تازہ ترین

Post Top Ad

Wednesday, March 25, 2020

اب'' ہنٹا وائرس'' کی وبا کا دہشت!!!

از قلم :     محمد فرقان 
(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

    کرونا وائرس کی عالمی وبا سے ابھی پوری دنیا جھونجھ ہی رہی ہے کہ چین میں ایک نیا وبائی مرض ''ہنٹا وائرس'' (Hanta Virus) نے دستک دے دی ہے۔ جسکا مبینہ طور پر شکار ہوئے ایک شخص کی موت واقع ہوگئی ہے۔چین کے سرکاری نیوز سروس گلوبل ٹائمز نے تصدیق کی ہیکہ چین کے صوبے یوننان میں ایک شخص کی ہلاکت 23/مارچ 2020ء بروز پیر کو اس وقت ہوئی جب وہ اپنی ملازمت کی جگہ صوبہ شان ڈونگ کی جانب چارٹر بس میں سفر کررہا تھا۔ اس شخص کی اسکریننگ موت کے بعد ہوئی اور بس میں موجود دیگر 32/ افراد کا بھی ٹیسٹ کیا گیا۔گلوبل ٹائمز کے مطابق دیگر 32/افراد میں اس وائرس کے ٹیسٹ مثبت آگئے ہیں۔ بتایا جارہا ہیکہ یہ وائرس کورونا وائرس جتنا خطرناک تو نہیں ہے لیکن لاپرواہی پر خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ اس وبا کی ایک قسم ایک دوسرے کو چھونے سے منتقل ہوتی ہے۔ اس بات کا مشاہدہ ان 32/افراد سے لگایا جاسکتا ہے جو متاثرہ شخص کے ساتھ رابطہ ہونے کے باعث یہ وائرس ان میں منتقل ہوگئی۔

ہنٹا وائرس ایک نو دریافت شدہ وائرس کی نسل ہے۔ تحقیق کے مطابق کورین جنگ (1950-1953) کے دوران امریکی اور کوریائی فوجیوں میں نکسیر بخار (Hemorrhagic Fever) اسی وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے ہوا تھا۔ تقریباً 3/ہزار سے زائد فوجیوں میں یہ وائرس کی تصدیق کی گئی تھی، جن میں اموات کی شرح 10 /فیصد تھی۔ چونکہ جنوبی کوریا کے ''دریائے ہنتان'' کے علاقے میں پہلی بار یہ وبائی مرض پایا گیا تو اسکا نام بھی اسی دریا پر ''ہنٹا وائرس'' رکھ دیا گیا۔ سائنسدانوں نے ہنٹا وائرس کی مختلف قسمیں، درجہ بندی اور پرجاتیاں بتائیں ہیں۔ امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (CDC) کے مطابق ہنٹا وائرس کے خاندان کے جراثیم عام طور پر چوہوں سے پھیلتے ہیں۔ اس وائرس کی ہر قسم چوہوں کی مختلف اقسام سے جوڑی جاتی ہیں اور یہ اس وقت انسانوں میں منتقل ہوتا ہے جب جانور کے پیشاب، فضلے اور تھوک میں موجود وائرس کے ذرات ہوا کے ذریعے کسی فرد تک پہنچ جائیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ یہ کسی متاثرہ چوہے کے کاٹنے سے کسی فرد میں منتقل ہوجائے، جبکہ یہ اس وقت بھی ہوسکتا ہے جب کوئی انسان جانور کے پیشاب، تھوک یا فضلے سے آلودہ سطح کو چھونے کے بعد اپنے چہرے یا ناک، منھ اور آنکھ کو اس وقت چھولے یا آلودہ غذا کھالے۔ سیوڈش سائنسدان ڈاکٹر سومیا شیخ نے لکھا ہے کہ ہنٹا وائرس چوہوں کو کھانے سے بھی پھیلتا ہے۔ہنٹا وائرس کے انسانی انفیکشن تقریباً پوری طرح چوہوں کے اخراج کے ساتھ انسانی رابطے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تاہم سن 2005ء اور سن 2019ء میں جنوبی امریکہ میں ''اینڈیس وائرس'' (Andes Virus) کی انسان سے انسان میں منتقلی کی اطلاع ملی تھی، جو ہنٹا وائرس کی ہی ایک قسم ہے۔ اسکے علاوہ چلی اور ارجنٹائن میں بھی ایسے چند واقعات سامنے آئے کہ ہنٹا وائرس کی قسم اینڈیس وائرس سے متاثر افراد کے قریب جانے پر لوگ بیمار ہوگئے۔
    انسان میں منتقل ہنٹا وائرس سے ''ہنٹا ہیمرج فیور رینل سینڈروم ''(HFRS) یا'' ہنٹا وائرس پلومونری سینڈروم ''(HPS) کا مسئلہ لاحق ہوتا ہے، مگر ابھی چین میں ہنٹا وائرس سے ہلاک ہونے والے شخص کو ان میں سے کن امراض کا سامنا ہوا ہے یہ واضح نہیں ہوا۔ ارجنٹائن میں گزشتہ سال اس وائرس کے نتیجے میں کم از کم 11/ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے اس موقع پر ایک الرٹ میں بتایا گیا تھا کہ اکتوبر 2018ء سے جنوری 2019ء کے دوران 29/ کیسز کی تصدیق ہوئی، جن میں سے 60/ فیصد خواتین یا لڑکیاں تھیں۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت نے ایک سے دوسرے انسان میں منتقلی کے عمل کا جائزہ لیا تھا تاہم اس وقت کچھ زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آسکی تھیں۔ ایک آفیشل رپورٹ کے مطابق ماضی میں ہنٹا وائرس آسٹریلیا کے سوا تمام براعظموں میں پائی گئی ہے۔ خاص طور پر ہیمرج فیور رینل سینڈروم (HFRS) سے متاثر واقعات زیادہ تر چین، کوریا، روس اور شمالی و مغربی یورپ، وغیرہ میں پائے گئے ہیں۔ جبکہ ہنٹا وائرس پلومونری سنڈروم (HPS) کے سب سے زیادہ واقعات ارجنٹائن، چلی، برازیل، امریکہ، کینیڈا، اور پاناما، وغیرہ میں پائے گئے ہیں۔ الغرض یہ وائرس عام طور پر جنگلات، کھیتوں یا فارمز جیسے علاقوں میں نظر آتا ہے جہاں چوہوں میں اس کی موجودگی ثابت ہو۔ اس بیماری میں عام طور پر سردرد، سرچکرانے، بخار، قے یا متلی، ہیضے اور پیٹ میں درد جیسی علامات سامنے آتی ہیںاور بعض مریضوں کو سانس لینے میں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ 
    امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (CDC) کے مطابق ہنٹا وائرس کے انفیکشن کو ختم کرنے کیلئے فی الوقت کوئی خاص علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے۔ ایک دوسری تحقیق کے مطابق سن 1990ء سے ہنٹا واکس (Hantavax) نام کا ایک ویکسین زیر نگران ہے، جو 2016ء میں تیسرے مرحلے پر تھا۔ لیکن عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اب تک ہنٹا وائرس کے کسی بھی ویکسین کو قبولیت حاصل نہیں ہوئی ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت نے ماضی میں اپنے اراکین ممالک کو ہنٹا وائرس کے روک تھام کیلئے ویکسین کی کھوج اور اسے تیار کرنے کی گزارش کی تھی۔ اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت نے متاثرہ علاقوں سے واپس آنے والے مسافروں کی طرف خصوصی توجہ دینے پر بھی زور دیا ہے۔ ان کے مطابق سیاحت کی زیادہ تر سرگرمیاں معمولی طور پر مسافروں کو چوہوں یا ان کے اخراج کے لئے خطرہ نہیں بناتی ہیں۔ تاہم جو لوگ بیرونی سرگرمیوں جیسے کیمپنگ یا پیدل سفر میں مشغول رہتے ہیں، ان کو احتیاطی طور پر متعدی امراض سے متعلق ممکنہ نمائش کو کم کرنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ اس کے علاوہ ماہرین صحت نے یہ بھی کہا ہیکہ چوہوں کو کھانے سے بھی یہ وبا پھیلتی ہے تو اس پر بھی روک لگنی چاہیے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہیکہ ہندوستان کے بعض نچلی ذات کے لوگ بھی چوہوں کو اپنی غذا بناتے ہیں، جن کو آئندہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ چونکہ یہ وائرس چوہوں سے پھیلتا ہے اسلئے سی ڈی سی (CDC) نے ہنٹا وائرس کے روک تھام کیلئے گھر، کام کی جگہ یا کیمپ سائٹ میں چوہوں پر قابو پانے کیلئے بلکہ چوہوں کو بلکل ختم کرنے پر زور دیا ہے، جو بیماری کی روک تھام کیلئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ ہنٹا وائرس سے متاثر شخص کی جلد تشخیص اور معاون علاج سے حالت کو اچانک بحالی ممکن ہوسکتی ہے بشرطیکہ مرض ابتدائی مرحلے میں ہو۔
    کرونا وائرس جو چین کے شہر ووہان سے پھیل کر پوری دنیا میں تباہی مچا رکھا ہے۔ ایسے نازک موقع پر چین میں ایک اور وبائی مرض ہنٹا وائرس کا پھیلنا اور اس سے ایک کی موت اور 32/ افراد متاثر ہوجانا یقیناًپورے عالم میں دہشت کا ماحول پھیلنے کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہیکہ کئی بڑی شخصیات نے ہنٹا وائرس کے حوالے سے میمز اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس حساس موقع پر عالمی ادارہ صحت اور تمام ملکی حکومتوں کو چاہیے کہ اس پر بھی غور و خوض کیا جائے کیونکہ کرونا وائرس کی طرح ہنٹا وائرس پر لاپرواہی آئندہ کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ کیونکہ یہ وبا بھی ایک سے دوسرے میں منتقل ہونے کی طاقت رکھتی ہے، جو سب سے بڑی تشویش کا باعث ہے۔ ہمارے وطن عزیز میں جنگلات، کھیت، فارمز وغیرہ میں کام کرنے والوں کو احتیاط برتنی چاہیے نیز جو لوگ چوہوں کو اپنی غذا بناتے ہیں انکو اس سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر کسی کو چوہوں کے رابطے میں آنے کے بعد طبیعت میں فرق محسوس ہو تو فوراً علاج کروانا چاہئے۔اگر وقت چلتے اس پر غور نہیں کیا گیا تو مستقبل میں ہنٹا وائرس ہندوستان میں بھی دستک دے سکتا ہے۔ ان تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ رجوع الی اللہ بھی اشد ضروری ہے۔ کیونکہ ہمارا ایمان ہیکہ سب کچھ کرنے اور کرانے والی ذات فقط اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے۔اسکے حکم کے بغیر کوئی بھی مرض یا وباء کسی کو نہیں لگ سکتی اور وبائی چیزیں انسانوں کے گناہوں کا اثر و نتیجہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اللہ کے حضور زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار کریں، فرائض کو ادا کریں اور گناہوں سے اجتناب کریں۔اللہ تبارک و تعالیٰ اس طرح کے خطرناک تمام وبائی امراض سے پورے عالم بالخصوص امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔ آمین

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad