تازہ ترین

Post Top Ad

ہفتہ، 4 جولائی، 2020

مسلمان اور جدید تقاضے

مکرمی:صحیح بخاری میں فرمایا گیا ہے کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقہ پر یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور نے بالکل دنیا میں تغیر وتبدل برپا کر کے  رکھ دیا ہے۔اس نے اپنے ایسے اثرات مرتب کئے ہیں عیش وآرائش کے نئے نئے طریقہ کی ایجادات اور اکنامک ترقیات کو حاصل کرکے انھوں نئے ممالک کی تعمیر و تشکیل کا کام انجام دے دیا ہے۔دور جدید میں ہم روز مرہ کسی نہ کسی نئے سائنسی تجربات، تحفظ کے جدید  اور عمدہ طریقہ کار،ایک مقام اور ایک ملک سے دوسرے مقام اور  ملک تک کے سفر کیلئے نئے طریقے،کمپیوٹر،انٹرنیٹ،موبائل،اور بھی بہت سی نئ ایجادات کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ آسمانی کتاب قرآن خود متعدد مقام پر تحصیل علم پر زور دیتے ہوئے فرماتا ہے۔

پڑھو اس رب کے نام سے جس نے تمہاری تخلیق کی جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے تمہیں قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا اور انسان کو اس علم سے نوازا جس سے وہ واقف نہیں تھا(العلق)یہ قرآن کی اولین آیتوں میں سے ہیں یہ آیت اسلامی علوم کیساتھ ساتھ دوسرے علوم کو حاصل کرنے کی بھی ترغیب دیتی ہے (مثلا سائنس اور وہ علوم جو وقت کی ضرورت ہو)اسلام کا مفہوم ہی ہے اسلامی علوم کیساتھ ساتھ ضرورت وقت کے تمام علوم پر پکڑ ہو اور مسلمان وقت کا نبض شناس ہو۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے (البخاری)یہ حدیث ہر مسلمان کو علی الاعلان یہ پیغام دیتی ہے کہ علم کو حاصل کرنے کیلئے جدوجہد محنت اور کوشش میں پیچھے نہ ہٹواور قربانیاں دیکر کر علم کو حاصل کرو۔پچھلی صدیوں میں مسلمانوں نے مکاتب کھولے اور ائمہ کا تعین کیا۔

ماضی کے تمام علماء نہ صرف عالم تھے بلکہ ہر علوم پر دسترس رکھتے تھے۔ان میں پیش پیش ابو نصر فارابی ,البطانی ابن سینا ابن موسی خوارزم اور خیام تھے۔قرآن اور حدیث پر پکڑ رکھنے والا شخص اس بات سے بالکل انکار نہیں کر سکتا کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق تمام علوم کو حاصل کرنا لازم کے درجہ میں ہے۔تمام قرآنی آیات علوم سائنس پر تطبیق پاتی ہیں ۔لیکن اس حقیقت سے بہت ہی کم لوگ واقف ہیں۔اسکے پیچھے عثمانی خلیفہ کے فتوی کا بھی ہاتھ ہے۔اگر مسلمانوں کو موجودہ وقت میں سرخرو ہونا ہے تو موجودہ وقت کے حساب سے آگے بڑھنا ہوگا اور نئے علوم پر رسائ حاصل کرنی ہوگی۔انھیں اپنے دین کیساتھ ساتھ جدید علوم کے تال میل کو بیٹھانا ہوگا۔اسی میں ہماری کامیابی وکامرانی کا راز مضمر ہے۔

محمد عثمان
نئ دہلی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad