تازہ ترین

Post Top Ad

Monday, May 11, 2020

صفورا زرگر ایک انقلابی خاتون

ذبیح اللہ ذبیح ریسرچ اسکالردہلی یونیورسٹی
کہانیاں تو بہت لکھی گئی ہیں تاریخ کے تناظر میں کبھی سلاطین کی تو کبھی خواتین کی۔اور ہر اس تاریخ نے تاریخ کے صفحات کو دوبارہ پلٹا ہے۔تاریخ کے صفحات میں جہاں پیغمبران اہمیت کے حامل رہے ہیں وہیں تاریخ کے صفحات میں خواتین بھی مشعل راہ رہی ہیں. اور انہوں نے سدا عوام الناس کے لیے اپنے اہل و عیال کے لیے قربانیاں دی ہیں جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا اسلامی تاریخ کا گر آپ مطالعہ کریں تو حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ، حضرت فاطمہ، حضرت زینب، سب مشعل راہ ہیں. تو وہیں الگ الگ اعتبار سے اہمیت کی حامل بھی. حضرت خدیجہ کاروبار کے حوالے سے ، تو حضرت عائشہ علم و حدیث کے حوالے سے، تو وہیں حضرت فاطمہ صبر و تحمل اور پاک دامنی کے حوالے سے جانی جاتی ہیں اس کے علاوہ حضرت مریم بھی اسلامی تاریخ میں بہت اہم نام ہے گر ہم اپنی بات کریں تو امت محمدیہ ہیں تو ظاہر ہے ہم ان کی اولادوں میں سے ہیں. ہماری اور ان کی زندگی بہت مختلف ہے بعض اوقات انسان زمانے کے حساب سے بدل جاتا ہے اور ہر اعتبار سے بدل جاتا ہیں کہیں لباس کے اعتبار سے تو کہیں حالات زندگی کے اعتبار سے وقت کے ساتھ منتقل ہو جانا دنیا اور زندگی کا نظام ہے۔اس میں کوئی بدی بھی نہیں ہے۔اسلام میں نماز پانچ وقت فرض ہے، رمضان المبارک کے روزے سال کے ایک مہینے، اور آپ کا اخلاق چوبیس گھنٹے یعنی کی ہمیشہ، کون جنتی ہوگا کون جہنمی یہ حال اللہ جانتا ہے خیر میں سر سید کے اس بات سے اتفاق رکھتا ہوں کہ ہم جب اچھا کام کرتے ہیں تب ہمارا دل خوش ہوتا ہے اسی کا نام جنت ہے اور جب برا کام کرتے ہیں اور ہمارا ضمیر ملامت کرتا ہے اسی کا نام جہنم ہے. دراصل میں یہ ساری باتیں اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ میں آپ کا ذہن صفورا زرگر کی طرف لے جانا چاہتا ہوں بہت سے لوگ صفورا زرگر کی زندگی سے اس کی باتوں سے اتفاق نہیں رکھتے ہوں گے. سوال یہاں ہے کیوں؟ کیونکہ صفورا زرگر ایک انقلابی خاتون ہیں اور وہ انقلابی سوچ کی مالک ہیں خود مختار ہیں آزادی ان کا خواب ہے اس لیے ہر وہ جدو جہد کرتی ہیں جس سے ہندوستانی عوام ظالم حکمرانوں سے آزاد ہو جائے۔

دراصل انقلاب ہمارے خون میں ہے اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو حضرت عائشہ کے جنگ جمل کا ذکر ملتا ہے تو وہیں حضور کے زمانے میں جنگ میں گھائل مردو کا علاج عورتیں ہی کیا کرتی تھیں صرف اسلام میں ہی نہیں ہندوستان ہماری جو سرزمین ہے یہاں کی تاریخ میں بھی ایک سے ایک انقلابی خواتین کا تذکر ملتا ہے مثلاً، جھانسی کی رانی، رضیہ سلطان، پھولن دیوی، شیخ فاطمہ، مدر ٹیریسا وغیرہ یہاں ہر ان خواتین کا تذکرہ مشکل ہے اس لیے میں صفورا زرگر کی کہانی کو آپ کے پیش نظر رکھتا ہوں زاہدہ حنا ہند و پاک کی ممتاز افسانہ نگار ہیں جنہوں نے بے شمار افسانے لکھیں اور شاہکار افسانے لکھیں ہیں. انہی افسانوں میں معروف و مقبول افسانہ ''تتلیاں ڈھونڈنے والی'' قارئین کی نظر میں اہمیت کا حامل ہے اور یہ افسانہ ایک انقلابی خاتون پر مبنی ہے دراصل میں صفورا زرگر کی کہانی تتلیاں ڈھونڈنے والی کے مرکزی کردار نرجس کے پس منظر میں رقم کرنا چاہتا ہوں۔:' تتلیاں ڈھونڈنے والی' افسانہ کی مرکزی کردار نرجس ہر اس عہد کے انقلابی خواتین کے کردار کی عکاسی کرتی ہے. عہد حاضر میں 15 دسمبر کی اس کالی رات کو نہیں بھلایا جا سکتا ہے. جامعہ ملیا اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ حکومت ہند کے اس کالے قانون کے خلاف کر رہے احتجاج کے دوران پولیس کے زد میں آ?.اور کوئی آنکھوں سے گیا، تو کوئی ہاتھ سے معذور ہوا، تو وہیں پیروں کو بھی دہلی پولیس نے نشانہ بنایا۔''

دہلی پولیس نے طلبہ کو نہ کی بے رحمی سے صرف مارا پیٹا بلکہ ان پر مقدمات بھی درج کیے اور گرفتار بھی کیا. تو وہیں دہلی پولیس نے لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کو بھی اپنے غصے کا نشانہ بنایا. اور تو اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیا اسلامیہ میں لڑکیوں کے ہاسٹل میں پولس نے گھس کر انہے بے رحمی سے مارا جس کی بہت ساری تصاویر سوشل میڈیا پہ منظر عام پر بھی آئیں. اور انہیں مارا بھی جسم کے ان اعضاء پر کہ شاید وہ بہنیں کبھی ماں نہیں بن سکتیں۔انہیں خواتین میں سے نکل کر ہمارے حقوق کے لیے ہمارے ساتھ ہو رہے اس حق تلفی کے لیے بلکہ شہریت ترمیم قانون کے خلاف جو خواتین منظر عام پر آئیں ان میں کانگریس کی سیاسی خاتون عشرت جہاں،دہلی یونیورسٹی کی سابقہ شعبہ اردو ایم کی طالب علم گلفشا تعلیمی دنیا اور کتبخانہ سے نکل کر بلکہ اپنی نء زندگی کو تاک پہ رکھ کر سڑکوں پہ نکل آئیں، صفورا زرگر جامعہ ملیا اسلامیہ کی پی ایچ ڈی اسکالر بھی قابل احترام ہیں ان کی قربانیوں کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا نہ ہی تاریخ کے صفحات سے مٹایا جا سکتا ہے آج یہ تینوں خواتین تہاڑ جیل میں مقید ہیں. قصور اس کالے قانون کا احتجاج، شہریت ترمیم قانون کے خلاف آزادی اور انقلاب کے نعروں کو بلند کرنا. جس میں صفورا زرگر آج کل سوشل میڈیا، اخبارات اور ٹیلی ویژن پر سرخیوں میں ہیں. تہاڑ جیل میں آج مقید ہیں بالکل اس افسانے کی مرکزی کردار نرجس کی طرح. نرجس اور صفورا زرگر کی کہانی میں مشابہت بہت ہے۔

     'تتلیاں ڈھونڈنے والی' افسانے کی مرکزی کردار نرجس کے گھر والے یعنی اس کی ماں اور بھائی سلاخوں کے باہر اس کی رہائی کے انتظار میں ہیں. بالکل اسی طرح موجودہ وقت کی صفورا زرگر کا گھرانا ان کا انتظار کر رہا ہے. جیسا کہ میں نے کہا صفورا زرگر کی کہانی اور نرجس کی کہانی میں مشابہت بہت ہے. نرجس اپنے عہد کی آزادی کی لڑائی لڑنے والی، انقلاب کے نعروں کو بلند کرنے والی، حکومت کے کالے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والی ایک حقیقت پسند خاتون ہے صفورا زرگر بھی موجودہ وقت کی ایک انقلابی خاتون ہیں. یہ بھی حکومت کے ان تمام کالے قانون کا احتجاج کرتی ہیں بلکہ کھلے طور پر بغاوت کا اعلان کرتی ہیں. انقلاب کے نعروں کو پورے ملک میں بلند کرتی ہیں،بلکہ ان سبھی کی آواز بنتی ہیں جو بول سکتے ہیں پھر بھی خاموش رہتے ہیں، سن سکتے ہیں ان آہ و فریاد کو پھر بھی ان سنا کرتے ہیں، صفورا زرگر ان آوازوں کو سنتی ہیں، ان الفاظ کو محسوس کرتی ہیں، ان کے خوابوں کی تعبیر بھی بننا چاہتی ہیں ایسی ہے صفورا زرگر کی شخصیت جو زمانہ کے لیے محتاج تعارف نہیں. صفورا زرگر بھی آج دشمنانِ انسانیت کے قفس میں مقید ہیں، نرجس گرفتاری کے دوران جس احساس میں مبتلا تھیں اسی احساس میں آج صفورا زرگر بھی ہیں. صفورا زرگر اس پاکیزہ احساس کا سفر کر رہی ہیں جس کی ہر عورت کو خواہش ہوتی ہے یعنی کہ ان کے کوکھ میں ایک ننہا سا مہمان پل رہا ہے جو کہ صفورا زرگر کی اولاد کے شکل میں ایک انقلاب، ایک خیال، ایک تجسس، ایک آزاد اور پاک روح، ہندوستان کا حال اور مستقبل ہوگا۔

 نرجس کی گرفتاری حاملہ ہونے کے دوران ہوتی ہے اور ساتھ ہی اس کے شوہر حسین کی بھی جس کی تفتیش کے دوران مقتول قتل کر دیتے ہیں اور یہ بول دیتے ہیں کہ ملزم نے خودکشی کرلی حالانکہ حسین ایسا بالکل بھی نہ تھا وہ با ضمیر شخص تھا. اور ادھر نرجس کی رگوں میں اس کا خون دوڑ رہا ہے اس کے پیٹ میں حسین کا خیال ابل رہا ہے اور نرجس کی آہیں انقلاب کے نعروں کو بلند کر رہی ہیں. بالکل ایسا ہی کچھ حال موجودہ وقت کی صفورا زرگر کا ہے. ان کی کوکھ میں بھی ان کی محبت پل رہی ہے آج تہاڑ جیل کی چہار دیواروں میں صفورا زرگر مقید ہیں، وہ تنہا نہیں ہیں کہنے کے لیے وہ تنہا ہیں لیکن وہ اپنے بچے کے آزاد خواب اور آزاد ہندوستان کے تخیل کے ساتھ ہیں. نرجس کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے وہ شوہر کے انتقال کے بعد اپنی اس ننہی سی جان کے ساتھ آزادی کے خواب میں مبتلا ہے. اس بچے کی ولادت بھی جیل کی چہار دیواریوں میں ہوتی ہے. اس بچے نے کبھی آسمان نہیں دیکھا، اس نے کبھی چاند سورج کو نہیں دیکھا. دراصل اس کے پیدا ہونے سے اب تک وہ جیل میں ہی ہے. اور وہ اب چار سال کا ہے اور نرجس کے پھانسی کی بھی سزا قریب ہے لیکن اس کے چہرے پہ ذرا برابر کہیں کوئی مایوسی نہیں ہے. بلکہ وہ پر سکون نظر آتی ہے نہ ہی اس کے خیال میں موت کا خوف منڈراتا ہے. وہ تو بس اس بات سے خوش ہے کہ اس کا بیٹا کل آزاد ہو جائے گا اسے کل پھانسی ہوگی اور وہ اب مہدی میرا بیٹا میرے اپنوں کے پاس ہوگا میرا بیٹا آفتاب اور مہتاب کو رقص کرتے دیکھے گا۔حسین کی شکل و صورت اور میرے خیال کے طور پر میرا بیٹا میرے بعد وہ اور اس کے بعد اس کے بیٹے دنیا میں ہوں گے۔شاید صفورا زرگر کے بچے کی پیدائش بھی تہاڑ جیل کی چہار دیواریوں میں ہو اس کی بھی اپنی کیفیت صفورا کی طرح ہو۔

نرجس نے موت کو گلے لگایا لیکن ظالم حکومت کے سامنے ماتھا نہیں ٹیکا. اس نے اپنے بچے کو یتیم کرنا پسند دیا پھانسی کی سزا قبول کر لی. لیکن اس کے چہرے پر ایک الگ ہی نوعیت کی خوشی تھی. راقم الحروف خدا سے دعا گو ہے کہ ایسا کچھ معاملہ صفورا زرگر کے ساتھ پیش نہ آئے ۔تاریخ کے صفحات میں دوبارہ کسی نرجس، حسین اور ان کے بچے مہدی کی تاریخ نہ لکھی جائے۔آج صفورا زرگر کی بہن، ماں اور ان کے شوہر اذیت میں مبتلا ہیں اور صفورا زرگر کے بچے کے لیے فکر مند ہیں. بالکل ایسی ہی کچھ کیفیت نرجس کی ما?ں اور اس کے بھائی کی نظر آتی ہے وہ ان کے اذیت اور عذاب کو سمجھتی ہے ''لیکن انہیں یہ نہیں سمجھا سکتی تھی کہ کبھی انسان اپنے لیے موت منتخب کرتا ہے کہ دوسرے زندہ رہیں. موت کے پیالے میں جب تک زندگی کے سکے نہ ڈالیں جائیں. آدرش ہاتھ نہیں آتے۔''

    بالکل یہی خیال صفورا زرگر بھی رکھتی ہیں ان کے اعمال، ان کے کارنامے، ان کی سوچ، ان کی تخیلات نرجس کے اعمال و افعال سے متاثر نظر آتے ہیں. نرجس اور صفورا زرگر کی کہانیوں میں اور بھی بہت سے مشابہت پائی جاتے ہیں مثلاً نرجس کو پھانسی کی سزا ہوئی لیکن نرجس نے ایک بار بھی موت کی سزا کے خلاف اپیل نہیں کہ، آہ و فریاد نہیں کیا، ظالم حکومت کے سامنے اپنے اصولوں کے ساتھ ڈٹی رہی. یہاں تک کہ پھانسی گھر گئی اور ایک آنسو نہیں بہایا۔ نہ ہی چیخیں ماری نہ ہی خدا کو یا کسی جیلر کو گالیاں بکیں. بالکل ایسا ہی کچھ حال صفورا زرگر کا بھی ہے انہیں پھانسی کی سزا تو نہیں ہوئی ہے لیکن شاید اس سے بھی بڑھ کر سزا ہوئی ہے. تہاڑ جیل میں مقید ہیں، حاملہ ہیں، دنگا بھڑکانے کی سازش میں گرفتار ہیں. یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر ان کے اوپر بد فعلی اور بد کرداری کا الزام ہے. بی. جے. پی پارٹی کے کچھ کارکنان، آر ایس ایس کی آئڈیولوجی سے متاثر کچھ نوجوان، اور آئی ٹی سیل کے اہم کردار، سوشل میڈیا پر متحرک نظر آتے ہیں. اور صفورا زرگر کو غیر شادی شدہ حاملہ خاتون بتاتے ہیں اور شاہین باغ کے مہیم سے اس واردات کو متاثر بتاتے ہیں. حالانکہ صفورا زرگر شاہین باغ مہیم میں ایک یا دو بار گئی ہیں دراصل ان کا تعلق جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی سے ہے اور وہ خود جامعہ کی پی ایچ ڈی اسکالر ہیں. خیر ہم صفورا زرگر کے حمل کے حوالے سے بات کرتے ہیں کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ؟ ''The lallantop'' کی اینکر ثروت کے مطابق صفورا زرگر پہ لگا۔بد فعلی کے الزام بے بنیاد ہیں اور ان کے مخالفین کی سازش ہے صفورا زرگر کو بدنام کرنے کی. بقول ثروت ''صفورا زرگر شادی شدہ ہیں اور ان کے شوہر سے ہماری بات ہوئی ہے ان کی شادی 2018 کی ہے،''دوستوں یہ کتنی عجیب بات ہے جس ملک میں عورتوں کو دیوی تصور کیا جاتا ہے۔

    کالی جی، درگا جی،لچھمی جی، کنتی ماں اور سیتا ماں جیسے دیویوں کی پوجا کی جاتی ہے اسی ملک میں آ? دن عورتوں کے ساتھ زنا بالجبر کیا جاتا ہے افسوس کی بات ہے گزشتہ دنوں ہمارے ملک میں جتنے بھی واردات پیش آ? وہ سبھی مندروں کے تھے. اور اس سے بھی سکون نہیں ملتا ان لوگوں کو تو عورتوں کے اوپر بدفعلی کا الزام لگاتے ہیں۔صفورا زرگر کے اوپر جتنے لوگ بھی الزام لگانے والے لوگ ہیں اتفاق سے وہ سبھی لوگ ان دیویوں کی پوجا کرنے والے ہیں لیکن تضاد دیکھیے ان کی پرستش کا. خیر یہ لوگ جس رام سیتا کی پوجا کرتے ہیں ان کے یہ رام جی وہی رام جی ہیں جنہوں نے سیتا جی کے اوپر انگلی اٹھایا تھا اور انکی پاک دامنی پہ شک کیا تھا پھر ہم ان کے بھکتوں سے کیا توقع کر سکتے ہیں. اس کے علاوہ نرجس کے دوسرے پہلوؤں پر جب ہم غور کرتے ہیں تو اور بھی بہت ساری باتیں منظر عام پر آتی ہیں جیسے جیل کے زنانہ وارڈ میں عجیب عجیب سی عورتیں ہوتی ہیں لیکن گزشتہ چار سالوں سے ان عورتوں نے نرجس کو بہت اچھے سے رکھا تھا، وہ انکی سمجھ سے بالاتر تھی، اس لیے وہ ساری عورتیں نرجس سے بہت محبت کرتی تھیں، لیکن ان عورتوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ آخر کار اس عورت کا قصور کیا ہے؟ اس نے چوری نہیں کی، ڈکیٹی کہیں نہیں ڈالا، کچی شراب اور چرس نہیں بیچی، کسی کا قتل نہیں کیا پھر اسے کن گناہوں کی اتنی بڑی سزا مل رہی ہے. بالکل ایسا ہی کچھ حال ہندوستانی عوام کا صفورا زرگر کے بارے میں ہے ہندوستانی عوام سوچتی ہے کہ صفورا زرگر کا قصور کیا ہے؟ اس نے ملک سے غداری نہیں کی، کسی کا قتل نہیں کیا بلکہ اس نے تو آئین کے مطابق تفریق کرنے والی شہریت ترمیم قانون کے خلاف احتجاج کیا تھا، ہمارے ملک کا وجود جمہوریت کی بنا پر قائم ہے۔بولنے کی آزادی اور احتجاج کرنا تو ہمارا حق ہے اور یہ حق تو ہمیں ہمارے آئین نے دیا ہے۔صفورا زرگر کا قصور یہی ہے کہ وہ آزادی کی خواہش مند ہے انہوں نے آزادی کے نعرے لگائے انہوں نے اپنے حقوق کی بات کی، عوام کو بیدار کیا اور وہ اب ایک مسلمان بچے کو جنم دیںگی جس کا خوف ان ظالموں کو ہے. اور اس کے عوض میں انہیں بد کردار بتا رہے ہیں کہ صفورا زرگر ان سے ڈر جائیں وہ لوگ ڈر جائیں جو صفورا کی باتوں سے متاثر نظر آتے ہیں۔صفورا زرگر کے اوپر سارے الزامات بے بنیاد ہیں. دراصل ہندوستان کی قدیم ہندو تہذیب و تمدن میں عورت کی حیثیت بس اتنی ہے کہ وہ مردوں کے پیروں کی جوتی ہے. وہ انہیں دیوی تو کہتا ہے لیکن غلام تصور کرتا ہے. وہ انہیں گھر میں بیوی بنا کر لاتا تو ہے لیکن انہیں بچہ پیدا کرنے کی مشین سمجھتا ہے. بستر پر اپنی بیوی سے محبت تو کرنے جاتا ہے لیکن اس کی آڑ میں صرف اپنی جنسی خواہش پورا کرتا ہے، بیوا کسی عورت کو شادی کی اجازت نہیں دی جاتی، یہ سب میں نہیں کہ رہا ہوں یہ تو انکی تاریخ کہ رہی ہے. اب بھلا ان سے عورتوں کے عزت کی کیا توقع کی جا سکتی ہے. صفورا زرگر پاک دامن ہیں، ان کے کوکھ میں خدا کی نعمت ہے، ان کے اوپر سارے الزامات بے بنیاد اور سازش کے تحت ہیں. میں خدا سے دعا گو ہوں کہ صفورا زرگر اور ان کے بچے کو وہ صحت یاب رکھے. آپ اگر میرا مضمون پڑھ رہے ہیں تو آپ سے بھی صفورا اور ان کے بچے کی سلامتی کے لیے دعاؤں کی درخواست ہے.

ماخذ:
تتلیاں ڈھونڈنے والی
افسانوی مجموعہ،زاہدہ حنا
سیمنتنی اپدیش،تانیثی ادب کی ایک زریں دستاویز
مصنفہ:ایک گمنام ہندو عورتتحقیق و تدوین:ڈاکٹر دھرم ویر (سابق:آئی اے ایس)مترجم:نورالاسلام

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad