڈی ایم راکیش کمار،سی او چوب سنگھ اور کوتوالی انچارج یگھ دت شرما کی قیادت میں خفیہ محکمہ کی ٹیمیں اور بڑی تعداد میں پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی۔پولیس کے ذریعہ خواتین کو جبرا دھرنا گاہ سے ہٹا دینے کے منصوبہ کی خبر جیسے جیسے شہر میں پھیلتی گئی ویسے ویسے عیدگاہ میدان پر مظاہرہ کر رہی خواتین کی حمایت میںمرد و خواتین کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔

موقع کی نزاقت کو دیکھتے ہوئے افسران بیک فٹ پر آگئے اور خواتین کو دفع 144اور مقدمہ درج کرائے جانے کا خوف دکھاتے ہوئے الٹے پیر واپس ہو گئے۔با وجود اسکے پولیس نے خواتین کی ہمت توڑنے کی کو شش ابھی بھی نہیں چھوڑی ہے اور علاقہ کے سرکردہ لیڈران اور سماجی شخصیات سے بات کر خواتین کا دھرنا ختم کرائے جانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ سرد رات میں دھرنے پر بیٹھی خواتین کے اہل خانہ کو انتظامیہ کی جانب سے خوف زدہ کئے جانے کی کوشش بھی ہو رہی ہے لیکن انکے ارادے اتنے مضبوط ہیں کہ اس طرح کی پریشانیوں کے باوجود وہ ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔خواتین کے جزبہ کو دیکھتے ہوئے صاحب خیر حضررات بھی اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور مظاہرین کے لئے کھانے پینے کا انتظام کر رہے ہیں۔

عالم یہ ہے کہ آنے والے سات دنوں تک مظاہرین کے کھانے کے آڈرہوٹلوں پر دے دئے گئے ہیں،ساتھ ہی بیچ بیچ میں چائے کافی کا دور بھی جاری ہے۔وہیں سہارنپور پارلیمانی سیٹ سے ایم پی حاجی فضل الرحمان علیگ اور بھیم آرمی کارکنان نے دھرنا گاہ پہنچ کر خواتین کو اپنی حمایت دینے کا اعلان کیا جس سے خواتین کے حوصلے مزید بلند ہو گئے،خواتین نے ایک آواز میں کہا کہ یہ عوامی تحریک ہے،عوامی طور پر چلائی جا رہی ہے اس کے پیچھے کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے،ہماری آواز ملک کی عوام کی آواز ہے،گونگی بہری حکومت کے کانوں میں جب تک ہماری آواز نہیں پہنچ جاتی اور متنازع قوانین واپس نہیں لئے جاتے تب تک دیوبند کے عید گاہ میدان میںہمارا مظاہرہ جاری رہیگا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad