تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 14 جولائی، 2020

اتر پردیش میں شہری حقوق کی خلاف ورزی اور لاء اینڈ آرڈر سسٹم کا غلط استعمال آن لائن مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعہ منعقدہ پریس ملاقات میں جاری مشترکہ بیان

آئین مخالف و امتیازی شہریت (ترمیمی قانون)، 2019 (سی اے اے)کے پاس کئے جانے کے بعدسے مرکزی حکومت اور بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں نے ملک بھر میں ہوئے جمہوری احتجاجات کے ساتھ بربریت کا رویہ اپنایا ہے۔ اس نے ان تمام اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دی ہیں، جن پر یہ ملک قائم ہوا ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا اور پولیس اور دائیں بازو کے غنڈوں کو کھلی چھوٹ اور معافی دے دی کہ وہ گولیاں چلائیں، املاک کو تباہ کریں اور مخالفت و پر امن احتجاج کے لوگوں کے جمہوری حق کے استعمال پر انہیں زدوکوب کریں۔ 

اب لاک ڈاؤن کے حالات کا غلط استعمال ریاست کے تمام مخالفین سے انتقام لینے کے لئے کیا جارہا ہے۔ پولیس آئے دن حقوق انسانی کے کارکنان، سیاسی لیڈران، طلبہ اور بے گناہ عوام کو ڈرا دھمکا رہی ہے اور انہیں ہراساں و پریشان کر رہی ہے۔ انہیں فرضی مقدمات میں پھنسا کر ان پر ظالمانہ قوانین تھوپے جا رہے ہیں۔ غیرعدالتی قتل، غیرقانونی گرفتاریوں اور بے قصوروں کو ہراساں کرنے کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔

ضروری ہے کہ کانپور اور یوپی کے دیگر حصوں میں ہوئے کچھ مجرموں کے غیرعدالتی قتل پر سپریم کورٹ کی نگرانی میں عدالتی جانچ کرائی جائے۔

یوپی پولیس سماجی کارکنان کو دنگائی اور فسادی کا نام دے کر ان کی دھر پکڑ کر رہی ہے۔ پولیس کے ظلم و زیادتی کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لئے لوگوں کی حقیقی آوازوں کو ملک مخالف قرار دیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں حکومتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) کے طالب علم کارکن شرجیل عثمانی کو فرضی مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ پاپولر فرنٹ کی ریاستی ایڈہاک کمیٹی کے ممبر مفتی محمد شہزاد کو اس لئے گرفتار کیا گیا کیونکہ انہوں نے ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی، جس میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ اترپردیش میں 19/دسمبر 2019 کو اور اس کے بعد سی اے اے/این آر سی مخالف مظاہروں کے دوران پولیس کے تشدد پر سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی موجودہ یا سابق جج کی قیادت میں غیرجانبدارانہ عدالتی تفتیش کرائی جائے۔ڈاکٹر کفیل کی گرفتاری انتقامی سیاست کا کھلا ثبوت ہے،

جس کے تحت بی جے پی حکومت ان کی زندگی کو تباہ وبرباد کرنے کے لئے ہر وسیلہ اختیار کر رہی ہے۔ ایسے متعدد کارکنان کو فرضی مقدمات میں قید میں ڈالا اور انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان کارکنان کے خلاف(انسداد) غیرقانونی سرگرمیاں ایکٹ (یواے پی اے) اور قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) جیسے کالے قوانین استعمال کئے جا رہے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کارکنان کے خلاف اتر پردیش (انسداد) گینگسٹر و سماج مخالف سرگرمیاں ایکٹ، 1986 (مختصراً، گینگسٹر ایکٹ) اور یوپی  انسداد غنڈہ ایکٹ، 1970 (مختصراً، غنڈہ ایکٹ) جیسے قانون استعمال کئے جاتے ہیں، جنہوں نے ملک میں جینے کے اپنے حق کے لئے جمہوری طریقے سے لڑائی لڑی، جبکہ اصل غنڈے، گینگسٹر اور سماج مخالف عناصر ریاست بھر میں آزاد گھوم رہے ہیں اور انہیں عام معافی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ان سماجی کارکنان پر ایک کے بعد ایک فرضی مقدمے لگائے جا رہے ہیں، جو پہلے سے ہی قید میں ہیں یا جو ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔

یوپی انتظامیہ نے اب سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران ہوئے مبینہ توڑ پھوڑ کا ہرجانہ وصول کرنے کے بہانے لوگوں کی املاک قرق کرنے کی ایک اور نئی ظالمانہ کاروائی شروع کر دی ہے۔ کسی پر بھی فسادات میں شامل ہونے کا الزام لگا کر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور اس کی املاک کو قرق کیا جا سکتا ہے۔ یہ لوگوں کو جیلوں میں ڈال کرنہ صرف ان کی زندگی برباد کرنے بلکہ ان کی املاک سے انہیں بے دخل کرکے ان کے مستقبل کو ہمیشہ کے لئے تباہ کرنے کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ ریاستی حکومت ایسی غیرجمہوری و پرتشدد کاروائیوں کے ذریعہ ریاست میں ہر قسم کی مخالفت کو نیست ونابود کر دینا چاہتی ہے۔ مزید بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ریاست کی سرکردہ اپوزیشن پارٹیاں ان مدّوں پر خاموش ہیں اور اس طرح وہ ریاستی حکومت کو ان کاروائیوں کو انجام دینے کا کھلا راستہ دے رہی ہیں۔

یہ مشترکہ پریس ملاقات یوپی حکومت کے ان آمرانہ اقدامات کی سخت مذمت کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فرقہ وارانہ سیاست کو مسترد کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ آگے آئیں اور اترپردیش میں حقوق انسانی کی ان پامالیوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرائیں۔ ساتھ ہی آئینی اقدار پر یقین رکھنے والے ملک کے ہر شہری اور شہری سماج کو پرامن طریقے سے اس کے خلاف قدم اٹھانا چاہئے۔ ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ اترپردیش میں ریاستی جبر کے متاثرین کو ہر قسم کی قانونی و جمہوری مدد فراہم کرنا ملک کی جمہوری طاقتوں کا فریضہ ہے۔

شرکاء:
1۔ روی نائر، ایس اے ایچ آر ڈی سی، دہلی
2۔ عبیداللہ خان اعظمی، سابق ایم پی، اتر پردیش،
3۔ سیما آزاد، ایڈیٹر، دستک، الٰہ آباد،
4۔ ایڈوکیٹ شرف الدین احمد، نائب صدر، ایس ڈی پی آئی
5۔ ایڈوکیٹ کے کے رائے، الٰہ آباد ہائی کورٹ
6۔ ای ایم عبدالرحمن، نائب چیئرمین، پاپولر فرنٹ آف انڈیا
7۔ راجیو یادو، جنرل سکریٹری، رہائی منچ، اترپردیش.
8۔ ایڈوکیٹ اے محمد یوسف، قومی سکریٹری، این سی ایچ آر او

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad