تازہ ترین

Post Top Ad

بدھ، 20 مئی، 2020

"اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ "

محمد عباس دھالیوال.مالیر کوٹلہ پنجاب
"تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہی, تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی"
داغ دہلوی وہ شاعر ہیں جنھیں اردو زبان کے بادشاہ ہونے کا شرف حاصل ہے. داغ دہلوی 25 مئی 1831 ء کو دہلی کے چاندنی چوک میں پیدا ہوئے ۔ جس محلہ میں آپ پیدا ہوئے ، اسے آج بھی کوچہ استاد داغ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ داغ کے آبا و اجداد کا تعلق سمر قند سے تھا جو اٹھارویں صدی میں ہندوستان میں آئے تھے. اہل سخن نے انھیں بلبلِ ہندوستان ، ناظم یار جنگ نواب فصیح الملک مرزا خان داغ دہلوی کے نام اور خطابات سے سرفراز کیا گیا ۔ چھ برس کی عمر میں آپ والد کے سائے سے محروم ہو گئے. 1837 ء میں ان کی والدہ چھوٹی بیگم نے مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کے فرزند فتح الملک مرزا فخر و ولی عہد سے نکاح کر لیا چنانچہ داغ بھی اپنی والدہ کے ہمراہ قلعہ معلیٰ میں رہنے لگے۔ داغ خوش نصیب تھے کہ ان کو مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر اور ولی عہد مرزا فخرو کی سرپرستی ملی اور ساتھ ہی ابتدائی تعلیم و تربیت قلعہ معلیٰ کے شہزادوں کے ہمراہ ہونے لگی ۔

قابل ذکر ہے کہ داغ نے مولوی سید احمد حسین سے فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی ۔ جبکہ اس زمانہ کے مشہور خوش نویس سید امیر پنجہ کش دہلوی سے فن خوش نویسی میں بھی مہارت حاصل کی ۔ قلعہ معلیٰ کے ادبی ماحول اور بہادر شاہ ظفر کی سرپرستی کے چلتے داغ کی طبیعت جلد ہی شعر و شاعری کی طرف مائل ہو گئی اور آپ نے شاعری میں ذوق کے شاگرد ی اختیار کی ۔ قلعہ معلیٰ میں اکثر غالب کا آنا جانا رہتا تھا اور یہاں آئے دن ادبی مشاعرے ہوا کرتے تھے جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بہادر شاہ ظفر خود اردو کے پرگو شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نیک دل شہنشاہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کا دربار علماء ، شعراء اور اہل ہنر کا ایک گہوارہ بنا ہوا تھا ۔ جس وقت داغ نے شاعری میں قدم رکھا تو ہر طرف غالب ، ذوق ، مومن اور ظفر کی دھوم تھی. 
 ایسے میں داغ نے نہ صرف اپنی ایک الگ پہچان بنائی ان کی ذات سے اردو زبان کو جو فیض پہنچا اس پر کوئی بھی اہلِ زبان فخر محسوس کر سکتا ہے . 
داغ کے کلام میں جو زبان کے چٹخارے ، سلاست، صفائی، سحرآفرینی، رنگینی اور بلا کی شوخی و چلبلاہٹ پائی جاتی ہے اس کی نظیر مل پانا مشکل ہے. کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ داغ اور اردو زبان دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے تھے یعنی دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر تصور کرنا نا ممکن ہے اصل میں اردو زبان کو جو فیض و عروج داغ کی ذات سے پہنچا یقیناً اس کے لیے اہل اردو زبان ان کے ہمیشہ احسان مند رہیں گے. داغ کے کلام کے بارے میں ایک جگہ مرزا اسد اللہ خان غالب رقمطراز ہیں " داغ کی اردو اتنی عمدہ ہے کہ کسی کی کیا ہوگی! ذوق نے اردو کواپنی گو دمیں پالا تھا۔ داغ اس کو نہ صرف پال رہا ہے بلکہ اس کو تعلیم بھی دے رہا ہے۔“ 
اردو شاعری میں زبان اور اس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز سودا سے ہوا مانا جاتا ہے پھر سودا کی یہ روایات ذوق کے توسط سے داغ دہلوی تک پہنچی اور داغ نے ان روایات کو اتنا آگے بڑھایا کہ انہیں اپنے استاد ذوق اور پیش رو سودا دونوں پر فوقیت حاصل ہو گئی۔ اس کی بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ جب داغ نے ہوش سنبھالا تو لال قلعے میں بہادر شاہ ظفر، استاد ذوق اور ان کے شاگرد زبان کو خراد پر چڑھا کر اس کے حسن و جمال اور پیچ و خم کو نکھار نے میں مصروف تھے ۔ بے شک اس وقت مغل سلطنت کی بنیادیں ہل رہی تھیں لیکن جہاں تک اردو زبان کا تعلق ہے وہ اس نازک دور میں بھی بہادر شاہ ظفر کی سرپرستی میں عروج پا رہی تھی.
داغ کے عہد میں اردو زبان دو سطحوں پر معمور تھی ایک علمی اور دوسری عوامی، علمی زبان کے نمائندگی غالب فرما رہے تھے اور ان کی بیشتر شاعری خواص تک محدود تھی۔ جبکہ اس کے برعکس داغ کی شاعری عوامی تھی وہ براہ راست عوام سے محو گفتگو تھے۔
داغ کا کلام نہ صرف عوام میں بلکہ خواص بھی بے حد مقبول تھا داغ کی بیشتر شاعری کیونکہ معاملات عشق سے شرابور تھی جس کے نتیجے میں عوام و خواص دونوں کی دلچسپی ان کے کلام بہت زیاد ہ ہوتی تھی. بقول عطا ” محبت کی گھاتیں اور حسن و عشق کی ادائیں داغ کے کلام کا طرہ امتیاز ہیں وہ عملی عاشق تھا اس کے اشعار اس کی عشقیہ وارداتوں کی ڈائری کے رنگین اور مصور اوراق ہیں۔“ جبکہ بقول نفیس سندیلوی ” داغ فطر ی شاعر تھے وہ غزل کے لیے پیدا ہوئے اور غز ل اُن کے لیے ان کی زبان غزل کی جان ہے۔“
داغ کے فن میں سب سے بڑی خوبی داغ کی زبان کے بے پناہ حسن میں پوشیدہ ہے۔ آپ نے شاعری کو پیچیدہ ترکیبوں، فارسی اور عربی کے غیر مانوس الفاظ سے بچانے کی بھرپور کوشش کی اور جہاں تک ممکن ہو اپنے خیالات و احساسات کا اظہار سیدھی سادھی زبان میں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام تصنع اور تکلف سے پاک و صاف ہے۔ چنانچہ اس ضمن ان کے چند اشعار آپ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے

کہتے ہیں اسے زبان اردو
جس میں نہ ہو رنگ فارسی کا

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زبان آتے آتے

داغ جنھیں اپنے کلام پر ناز ہے وہ زبان و بیان اور فصاحت کے علمبردار ہیں داغ کی شاعرانہ عظمت کی مثالیں ان کے کلام میں جابجا ملتی ہیں۔

کیا پوچھتے ہو کون ہے یہ کس کی ہے شہرت
کیاتم نے کبھی داغ کا دیوان نہیں دیکھا

داغ معجز بیان ہے کیا کہنا
طرز سب سے جدانکالی ہے 

داغ کے کلام میں بامحاورہ زبان استعمال ہوئی ہے روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے محاورات نے ان کے کلام میں لازوال حسن پیدا کر دیا ہے بطور نمونہ چند اشعار آپ بھی دیکھیں. 

تو بھی اے ناصح کسی پر جان دے
ہاتھ لا اُستاد کیوں کیسی کہی

آپ کے سر کی قسم داغ کو پروا بھی نہیں
آپ کے ملنے کا ہوگاجسے ارمان ہوگا

غیر کی محفل میں مجھ کو مثلِ شمع
آٹھ آٹھ آنسو رلایا آپ نے

داغ اپنی بات صاف گوئی سے کہتے ہیں اور صاف گوئی کی یہ مثالیں داغ کے کلام میں جابجا نظرآتی ہے۔ آپ بھی دیکھیں:
ہم ساتھ ہو لیے تو کہا اُس نے غیر سے
آتا ہے کون اس سے کہو یہ جدا چلے

لے لیے ہم نے لپٹ کر بوسے
وہ تو کہتے رہے ہر بار یہ کیا

راہ میں ٹوکا تو جھنجلا کر بولے
دور ہو کمبخت یہ بازار ہے

داغ کا ظاہر و باطن ایک ہے اور اُن کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عملی زندگی میں جو کچھ کرتے ہیں اس پر شرمندہ نہیں ہوتے اور اس کا شاعری میں ذکر کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے داغ کے اس بے باک پن کو آپ بھی دیکھیں :
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کاانتظار کیا

داغ صرف زبان کا شاعر نہیں بلکہ اُنکی شاعری میں جا بجا صداقت اور خلوص کا جذبہ رواں دواں نظرآتا ہے۔ اُنہوں نے اپنے کلام میں جن دلکش خلوص اور صداقت سے پر خیالات کا اظہار کیا ہے اس کا اندازِ بیاں آپ بھی ملاحظہ فرمائیں :

جو گزرے ہیں داغ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیاجانیں

تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتادو مجھ کو
دوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کو

داغ نے اپنے ہمعصر شعرا ءکی پیروی کرنے کی بجائے اپنی راہیں خود بنائیں اور انھیں خود ہی ہموار کیں داغ شاعری میں اپنی مثال آپ ہیں .
یہ کیا کہا کہ داغ کو پہچانتے نہیں
وہ ایک ہی تو ہے سارے جہاں میں

داغ ہی کے دم سے تھا لطف سخن
خوش بیانی کا مزہ جاتا رہا

داغ کے کلام میں محبوب کو لیکر طنز و تعریض کی ایک منفرد قسم کی آمیزش نظرآتی ہے چند اشعار دیکھیں:

غیروں سے التفات پہ ٹوکا تو یہ کہا
دنیا میں بات بھی نہ کریں کیا کسی سے ہم

تمہارے خط میں نیا اک پیام کس کاتھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کاتھا

آٹھ گئی یوں وفا زمانے سے
کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام
تم سنوارا کر و بیٹھے ہوئے گیسو اپنے

داغ کی شاعری کا محور عشق ہے ان کی تقریباً تمام شاعری اسی موضوع کے گرد گھومتی نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ مومن کے مانند داغ کے یہاں بھی نفسیاتی بصیرت کا اظہار جا بجا ملتا ہے۔ چند اشعار آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

رخ روشن کی آگے شمع رکھ کے وہ یہ کہتے ہیں
ادھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے

قیامت ہیں بانکی ادائیں تمہاری
ادھر آؤ لے لوں بلائیں تمہاری

اس میں کوئی شک نہیں کہ داغ نہ تو فلسفی تھے اور نہ ہی کوئی بڑا نظریہ حیات رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود زندگی کے مختلف موضوعات پر انھوں نے اپنی شاعری میں جذبات کا بھر پور اظہارِ خیال کیا ہے جیسے :

بہت جلائے گا حوروں کو داغ بہشت میں
بغل میں اُس کے وہاں ہند کی پری ہوگی

تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہی
تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

داغ کی بیشتر عمر عشق و عاشقی میں گزری. اُن کی زندگی میں محبوب کے بچھڑنے یا اسکی بے وفائی کی کوئی اہمیت نہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں کہ

بت ہی پتھر کے کیوں نہ ہوں اے داغ
اچھی صورت کو دیکھتا ہوں میں

اک نہ اک کو لگائے رکھتے ہیں
تم نہ وہوتے تو دوسر ا ہوتا

کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیں
دل بہل جائے گا کہیں نہ کہیں

جہاں تک معاملہ بندی کا سوال ہے تو داغ کی معاملہ بندی انشاء و جرات کی طرح نہیں ہے بلکہ ان کے یہاں ایک ایسی بے تکلفی اور سچائی ہے جو دوسرے شعراء کی طرح تصنع اور بناوٹ سےایک دم پاک ہے مثال کے طور پر داغ کا انداز ملاحظہ فرمائیں .

پہلے گالی دی سوال وصل پر
پھر ہوا ارشاد کیوں کیسی کہی

لے لیے ہم نے لپٹ کر بوسے
وہ تو کہتے رہے ہر بار یہ کیا

اردو شاعری میں کم و بیش سبھی شعراء نے اپنے اپنے انداز میں ناصح و واعظ اپنے کلام میں جگہ دی ہے. لیکن
داغ کے یہاں ناصح اور واعظ اور رقیب کے لیے جو اچھوتے قسم کے خیالات ملتے ہیں اس رنگ کے چند اشعار آپ بھی دیکھیں

وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرم سار آیا
رقیب پر مجھے بے اختیار پیار آیا

کچھ تذکرہ رنجش معشوق جوآیا
دشمن کے بھی آنسو نکل آئے میر ے آگے

تھے کہاں رات کو آئینہ تو لے کر دیکھو
اور ہوتی ہے خطاوار کی صورت کیسی

نہ ہمت، نہ قسمت، نہ دل ہے، نہ آنکھیں
نہ ڈھونڈا، نہ پایا، نہ سمجھا، نہ دیکھا

سادگی، بانکپن، اغماض، شرارت، شوخی
تو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

داغ کی ادبی زندگی میں ایسے بہت واقعات دیکھنے میں آتے ہیں جب ان کی حاضر جوابی نے انکے ادبی احباب کو لاجواب کر دیا ایک دفعہ بشیرؔ رامپوری حضرت داغؔ سے ملاقات کے لیے پہنچے تو وہ اپنے ماتحت سے گفتگو بھی کررہے تھے اور اپنے ایک شاگرد کو اپنی نئی غزل کے اشعار بھی لکھوا رہے تھے ۔ بشیر ؔ صاحب نے سخن گوئی کے اس طریقہ پر تعجب کا اظہار کیا تو داغؔ صاحب نے پوچھا ’’خاں صاحب آپ شعر کس طرح کہتے ہیں ؟ بشیرؔ صاحب نے بتایا کہ حقہ بھروا کر الگ تھلگ ایک کمرے میں لیٹ جاتا ہوں ۔ تڑپ تڑپ کر کروٹیں بدلتا ہوں، تب کوئی شعر موزوں ہوتا ہے ۔‘‘ یہ سن کر داغ مسکرائے اور بولے ’’بشیر صاحب! آپ شعر کہتے نہیں ، شعر جنتے ہیں۔‘‘
اسی طرح ایک بار داغ اجمیر گئے ۔ جب وہاں سے رخصت ہونے لگے تو ان کے شاگرد نواب عبداللہ خاں مطلب نے کہا: "استاد آپ جارہے ہیں ۔ جاتے ہوئے اپنی کوئی نشانی تو دیتے جائیے ۔ یہ سن کر داغ نے بلا تامل کہا۔ "داغ کیا کم ہے نشانی کا یہی یاد رہے۔‘‘
ایک دفعہ حبیب کنتوری صاحب کے ہاں نشست تھی جس میں مرزا داغؔ بھی شریک تھے۔ کنتوری صاحب نے غزل پڑھی جس کی زمین تھی ’’سفر سے پہلے ہجر سے پہلے ‘‘ وغیرہ ۔انہوں نے ایک شعر جس میں ’سفر ‘ کا قافیہ باندھا تھا ، بہت زور دے کر اسے پڑھا اور فرمایا کہ’’ کوئی دوسرا اگر ایسا شعر نکالے تو خون تھوکنے لگے ۔‘‘ مرزا داغ یہ سن کر مسکرائے اور بولے ’’ ہم تو اس زمین پر تھوکتے بھی نہیں۔‘‘ اس جملہ پر حاضرین میں ہنسی کی لہر دوڑ گئی اور کنتوری صاحب خفیف ہوکر رہ گئے. آخر میں ہم یہی کہیں گے کہ بے داغ آج ہمارے بیچ نہیں ہے لیکن ان کی شاعری نئے شعراء کے رہنمائی فرماتی رہے گی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad