تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 15 مئی، 2020

عید اوراعتکاف پرامیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی کاپیغام

مونگیر(یواین اے نیوز15مئی2020)عیدکی نمازاوراعتکاف پرلوگوں کااضطراب بڑھتا جارہا ہے اورہرطرف سے سوال اٹھ رہے ہیں۔ایسے میں جنرل سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈمولانامحمدولی رحمانی امیرشریعت بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈنے واضح پیغام جاری کیاہے۔اپنے پیغام میں انھوں نے کہاہے کہ اندازہ ہے کہ لاک ڈاؤن لمبا کھنچے گا، اور ہم لوگوں کو ان ہی حالات کے اندر رمضان کا آخری عشرہ گزارناہے اور عید کی نماز پڑھنی ہے۔ لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ اعتکاف کے لیے کیا کیا جائے اورعید کی نماز کے سلسلے میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ جہاں تک تعلق اعتکاف کا ہے، ان شاء اللہ لوگ اپنی اپنی مسجدوں میں اعتکاف کریں گے لیکن ان کی تعداد ایک یا زیادہ سے زیادہ دوفردکی ہوگی اور وہ اعتکاف کا اہتمام کریں گے۔ ایک مسجد میں اگر ایک آدمی نے بھی اعتکاف کرلیا تو پورے محلے اور پورے گاؤں کی طرف سے وہ اعتکاف اللہ کے دربار میں قبول ہوگا اور کسی پر ذمہ داری عائدنہیں ہوگی۔

 امیرشریعت نے عیدکی نمازکے تعلق سے کہاکہ اندازہ ہے کہ عید کا موقع بھی لاک ڈاؤن کے اندر ہی آئے گا۔عید کی نماز جس طرح پڑھی جاتی رہی ہے اس سال اس طرح پڑھنے کاموقع نہیں ملے گا۔ مسجدوں میں عید کی نماز جس طرح جمعہ کی نماز ابھی پڑھی جارہی ہے تین چار افراد کے ساتھ اسی طرح مسجدوں میں عید کی نماز پڑھی جائے گی اور بقیہ لوگ عید کی نماز اپنے گھروں میں ادا کریں گے۔ یہ خیال رہے کہ عید کی نماز کی ادائیگی واجب ہے اور اس میں عید کی نماز کے بعد جو خطبہ دیاجاتا ہے وہ سنت ہے۔ اس کا بھی خیال رکھاجائے کہ عید کی نماز میں جو کم سے کم تعداد ہے وہ امام کو چھوڑ کر تین آدمیوں کا رہنا ضروری ہے۔اس لیے عید کی نماز میں ایک امام او رتین مقتدی ہوں اور نماز ادا کی جائے۔ گھروں میں جو لوگ عید کی نماز ادا کریں گے وہ دورکعت عید کی نماز پڑھیں گے اور دو رکعتوں کے بعد امام صاحب خطبہ دیں گے چاہے وہ کسی کتاب کو دیکھ کر خطبہ دیں یا کسی کاغذ پر خطبہ لکھا ہوا اسے دیکھ کر دیں یا زبانی خطبہ دیں۔

ان شاء اللہ وہ خطبہ معتبر ہے۔ لیکن اگر کسی گھر میں ایسا کوئی آدمی نہیں ہے جو خطبہ دے سکے یا خطبہ پڑھ سکے تو پھر دو رکعت عید کی نماز تکبیرات زائدہ کے ساتھ گھر میں پڑھی جائے گی اور کیوں کہ کوئی خطبہ جاننے اورپڑھنے والا موجود نہیں ہے اس لیے بغیر خطبے کے نماز ادا کی جائے گی۔ اور اگر عید کی نماز کی امامت کرنے والا بھی گھر میں کوئی نہیں ہے تو ایسی شکل میں گھر کا ہر آدمی چار رکعت نفل نماز ادا کرے۔ جس طرح چاشت کی نماز پڑھی جاتی ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ عید کی قضا نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے دربار میں سرجھکانا ہے جس میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور اس کا پڑھنا مستحب ہے۔ہم لوگ تراویح بھی گھر میں پڑھیں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوکر یہ دعاکریں کہ جو مصیبتیں پوری دنیا میں آرہی ہیں اور ہمارے ملک میں بھی آئی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو دور فرمائے اورساتھ ہی یہ بھی دعا کریں کہ این پی آر، این آر سی کے جو خطرات ہیں، اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کو ان سے بھی دور رکھے- اور ظالموں کو ظلم کرنے کا موقع نہ ملے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad