تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 5 جنوری، 2021

وکیلوں کے دفتروں پر پولیس چھاپوں کے تعلق سے سپریم کورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائے۔ آل انڈیا لائرس کونسل

نئی دہلی۔ آل انڈیا لائرس کونسل نے ملک کے مختلف مقامات پر وکلاء برادری کے ارکان پر پولیس کارروائیوں اور چھاپے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی سپریم کورٹ کے ایک سٹنگ جج سے تحقیق کرانے کیلئے ایک انکوائری کمیشن قائم کیا جائے۔ پریس کلب آف انڈیا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے آئی ایل سی کے ذمہ داروں نے مختلف بار کونسلوں جیسے بار کونسل آف انڈیا، سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن، الہ آباد ہائی کورٹ بار اسو سی ایشن، دہلی ہائی کورٹ ویمن لائرز فورم اور دیگر وکلاء تنظیموں کی طرف سے پولیس ایکشن کی مذمت کی اور متاثر وکلاء سے اظہار یکجہتی کی۔ لائرس کونسل نے اتر پردیش کے ایٹا میں ضلعی عدالت کے ایک وکیل پر پولیس حملے کی مذمت کی۔ 



واضح رہے کہ یو پی پولیس نے اس وکیل کے مکان کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی اور وکیل (جو ایڈوکیٹ کے لباس میں تھا) کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور ان کی بے رحمی سے پٹائی کی گئی۔ اس واقعے کی ویڈیو حال ہی میں وائرل ہوئی تھی۔ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ دہلی کے نامور وکیل محمود پراچہ کے دفتر پر چھاپہ ماراگیا اور ان کے ای میل پتے پر موجود دستاویزات اور آؤٹ باکس کا ڈیٹا غیر قانونی طور پر اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ نیز اڈوکیٹ جاوید علی کے دفتر پر چھاپوں نے دہلی پولیس کے خلاف سخت غم و غصہ اور مذمت کا سلسلہ شروع ہوا۔ پولیس کی تازہ کارروائی نے وکلاء کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کو بھی مشتعل کردیا ہے۔ 


اے آئی ایل سی نے ان معاملات میں پولیس کے قابل مذمت طرز عمل پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے ظالمانہ طرز عمل کیلئے جو متعلقہ اور قانون کے مینڈیٹ کی خلاف ورزی کرتی ہے ان سب کے خلاف سنجیدہ اور عملی کارروائی کرے۔ کونسل کے سکریٹری جنرل شرف الدین احمد نے کہا کہ ہندوستان کی پولیس کو مغربی ملکوں کی پولیس سے سبق لینا چاہئے اور کسی سیاسی دباؤ کے بغیر دستور اور قانون کے تحت کام کرنا چاہئے۔


انہوں نے وکیلوں کے دفاتر پر چھاپے کے واقعات کی تحقیقات پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا اور یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ نے پولیس فورس کو سیاسی اثرات سے پاک کرنے کیلئے جو ہدایات جاری کی ہیں اس پر فوری عمل کیا جائے۔ ممبئی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس کولسے پاٹل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اڈوکیٹ محمود پراچہ نے دہلی فسادات میں ملوث 25سنگھیوں کو سزادلانے میں کامیابی حاصل کی اس کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ جسٹس پاٹل نے کہا کہ ملک میں 18بم دھماکے سنگھ سے وابستہ لوگوں نے کئے اور بم بنانے سے لیکر بم دھماکے کرنے کے تمام واقعات ریکارڈ پر ہیں لیکن تمام مجرم آج ضمانت پر آزاد گھوم رہے ہیں۔ 


پریس کانفرنس کے توسط سے آل انڈیا لائرس کونسل نے حکومت سے ایک نئے ماڈل پولیس قانون کا مسودہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا جو پولیس ایکٹ 1861کی جگہ لے۔ اے آئی ایل سی، ستمبر 2006میں سپریم کورٹ کے ذریعہ پولیس فورس میں اصلاحات کے تعلق سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو جاری کردہ مختلف ہدایات پر عمل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad